ہندی گورکھپوری کی شاعری میں زندگی کے آثار ہیں:وسیم بریلوی

انجمن یادگار ہندی گورکھپوری کی جانب سے مختلف ادبی شخصیات کے ہاتھوں ’’کلیاتِ ہندی‘ ‘کا اجرا
گورکھپور16اکتوبر(پریس ریلیز) لٹریری فیسٹیول کے دوسرے دن سینٹ اینڈریوز کالج کے کانفرنس ہال میں انجمن یادگار ہندی گورکھپوری کی جانب سے ’کلیات ہندی‘ کی رسم اجراعہد حاضر کے معتبر غزل گو اور شاعر پروفیسر وسیم بریلوی اور مشرقی اتر پردیش کے معروف ادب نواز شخصیت اور معالج ڈاکٹر عزیز احمد کے ہاتھوں ہوا۔اس موقع پر پروفیسر وسیم بریلوی نے ہندی گورکھپوری کو کہنہ مشق اور اپنے عہد کا صف اول کا شاعر بتایا جس نے اپنی شاعری کے ذریعہ ہزارہا مایوس دلوں میں انقلاب کی لہر پیدا کی اور بطور انقلابی شاعر پورے ملک میں اپنی شناخت قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندی صاحب کی شاعری کا تعلق داخلیت سے ہے۔ وہ انقلابی ہونے کی نمائش نہیں کرتے بلکہ اپنے تجربات، جذبات اور احساسات کو اشعار کے قالب میں ڈھالتے ہیں جس سے اس میں آفاقیت کا وصف پیدا ہوجاتا ہے اور دیرتک تاثیر قائم رہتی ہے۔ ڈاکٹر عزیز نے کہا کہ ہندی صاحب عام زندگی اور عام گفتگو میں جتنے نرم دل اور نرم کلام تھے ان کی شاعری میں اسی قدر آگ اور تپش ہے۔ وہ اردو زبان اور ہندوستان کے سچے عاشق تھے۔ وہ عہد کے سیاسی لیڈران کی بصیرت کی کمی پر کھل کر اظہار خیال کرتے تھے، انہوں نے شعر کو شمشیر بنا لیا اس پر باقاعدہ تحقیق کا کام ہونا چاہئے۔ معروف شاعر اور ناظم مشاعر ہ ڈاکٹر کلیم قیصر نے کہا کہ ایک مختصر سی مدت میں ہندی گورکھپوری کی ادبی زندگی کا احاطہ نہیں ہوسکتا، اس کے لئے باقاعدہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور ان کی شاعری مثبت قدروں پر قائم تھی۔در اصل ہندی گورکھپوری کی اس کلیات کا اجرا ہونا تھا اور گورکھپور لٹریری فیسٹیول میں گورکھپور کے اردو ادبی حلقے کی نمائندگی نہیں ہورہی تھی، چنانچہ انجمن بیادگار ہندی گورکھپوری نے اپنے اس پروگرام کو لٹریری فیسٹیول سے منسلک کردیا اور فیسٹیول کے منتظمین نے بھی بڑا دل دکھایا، اس سے ایک بڑی کمی پوری ہوئی اور پروگرام میں چار چاند لگ گئے۔اس موقع پر ہندی گورکھپوری کی صاحبزادی اور کتاب کی مرتبہ ثمینہ ادیب ضیا نے کہا کہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ اپنے والد کے بکھرے ہوئے تمام کلام کو یکجا کرکے شائع کرادوں ،مگر ملازمت کی مصروفیت اور امور خانہ داری کی ذمہ داریوں نے اس کام میں تاخیر پیدا کردی۔ ملازمت سے سبکدوش ہوئی تو ڈاکٹر سلیم احمد نے میرا حوصلہ بڑھایا اور ہر قدم پر میری مدد کی جس کی وجہ سے یہ کلیات آج آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی اور کلیات کی اشاعت میں مدد کی۔