ہمیں صرف جسٹس لویاکیس سے مطلب، دوسرے معاملات سے نہیں

سہراب الدین فرضی انکاؤنٹرکی جانچ کی خامیوں کے درمیان چیف جسٹس دیپک مشراکی وضاحت
نئی دہلی :3؍فروری(قندیل نیوز)
سپریم کورٹ میں سی بی آئی جج لویا کی موت کے معاملے میں سپریم کورٹ میں بحث جاری ہے۔جمعرات کو بحث کے دوران دونوں فریقوں کے وکلاء کے درمیان تیز بحث دیکھنے کوملی۔واضح ہوکہ چیف جسٹس پرسپریم کورٹ کے چارسنیئرججوں کے ذریعہ سوالات اٹھانے کے بعدان کی معتبریت پرسوال کھڑے کیے جارہے ہیں۔ممبئی لایرس ایسوسی ایشن کا موقف رکھتے ہوئے سینئر وکیل دشینت دوے نے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے داخل دستاویزات کی کئی خامیوں کو عدالت کے سامنے رکھا لیکن سماعت ختم ہوتے ہوتے چیف جسٹس دیپک مشرا نے ایک صاف پیغام بھی دیا ہے۔جسٹس دیپک مشرانے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہم صرف جج کی موت کامعاملہ سن رہے ہیں اور دوسرے معاملات (سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر)پر پر کوئی بحث نہیں کی جائے۔چیف جسٹس آف انڈیاکی طرف سے یہ وارننگ تب دی گئی جب وکیل دوے نے سہراب الدین کے مقدمہ میں ہوئی سماعت میں خامیوں کا ذکر کیا۔دوے نے عدالت کو بتایا کہ کیسے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود جج نے معاملے کو ٹرانسفرکردیا۔انہوں نے کہا کہ جج لویا کی موت کے بعدجس جج نے اس مقدمہ کی سماعت کی، انہوں اس معاملے میں بی جے پی کے صدر امت شاہ کو راحت دے دی۔بتا دیں کہ سماجی کارکن تحسین پوناوالا اور ممبئی کے ایک صحافی کی جانب سے جج لویا کی موت کی آزادانہ تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے،بعد میں بمبئی ہائی کورٹ میں زیر التواء دو درخواستیں بھی سپریم کورٹ کو دی گئی تھیں۔سینئر وکیل دوے نے اس معاملے کی بہت سی کڑیوں کوجوڑتے ہوئے کہا کہ کس طرح خاندان سے واقف ہونے کے باوجود ساتھی ججوں نے جج لویا کی موت کے بعد ان کی بیوی تک کو مطلع تک نہیں کیا۔سینئر وکیل دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ جج لویا کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں کسی اچھے ہسپتال میں لے جانے کی بجائے ایک چھوٹے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ای سی جی تک کی سہولت نہیں تھی۔دوے نے کہا کہ لاش کو ممبئی میں خاندان کے پاس لے جانے کے بجائے لاش کو لاتور بھیجا گیا تھا اورلاش کو کسی ایسے شخص نے وصول کیا جو اس کا رشتہ دارہونے کا دعویٰ کررہاتھا۔ سپریم کورٹ میں وکیل دوے کے دلائل پرسماعت کررہے جسٹس چندڑچوڑ نے کہا ہے کہ کبھی کبھی ایسے مشکل وقت میں کیا صحیح اور کیا غلط ہے،یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے،ایڈوکیٹ دوے نے جسٹس چندرچوڑ کے تبصرے پر کہا کہ صرف ججوں کا برتاؤنہیں بلکہ دیگر حالات بھی خرابیوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں،مہاراشٹر حکومت کا موقف رکھ رہے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ جج لویا کی بیوی کو ایک ساتھی جج موڈک نے موت کے بارے میں بتایا تھا۔اس پر دشینت دوے نے موڈک کے بیان کاہی حوالہ دیتے ہوئے ان کی دلیل کوغلط بتادیا۔دشینت دوے نے کورٹ میں سی جے آئی کی صدارت والی 3 رکنی بنچ سے جج لویا کے خاندان کو عدالت میں حاضر کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ ان پر ڈالے جا رہے دباؤ کی جانچ کی جا سکے،مقدمہ کی اگلی سماعت 5فروری کو ہوگی۔