یوم جمہوریہ منانا ہمارا حق


اس ملک نے ہمیں جینے کا سلیقہ دیا. ہنر دئیے زندگی  دی. ہم یہیں پر پیدا ہوئے اور یہیں پر دفن ہوں گے وہ الگ بات ہے کہ اسی ملک میں ہمیں کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر ان سب باتوں سے ہٹ کر اپنے ملک ہندوستان کے لئے ہمیشہ قربانی کا جذبہ رکھنا چاہئے علم وہنر کے میدان میں جتنا ہوسکے اتنا حصہ لینا چاہئیے حالانکہ تعلیمی میدان میں ہندوستان نے بے حد ترقی کی ہے بڑے بڑے ریاضی داں، سائنس داں ہندوستانی رہے ہمیں بھی یہ کوشش کرنی چاہیے کہ تعلیم کے میدان میں خوب نام کمایا جائے تاکہ اس ملک کو سونے کی چڑیا کہلانے کا مرتبہ بھی حاصل ہو،کیونکہ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر تمام مذاہب کے لوگ مل جل کررہتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر تہوار مناتے ہیں اپنی مرضی کے مطابق اپنا مستقبل سنوارنے اور اس کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے یوم جمہوریہ مناتے وقت ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ غلامی کی زنجیروں سے آزادی دلانے میں کن کن رہنماؤں نے صعوبتیں برداشت کیں ذہنی جسمانی اذیت اٹھانے کے بعد انہوں نے آزادی کی تحریک چھیڑی اور انگریزوں کو اس ملک سے بھگانے پر مجبور کیا، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، گاندھی جی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، اور ایسے کئی لیڈران ہیں جن فہرست بہت ہی لمبی ہے جن کے بارے میں آپ نے یقیناً تاریخ کی کتابوں میں پڑھے ہوں گے، جنہوں نے بڑی جرات مندی اور بہادری سے انگریزوں کے بے پناہ ظلم و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کیاہے تکلیفیں جھیلیں اور ہمیں آزادی دلائی اور انہیں رہنماؤں کی قربانیوں کے اعتراف میں ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں اور کیوں نہ منائیں یہ ہمارا قومی حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ 26جنوری صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ جہاں جہاں ہندوستانی شہری رہتے ایک باوقار تقریب منعقد کیا جاتا ہے اپنی آبادی کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کا سب سے بڑاجمہوری ملک ہے
ایڈیٹر نئی روشنی برینیاں سنت کبیر نگر یوپی salmanahmed2771991@gmail.com