ہے یاد مجھے نکتۂ" سلمانِ خوش آہنگ "

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
اخبارات کی سرخیوں میں مولانا سلمان حسینی ندوی کا نام مسلسل آتا رہا ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے حوالہ سے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔مجھے اب تک کوئی تحریر ایسی نظر نہیں آئی جس میں متوازن موقف اختیار کیا گیا ہو ۔مولانا سلمان حسینی کا کہنا ہے کہ بابر ی مسجد ہاتھ سے نکل چکی لیکن سمجھوتہ اس پر ہوسکتا ہے کہ اس کی جگہ پرکسی دوسری جگہ اتنی وسیع زمین مسلمانوں کو دی جائے جہاں وہ وسیع اور خوبصورت مسجد بھی بنا سکیں اور ایک اسلامی یونیورسیٹی کی تعمیر کرسکیں اور یہ معاہدہ ہو جائے کہ آئندہ کسی اور مسجد پر ناجائز قبضہ نہیں کیا جائے گا ۔
مولانا سلمان حسینی نے آج جو موقف اختیار کیا ہے بعینہ یہی موقف بابری مسجد کے سلسلہ میں پہلے مولانا وحید الدین خان اور جناب سید حامد مرحوم وائس چانسلر مسلم یونیورسیٹی بھی اختیار کرچکے ہیں پہلے بھی مسلم قیادت نے اور قوم نے ان دونوں حضرات کے موقف کو قبول نہیں کیا تھا، آچ بھی قوم اس موقف کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ مولانا سلمان حسینی ندوی کا کہنا ہے کہ شریعت میں اس کی گنجائش ہے کہ کسی مجبوری یا شدید ضرورت کے تحت مسجد منہدم کردی جائے ، لوگ جانتے ہیں کہ اسی گنجائش کا فائدہ اٹھا کر سعودی عرب میں ضرورت کے پیش آنے پر مسجدیں منہدم کی جاتی ہیں ۔ علماکے طبقہ میں سے کسی عالم کو یہ کہنے کی ہمت نہیں ہے کہ مولانا سلمان ندوی غلط کہتے ہیں اور کسی فقہی مسلک میں کسی بھی صورت میں مسجد کو ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ موقف کہ مسجد قیامت تک مسجد رہتی ہے ایک فقہی مسلک ہوسکتا ہے لیکن اس سے شریعت کے تمام مسالک کی ترجمانی نہیں ہوتی ہے ۔لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ کا موقف بھی درست ہے کہ بہر حال یہ ایک اہم فقہی مسلک بھی ہے اور پھر یہ کہ مسجد سے دست برداری اختیار کی جائے ایک بت خانہ بنانے کے لئے جہاں بتوں کی عبادت ہو، کوئی مرد مؤمن اسے آسانی سے برداشت نہیں کرسکتا ہے پھر یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے پاس تین سو مسجدوں کی فہرست ہے اور وہ ان مسجدوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں آج بابری مسجد کا مطالبہ ہے کل دوسری مسجد کا مطالبہ ہوگااور معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی ۔
مولانا سلمان ندوی کی غلطی یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی ایسا اقدام کیا ہے جو خلاف شریعت ہے ، غلطی یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے بابری مسجد کے سلسلہ میں ایک موقف اختیار کیا ہے اورسپریم کورٹ میں وہ بابری مسجد کے قضیہ میں ایک فریق ہے ۔ اب بورڈ کے موقف کے خلاف کوئی موقف اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بورڈ کی ممبری سے پہلے استعفادیا جائے یا اپنا اختلاف صرف بورڈ کے اندر پیش کیا جائے تاکہ اس پر بحث ہو ۔ بورڈ سے باہر بورڈ کے مخالف موقف اختیار کرنا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے ۔ مولانا سلمان ندوی نے بورڈ کی کارکردگی پر کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں اس سے پہلے کہ یہ معاملہ موضوع گفتگو بن جائے بورڈ کے ذمہ داروں کو ان کا جائزہ لینا چاہئے۔
بابری مسجد کے سلسلہ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور متشدد علمانے پہلے بھی غلط موقف اختیار کیا تھا، جس کے نتیجہ میں بابری مسجد بھی ختم ہوئی اور ہزاروں مسلمانوں کے خون سے زمین لالہ زار ہوگئی ۔ بابری مسجد کا مسئلہ ۱۹۹۰ کے آس پاس کوہ آتش فشاں بن گیا تھا اور اب بھی ہم کوہِ آتش فشاں کے دہانہ پر ہیں ، اس کے سلسہ میں مولانا علی میاں اور مولانا عبد الکریم پاریکھ اور یونس سلیم صاحب سابق گورنربہار غیر مسلموں اور برادران وطن کے مذہبی قائدین سے مل کر مسئلہ کے حل تک پہنچ گئے تھے، مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے مسٹر چندر شیکھر کے کہنے پرمولانا علی میاں کا نام تجویز ہوا تھاجنہوں نے پورے ملک میں پیام انسانیت کی تحریک چلائی تھی، ہندو اکثریت کی نمائندگی کے لئے کانچی پورم کے شنکر آچاریہ کا نام تجویز کیا گیا تھا وی پی سنگھ نے زمین کے سلسلہ میں آرڈننس پاس کردیا تھا جسے بعد میں واپس لے لیا گیا ، آندھرا پردیش کے گورنر کرشن کانت صاحب جو بعد میں نائب صدرجمہوریہ ہوئے اور جینی مذہب کے سشیل منی او ہندووں کے سب سے بڑے گرو شنکر آچاریہ آنند سرسوتی نے حل کو منظور ی دے دی تھی اور حل یہ تھا کہ بابری مسجد اپنی جگہ پر رہے گی ، کچھ عرصہ کے بعد مورتیاں ہٹائی جائیں گی، اسے نماز کیلئے کھول دیا جائے گا مسجد کے چاروں طرف تیس فٹ کا تالاب رہے گا اور اس کے بعد ریلنگ ہو گی اور ضرورت پڑنے پر اس پر کرنٹ دوڑایا جائے گا ۔ اس کے بعد جو بابری مسجد وقف کی زمین ہو گی اس پر رام مندر تعمیر کرلیا جائے گا اور مسلمان اس پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے ۔ لیکن لکیر کے فقیر علما نے اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے اس حل پر اعتراض ہی نہیں کیا بلکہ آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ مجبورا مولانا علی میاں اور مولانا پاریکھ صاحب کو صلح کے فارمولے سے دستبردار ہوجانا پڑا،شور و غوغا کرنے والوں میں وہ جامد الفکر اور بے شعور متصلب علماتھے،جن کا کہنا تھا کہ ہم وقف کی ایک انچ زمین بھی رام مندر کے حوالہ نہیں کرسکتے ہیں اوروہ اصول فقہ کے حوالے دے رہے تھے جیسے کہ ہم بنی امیہ اور بنی عباس کے عہد میں جی رہے ہوں اور کسی دار الاسلام میں رہتے ہوں، حالانکہ دعوتی نقطہ نظر سے باہمی احترام واعتماد کی فضا پیدا کرنا ضروری تھا، اس کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کے علما فقہ الاقلیات سے متعلق اپنی رائے میں لچک رکھتے ہیں اور جو ملک دار الاسلام نہ ہو وہاں کے بعض فقہی مسائل میں دفع مضرت کے تحت نرمی اختیار کرنے کے قائل ہیں ۔آج بابری مسجد کا وجود ختم ہوچکا ہے اور آئندہ اس کی تعمیر کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اور اس کے لئے ہزاروں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔کوئی بتائے کہ آخر یہ خونِ دوعالم کس کی گردن پر ہے؟
مولانا سلمان ندوی نے کوئی کام اور کوئی اقدام خلافِ شریعت نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے بس ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے ۔ان کی غلط عادت یہ ہے کہ وہ کوئی اقدام کرنے سے پہلے ان بزرگوں سے مشورہ نہیں کرتے، جن کو وہ اپنا بڑا سمجھتے ہیں ۔ مولانا سلمان ندوی کے خاندان کی سب سے اہم شخصیت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی تھی اور یہ مولانا ابو الحسن علی ندوی اس عمر میں بھی جب دنیا ان کواپنا امام اور شیخ الاسلام مان چکی تھی، ہمیشہ کچھ بزرگوں سے مشورہ کرنے کے عادی تھے اہم معاملات پر بغیر مشورہ کے ازخود کوئی اقدام نہیں کرتے تھے مولانا سلمان حسینی ندوی بھی پہلے ان سے مشورہ کرلیتے جن کو وہ علی الاعلان اپنا بزرگ مانتے ہیں تو یہ افسوسناک صورت حال پیش نہیں آتی ۔ لیکن اس شر میں خیر کا پہلو بھی ہوسکتا ہے کاموں کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ پرسنل لا بورڈ تو صرف تحفظ شریعت کا ایک ادارہ ہے ۔ ملت کی تعلیم وتعمیر وترقی کے ہزار کام ہیں جو مرد کارداں کے منتظر ہیں۔ بقول اقبال:
ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ
دنیا نہیں مردان جفاکش کے لئے تنگ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*