۹۲؍ سالہ مسلم شخص کی پیرول پر رہائی میں تاخیر


جمعیۃ علماء نے حقوق انسانی کمیشن کو شکایت کی
ممبئی ۳۱؍جولائی:
۲۵؍ سالوں سے جیل میں مقید ۹۲؍ سالہ قیدی کی علاج و معالجہ کے لیئے پیرول پر رہائی میں ہورہی تاخیر پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور حقوق انسانی کمیشن کو بذریعہ ای میل خط لکھ کر جئے پور جیل حکام کے اس غیر انسانی رویہ کی شکایت کی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق عمر قید کی سزا کاٹ رہے ڈاکٹر حبیب جن کی عمر ۹۲؍ سال سے تجاوز کرگئی ہے شدید بیماریوں میں مبتلا ہیں اور چلنے پھرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے وہ بستر مرگ پر پہنچ چکے ہیں ۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم کا علاج جئے پور کے سوائی مان سنگھ اسپتال میں کرائے جانے کی بجائے جیل حکام جیل کے مقامی ڈاکٹروں سے ان کا علاج کرارہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت مزید خراب ہوتے جارہی ہے ۔
جمعیۃ علماء نے جئے پور ہائی کورٹ میں ملزم کی پیرول پر فوراً رہائی کے لیئے پٹیشن داخل کررکھی لیکن اس پر جیل حکام کی غفلت کی وجہ سے سنوائی عمل میں نہیں آرہی ہے ۔ گذشتہ کل معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں جیل حکام نے اپنی رپورٹ پیش نہیں کی جس کی وجہ سے معاملے کی سماعت ۲؍اگست تک ملتوی کردی گئی لیکن جمعیۃ علما ء کے وکلاء نسانت ویاس اور مجاہد احمد کی درخواست پر ہائی کورٹ نے ملزم کو علاج کے لیئے ایس ایم ایس اسپتال بھیجنے کے احکامات جاری کیئے لیکن تادم تحریر جیل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک ملزم کو ایس ایم ایس اسپتال نہیں لے جایا گیا ہے جس سے ملزم کے اہل خانہ تشویش میں مبتلا ہیں۔
اس تعلق سے گلزار اعظمی نے کہا کہ معاملے کی اگلی سماعت تک اگر ملزم کو جیل سے باہر جئے پور کے کسی اچھے دواخانہ میں علاج کے لیئے نہیں لے جایا گیا تو جمعیۃ علماء سینئر وکیل کی خدمت حاصل کرکے ملزم کی جلد از جلد پیرول پر رہائی کا مطالبہ کریگی کیونکہ ڈاکٹر حبیب خان کی حالت بہت زیادہ نازک بنی ہوئی ہے اور انہیں فوراً کسی اچھے معالج کی ضرورت ہے جو جئے پور جیل میں مہیا نہیں ہے ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ڈاکٹر حبیب خان کی پیرول پر رہائی کی کوششیں گذشتہ کئی ماہ سے کی جارہی ہے لیکن جئے پور جیل حکام کی سست روی کی وجہ سے ابھی تک ملزم کو پیرول پر رہائی نہیں مل سکی ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ماضی میں ڈاکٹر حبیب خان کو پیرول پر رہا نہیں کیئے جانے کی وجہ جیل حکام نے یہ بتائی تھی کہ ملزم کو اگر رہا کیا گیا تو نسق امن میں خلل پیدا ہوگا اور ملزم فرار ہوجا ئے گا جب کہ حقیقت میں ملزم کی حالت ایسی ہیکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے اور اس کی بینائی بھی کمزور ہوچکی لیکن جیل حکام مسلسل جھوٹ کا سہارا لیکر ملزم کی رہائی میں روڑے اٹکا رہے ہیں جس کا حقوق انسانی کمیشن کو سخت نوٹس لینا چاہئے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اس مقدمہ میں ماخوذ ایک ملزم اشفاق احمدکو سپریم کورٹ نے ۲۱؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کیا تھا جس کے بعد دیگرملزمین کی عرضداشت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں داخل کی گئیں ہیں جو زیر سماعت ہیں ۔
واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے