ہجومی تشدد ایک خطرہ!

از: مفتی صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات
موبائل نمبر 8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

آئے دن ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں بی جی پی کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد مسلسل جرائم کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہاہے نفرت پھیلتی جارہی ہے اور ظلم وتشدد قتل وغارت گیری اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے ہندوستان معاشی اعتبار سے 30 سال پیچھے جاچکا ہے اس جمھوری ملک میں اب جمھوریت صرف برائے نام ہی باقی رہ گئ کیونکہ ہر کام جمھوریت کے خلاف ہورہا ہے آئین صرف مظلموں اور اقلیتوں پر لاگو کر نے کے لیے رہ گئے ظالموں کے لیے کوئ آئین نہیں اور دہشت گرد ملک بھر میں دہشت گردی پھیلاتے پھر رہے ہیں جنمیں سے اکثر کا تعلق سنگھ بجرنگ دل اور آرایس ایس سے ہے یہ سارے مل کر اقلیتوں یعنی مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن نہ انکے خلاف کوئ ایکشن لیا جاتا ہے نہ ہی گرفتاری ہوتی ہے اور نہ ہی انکے خلاف کوئ قانون بنایا جارہا ہے اسکے بر خلاف دوسری طرف مسلم نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ وبرباد کرنے کے لیے بے جا الزامات لگا کر جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے حالانکہ جب تک اصل مجرم کو پکڑ کر سزائیں نہ دی جائے ظلم بڑھتا رہے گا اور ملک میں کبھی بھی امن وامان قائم نہیں ہوسکتا ماب لنچنگ یعنی ہجومی تشدد کے ذریعے اقلیتوں کوظلم وتشدد کا نشانہ بناکر کفریہ نعرے لگوائے جاتے اوراخیر میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے یہ پہلا ملک ہے جہاں دہشت گرد ایسے واردات کی ویڈیوز بناکر یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہیں لیکن حکومت انکے خلاف کوئ کارروائ نہیں کرتی ہےایسا لگتاہے کہ حکومت کی خاموشی رضامندی کا اشارہ ہو.
ملک کے آئین کی دفعہ نمبر 25 کے مطابق "ہر شہری کو مذہب کی آزادی کاحق حاصل ہے نیز اس دفعہ میں یہ بات بھی ہے کہ مذہبی چیزوں میں حکومت یا کوئ شہری کسی بھی طریقے سے دخل اندازی نہیں کر سکتا ہے ” آخر کیوں قانون کےخلاف کفریہ نعرہ لگانے پر مجبور کیا جارہاہے؟ آخر کیوں طلاق ثلاثہ بل کو منظور کیا گیا ؟ آخر کیوں ظالم کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے؟ کیا یہ قانون کی خلاف ورزی ا ور دہشت گردی نہیں ہے؟
یاد رکھیے! ہندوستان کی اکثر عوام امن وامان چاہتی ہے لیکن ان سنگھی آر ایس ایس کے گنڈوں نے پورے ملک کے ماحول کو خراب کردیا ہے آخر کب تک یہ چلتا رہے گا؟
بی جی پی کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے لیکر اب تک تقریبا 180 بڑے اور33 چھوٹے ہجومی حملے سامنے آچکے ہیں جنمیں سے 50 سے زائد لوگوں کو دن کے اجالے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اتنے مسلم اور دلت کا خون بہادینے کے باوجود حکومت نے کسی کو گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی اسکو روکنے کے لیے کوئ ٹھوس اقدام کیا جبکہ اسکی مذمت اقوام متحدہ سے لیکر دنیا بھر کے لوگوں نے کی اور 49 دانشوروں نے مودی کو خط لکھا پھر بھی حکومت خاموشی سے بیٹھ کر تماشا دیکھ رہی ہے اسے یہ نہیں معلوم کہ” جس مقتول کا قاتل نا معلوم ہو اسکا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے” اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو کبھی گائے کبھی داعش اور کبھی لو جھاد اور کبھی جیش محمد اور کبھی بھڑکاؤ بیان دینے کے الزام میں گرفتار کرنے کا سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے حالانکہ ہر مرتبہ دس بیس سال کے بعد انھیں ملزموں کو یہ کہ کر چھوڑناپڑتا ہے کہ ثبوت نا کافی ہونے کی بناءپر انھیں باعزت رہا کیا جارہاہے یہ ایک لمحئہ فکریہ اور شرمناک بات ہے عدالت کے لیے اور حکومت اور اسکے اراکین کے لیے کیونکہ بلا وجہ کسی بھی شخص کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کی دنیا کا کوئ بھی قانون اجازت نہیں دیتا ہے غرض مسلمانوں اور دلتوں کو ڈرا دھمکا اور دبا کر رکھنے کی طرح طرح سے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ وہ نہ انصاف کے لیے لڑسکے اور نہ ہی اپنے واجب حقوق کی وصولیابی کے لیے کھڑے ہوسکیں اور اگر خدا نخواستہ کچھ باہمت بہادر جوان اپنے حقوق کی وصولیابی اور ظالموں کے ظلم کا پردہ فاش کر کے انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو انھیں کسی الزام کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے اور ایسے صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے جو حکومت کی ناکامیوں کو سامنے لاکر انکو کٹہرے میں لاکر سوال کر تے ہیں جبکہ دوسری طرف آرایس ایس کے لوگوں کو تلوار اوربندوق کی ٹرینینگ دی جارہی ہے بی جی پی کے نیتا بھڑکاؤ بیان دیتے رہتے ہیں ایک منظم پلاننگ کے تحت ایک دہشت گردوں کی بھیڑ آتی ہے اور نہتے مسلمانوں پر دھار دار ہتھیار سے حملہ کر دیتی ہے مار مار کر کفریہ کلمات کہنے پر مجبور کرتی ہے ظلم وتشدد کی ویڈیو بناکر خوب وائرل کرتی ہے نہ ہی انھیں دہشت گرد کہا جاتا ہے اور نہ ہی انکی گرفتاری ہوتی ہے .
یہ بات ہر ایک کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ "اگر ظلم کو نہ روکا گیا تو ایک دن حکومت اور اسکے اراکین بھی اسکی زد میں آجائیں گے اور تقریبا آج ایسا ہو بھی رہا ہے کہ پولس افسر بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ رہے ہیں "
آئین کے دفعہ نمبر 19 کے مطابق” تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کا حق اور امن پسند انہ طریقے سے جمع ہو نے کاحق ہر شہری کو حاصل ہے”
لیکن افسوس صد افسوس! اس آئین کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے کیو نکہ احتجاجی مظاہرہ ہوتا ہے تو لوگوں کو بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کر لیاجاتا ہے اور ایک بل جو 2005 سے چلا آرہا ہے "حق اطلاعات ” کا اسکو محدود کرکے اسمیں ترمیم کا بل منظور کرلیا گیا ہے جسکی رو سے انفارمیشن کمشنر مرکزی حکومت پر منحصر رہے گا یعنی "حکومت کی اطلاع کے بغیر حکومت کیی کوئ بات عوام کے سامنے نہیں آسکے گی” اسکو موجودہ حکومت نے اپنی ناکامی کو چھپانے کےلیے منظورکیا ہے لیکن یہ قانون دیر پا نہیں رہ سکتا کیونکہ اس طرح کے قوانین عوام کے عدلیہ اور آئین سے اعتماد ہٹاتے ہیں کیونکہ عوام کے پاس یہ ایک ایسا ہتھیار تھا جس سے حکومت پر پوری نظر رکھی جاسکتی تھی اور حکومت کے ناپاک عزائم سے ملک کو بچایا جا سکتا تھا لیکن اب یہ طاقت قانون کی خلاف ورزی کر کے چھین لی گئ ہے جو سراسر ملک کی عوام کے ساتھ نا انصافی ہے .
مزید برآں مخصوص فرد کو دہشت گرد قرار دینے والا بل بھی منظور کر لیا گیا ہے جسکے رو سے ” صرف بندوق چلانا ہی دہشت گردی نہیں ہے بلکہ دہشت گردوں کی امداد انھیں اقتصادی تعان دینے والی ادبی اور نظریاتی توسیع و اشاعت کے ذریعے دہشت گردی کے اصولوں کی تشہیر کرنے والے کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائےگا ” گویا اس سے من مانی طور پر اقلیتوں پر جتنا چاہے مظالم ڈھایا جا سکتا ہے اور جسیا کہ آج تک اس سلسلے میں حکومت کا رویّہ دیکھا ہی جا رہا ہے کہ کس طرح بلا وجہ اپنے خلاف بولنے والوں کو دہشت گردی کا الزام لگا کر گرفتا ر کر رہی ہے انھیں یہ پتہ نہیں ہے کہ اس طرھح کے دروازے کھلنے کے بعد عوام کا اعتماد عدلیہ حکومت اور آئین سے اٹھ جائے گا اور عوام باغی ہو کر اقتدار پر قابض لوگوں پر حملہ آور ہوگی اور آپس میں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہوجائےگی جسکی وجہ حکومت کا اصلی دہشت گردوں کو گرفتار نہ کر کے من مانی طور پر دہشت گرد بنانے کا قانون لاگو کرنا ہوگا .
مسلمانوں پر اتنے سارے مظالم ڈھانے کے بعد بھی سکون نہ ملا تو اب مدارس کی تفتیش پر اتر آئے ہیں .
حالانکہ "یہ دوہرا رویّہ ملکی سلامتی اور بھائ چارہ کو باقی رکھنے کے لیے سب سے بڑا مانع بنے گا اور نتیجہ یہ ہوگا ملک تباہ وبرباد ہوجائے گا ".
اور ہجومی تشدد کا سلسلہ ختم ہونا ناممکن اسوجہ سے نظر آرہا ہے کیونکہ سالوں محنت کر کے فسطائ طاقت اور فسادیوں نے مسلمانوں کے تئیں نفرت کا زہر گھول کر نفرت بھر اماحول بنایا ہے اور حکومت کی طرف سے کوئ سخت اقدام بھی نہیں ہورہا ہے .
یادرکھیے! "جمھوریت اسی وقت مضبوط ہوسکتی جبکہ عوام کے اعتماد اوراسکی ہمہ جہت ترقی کا خیال رکھا جائے بلاکسی تفریق کے اور ظلم کی حکومت دیر تک نہیں چلتی ہے .”
لیکن افسوس صد افسوس!! کہ جس ملک کی آزادی کی خاطر مسلمانوں نے اتنی قربانیاں دی آج انھیں نظر انداز ہی نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ان پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں .
ان سب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ہر معاملہ کو نرمی اور حکمت عملی کے ساتھ محبت سے حل کرنے کی کوشش کریں اور اتحاد واتفاق کے ساتھ سخت ردِّعمل کا اظہار کرنا اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانا اب بہت ضروری ہوگیا ہے اور سپریم کورٹ بھی مظلوم کو اپنی جان بچانے کے لیے دفاعی حملے کی اجازت دیتا ہے اور شریعت کی طرف سے اجازت تو ہے ہی اسلیے دفاع کے حق کا پورا پورا استعمال کریں اور حق دفاع کو استعمال کرنے کے لیے دفاع کا طریقہ جاننا از حد ضروری ہے اسلیے شریعت پر پوری طور پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ قانون کے دائرے میں رہ کر تمام دفاعی تدابیر مثلا کراٹا بوکسنگ اور دیگر دفاعی تمام تدابیر سیکھ لیں اور ہمہ وقت اپنے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسی چیز ساتھ رکھیں جسکو ضرورت پڑنے پر استعمال کرکے اپنا بچاؤ کیا جاسکے اولاً بلاضرورت کہیں اکیلے جانے سے احتیاط کریں لیکن اگر جانا پڑہی جائے اور ظالم کے نرغے میں پھنس جائیں تو حق دفاع کا پورا پورا استعمال کریں اور مرتے دم تک ظالموں سے اپنی استطاعت کے مطابق مقابلہ کرتے رہیں کچھ نہ ہو سکے تو دانت ہی کاٹ لیں لیکن بزدلی کی موت نہ مرے بلکہ دلیری جوانمردی اور بہادی کے ساتھ مقابلہ کرتے رہیں . مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ بزدل بن کر مرے یا ہتھیار ڈال کر اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے منت سماجت کرے اور جھکے مومن کی شان یہ ہے کہ دلیری اور بہادری سے ہتھیار ڈالے بغیر ایمانی طاقت سے مقابلہ کرتے رہیں اور ظالموں کو جہنم رسید کریں
رہی بات کفریہ کلمات بولنے کی تو حالت اجبار میں شریعت نے اجازت تو دی ہے جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو لیکن بہتر یہ ھے کہ ایسے کلمات بالکل بھی زبان پر نہ لائیں کیونکہ موت وحیات عزّت اور ذلّت کا مالک صرف اللہ ہے کسی اور کی مجال نہیں ہے کہ وہ وقت سے پہلے موت دے سکے اسلیے یقین واعتماد اللہ پر رکھیں ہمت وبلند حوصلہ اور بہادری کے ساتھ جینا چاہیے اور ظالموں سے بالکل بھی نہ ڈریں کیونکہ وہ تو ڈرانا چاہتے ہیں تاکہ ڈر کر دب کر وہ اپنے من مانی سے ذہنی غلام بنا کر رکھ سکیں ہمیں کسی بھی حالت میں اسے قبول نہیں کرناہے .
ہم ملک کے وفادار ہیں ہمیں ملک سے غدّاری بھی نہیں کرنی ہے لیکن جو لوگ جمھوریت اور بھائ چاری کے قیام کی راہ میں حائل ہوں اور کسی کے ساتھ تشدد کریں انھیں چھوڑنا بھی نہیں ہے مومن آپس میں ایک دوسرے کے بھائ ہیں اسلیے جب بھی کسی بھائ پر ظلم ہو ہم خاموش تماشائ بن کر نہ بیٹھیں رہیں بلکہ جو کچھ بھی ممکن ہوسکے کریں .
اخیر میں ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد ازجلد کوئ قانون بنائے جس سے گنڈہ گردی کو روکا جاسکے اور حکومت سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری دفعہ نمبر 25 کے مطابق ملی ہوئ مذہبی آزادی اور دفعہ نمبر 19 کے مطابق ملی ہوئ احتجاجی مظاہرہ اور اظہار رائے کی آزادی کا حق ہم سے نہ چھینے اور مسلمانوں کو بلاوجہ گرفتا نہ کریں جنھیں اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان میں سےجو مجرم نہیں ہیں انھیں جلد ازجلد رہا کیا جائے. نیز عوامی کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے حق اطلاعات کی ترمیم نہ کریں اور مخصوص فرد کو دہشت گرد قرار دینے والے بل کو ختم کرے ورنہ سیاسی لوگ اسکا غلط فائدہ اٹھا کر اقلیتوں کو بلاوجہ نشانہ بنائیں گے جیسا کہ آج تک دیکھا جارہا ہے اور ان سب کو برقرار رکھنے سے عوام کا اعتماد قانون عدلیہ اور حکومت سے ختم ہو جائے گا پھر جمھوریت کا پورا بیڑا غرق ہوجائےگا.
اسلیے ملک کوپورے طور پر جمھوری ملک بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرے اور ظلم پر روک لگائے ورنہ اسکا خمیازہ ہر ایک کو بھگتنا پڑے گا پھر افسوس کا کوئ فائدہ نہیں ہوگا.