ہندوستان دنیا کے لیے اقتصادی امید:وینکیانائیڈو

نئی دہلی:26؍فروری(قندیل نیوز)
نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ ہندوستان دنیا کی اقتصادی امید ہے اور تصویر پیچیدہ بھی ہے کیونکہ ہماری معیشت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ۔ وہ آج یہاں 300سے زیادہ لوگوں کو وزیراعظم شرم ایوارڈ عطا کرنے کے بعدحاضرین سے خطاب کر رہے تھے ۔ محنت و روزگار کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)سنتوش کمار گنگواراوردیگرمعززین اس موقع پرموجودتھے ۔شرم ایوارڈ پانے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتصادی پہیے کو رواں دواں رکھنے کے لیے لاکھوں افراد جو بیس گھنٹے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہاہے کہ یہ حقیقی جی ڈی پی فیسٹول ہے۔ اس سے میری مرادگروتھ ڈراکیونگ پاوریعنی ترقی کورفتار دینے والی قوت ہے جن میں سے گریٹ ڈیڈ یکٹیڈ پر سنزیعنی خود کو سب سے زیادہ وقف کر دینے والے افرادکو آج نوازاجا رہا ہے اور یہ دونوں جی ڈی پی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ یعنی مجموعی گھریلو پیداوار کیلئے انتہائی اہم ہیں ۔ یہ وہ جی ڈی پی ہے جس سے ہم سب کسی نہ کسی شکل میں جڑے ہوئے ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اپنی افرادی قوت کی پیداواریت کو مزید بہتر بنانا اصل چیلنج ہے۔ اگر ورکر فی گھنٹہ زیادہ پیداوار کریں تو اس سے اور زیادہ آؤٹ پٹ اور آمدنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکتیوہ قوت ہے جو حیاتیاتی اور میکنیکل سمیت سبھی پروسیس کو حرکت دیتی ہے ۔ ہم آج یہاں شرمشکتی کی اہمیت کو اجاگر کر نے اور اس کا اعتراف کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔ شرم شکتی وہ قوت ہے جو معاشی نمو اور ترقی کیلئے انتہائی اہم متعدد پیداواری پروسیس(طریقہ کار) کو طاقت دیتی ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ محنت کشوں کی تعلیمی سطح کو بہتر بنانا، معیاری تربیت تک رسائی کو بہتر بنانا انتہائی اہم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کیلئے مختلف حصص داروں کے درمیان بہتر تال میل ، ہنر مندی کے فروغ کے نظام کو مضبوط بنانے ، نجی شعبے کی حصہ داری کومضبوط کرنے ، مالی وسائل میں اضافہ کرنے اور منظم اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ یہ خیال عام ہے کہ موجودہ بہتر قوانین مسئلے کے حل کیلئے ان قوانین کی جانب پڑتال نہیں کی جانی چاہیے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے حکومت اور نجی شعبے سے کہا کہ وہ ایک معقول فضا کی تیاری کو یقینی بنا کر افرادی قوت کی فکر مندیوں ، ضرورتوں اور آرزووں کی تکمیل کریں ۔ انہوں نے مزیدکہاہے کہ ہماری وسیع افراد قوت ہمارے ملک کی ترقی میں زبردست تعاون دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ضابطوں کے ساتھ نہیں جی سکتے جو روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہوں اور وہ ضوابط جو کسی کمپنی کوچلانے کی راہ میں دشواریاں پیدا کریں ، ان پر نظر ثانی کی جانی چاہئے ۔