یونیورسٹیوں کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت

عبدالسلام ندوی
نظام تعلیم اور علم وسائنس کی ترقی میں یونیورسٹیوں کا اہم کردار ہوتا ہے،آزادی کی سات دہائیوں میں یونیورسٹیوں کی تعداد اور معیار بڑھانے میں ہندوستان کو قابل ذکر کامیابی ملی ہے،لیکن گلوبل سطح پر ہماری حالت بہت قابل اطمینان نہیں ہے۔دی ٹائمس ہائر ایجوکیشن کے ذریعہ جاری کردہ فہرست میں بہترین۲۵۰ یونیورسٹیوں میں کسی بھی ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ کو جگہ نہیں مل سکی ہے،حالانکہ مختلف معیارات کے بیس پر تیار کی جانے والی اس فہرست کا ایک قابل اطمینان پہلو یہ ہے کہ ۲۵۱ سے ۵۰۰ اوپر کی پوزیشن میں ۴۹ ہندوستانی ہیں ،گزشتہ سال یہ تعداد ۴۲ تھی لیکن اس میں ایک مایوس کن پہلو یہ بھی ہے کہ یا تو فہرست میں ان انسٹی ٹیوٹوں کی حالت گزشتہ سال کی طرح ہے یا ان میں تنزلی آئی ہے،دنیاکی سب سے تیز رفتاری سے بڑھنے والی چند معیشتوں میں شمار ہمارے ملک کی اکثریت آبادی جوان ہے،جسے اعلی تعلیم ،ریسرچ اور تحقیق کیلئے مناسب موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے،اسکے لئے نظام تعلیم خصوصا اعلی تعلیم کی بہتری پر بہت توجہ دی جانی چاہئے ،اس تناظر میں ’’دی ٹائمس‘‘ کی گلوبل فہرست کے ادارتی ڈائریکٹر ’’ فیل بیٹی‘‘ کا بیان غور طلب ہے،انکا کہنا ہے کہ انوویشن اور لگن سے پورے ہندوستان میں قائدانہ کردار ادا کرنے ،عالمی لیاقتوں کو متوجہ کرنے اور بین الاقوامی نظریہ کو مضبوط بنانے کی مسلسل کاوشوں کی اشد ضرورت ہے،اس سال کی فہرست میں چین جاپان اور سنگا پور کے تعلیمی اداروں کا مظاہرہ شاندار رہاہے،اوپر کی ۵۰ یونیورسٹیوں میں ان ملکوں کے چھ ادارے شامل ہیں ،ایشیا میں جہاں چین سب سے آگے چل رہاہے،وہیں جاپان نے عمدہ اداروں کی کل تعداد کے معاملہ میں برطانیہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے،تعلیم کے میدان میں مشرقی ایشیا کے ان ممالک کی کامیابی کی بنیادی وجہ اعلی تعلیم میں بڑھتی سرمایہ کاری اور خود مختاری ہے،یہ مثال ہندوستان کی اعلی تعلیمی پالیسی کیلئے اہم فارمولہ ہوسکتی ہے،مرکزی اور صوبائی حکومتیں وقتا فوقتا اعلی تعلیم پر خرچ بڑھانے اور انکی ترقی کے وعدے اور دعوے تو کرتی رہی ہیں ،لیکن پالیسی کی سطح پر اور بجٹ میں تخصیص کے معاملہ میں طویل وقت سے موثر قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں ،جمیع طلبہ کی تعداد میں محض تین فیصدی کی شراکت رکھنے والے تکنیک ،انجنیرنگ اور مینیجمنٹ کے ۹۷ قومی اداروں کو سرکاری سبسڈی کا نصف سے زیادہ حصہ ملتا ہے،جبکہ ساڑھے آٹھ سو سے زیادہ اداروں کو بیلنس فنڈ سے مطمئن ہوناپڑتاہے،جہاں ۹۷ فیصدی طلبہ زیر تعلیم ہیں ،اس عدم توازن کا فوری حل کیا جانا چاہئے ،اکثر ہماری یونیورسٹیاں تعلیم سے دیگر وجوہات کی بنا پر بحث میں رہتی ہیں ،تعلیم میں حد سے زیادہ سیاست اور نظریاتی مداخلت کا بڑھتا رجحان بھی بہت نقصاندہ ہے۔