25.8 C
نئی دہلی
Image default
اسلامیات

ہجری سالِ نو کا آغاز اور محرم الحرام کی حرمت

اے آزاد قاسمی
محرم الحرام کو اسلامی تاریخ میں اسلامی سال نو کی آمد سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس مہینہ کو سن ہجری کا پہلا مہینہ بھی کہا جا تا ہے، جو نبی پاک ﷺ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف واقعۂ ہجرت پر مبنی ہے ، 17ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں اس تقویم کا آغاز ہوا جب حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ یمن کے گورنر مقرر ہوئے اور ان کے پاس حضرت عمرؓ کی طرف سے جوفرامین اورحکومتی ہدایات آتے تھے، تو اس پر کوئی تاریخ رقم نہیں ہوتی تھی، جس سے یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا تھا کہ کون سے فرامین پہلے کے اور کونسے بعد کے ہیں؛ جس کی وجہ سے قوانین اور دیگر حکومتی کام کاج میں پریشانی لاحق ہوتی تھی ، حضرت ابوموسی اشعریؓ کے توجہ دلانے پر حضرت عمر فاروقؓ نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے یہاں جمع کیا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان سن کے آغاز کے لئے آپسی تبادلۂ خیال اور کئی طرح کے وقوع پزیر ہوئے اسلامی فتوحات اوردیگر معرکوں پر غوروخوض کے بعد حضورﷺ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کو اسلامی سن کی ابتدا کے لئے موزوں قراردیا گیا؛کیونکہ ہجرت نبوی ﷺکا عظیم الشان واقعہ اسلامی تاریخ میں بے حداہم اور سبق آموز ہے، جو اپنے معنی ومفہوم کے لحاظ سے بھی بے حساب اہمیت کاحامل ہے، رہتی دنیا تک زمین پر آنے والوں کے لئے اور خاص کراہل اسلام کو واقعۂ ہجرت اور اسکی دینی اور تاریخی فتح ونصرت کی یاددلاتا رہے گا۔
حالانکہ دنیا میں اس وقت بے شمار مروج کلینڈروں کوان کے ماننے والے اپنے امرا ، روسا کی ولادت ، تخت نشینی ،فتوحات یا دیگر خوشی وشادمانی سے وابستہ کرتے ہیں مثلا عیسوی سن کو حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم پیدائش کی خوشی سے منسوب کرتے ہیں ،یہودی سن ان کے پیروکار حضرت داؤد علیہ السلام کی فلسطین پر تخت نشینی کے واقعہ سے وابستہ کرتے ہیں ، بکرمی سن کو راجہ بکرماجیت کے یوم پیدائش سے موسوم کرتے ہیں ، اسی طرح دنیا میں رائج ایسے اوربہت سے سن ہیں ،جواس خطہ اور علاقے میں آئے ہوئے روسا ،امرا یا دیگر بادشاہوں کے کسی خاص واقعہ سے ان کے ماننے والے منسوب کرکے اس تاریخ یا سن کو اپنے رہبر کی یادگارکے طورپرجانتے ہیں اور سال کے پہلے دن کو کو محفل رقص وسرودبرپاکرکے مناتے ہیں۔مگر اسلام اس قسم کے خرافات کی اجازت نہیں دیتا، اسلام تو ہمیشہ سے ایثار وقربانی اور صالح انقلاب کا نقیب رہا ہے ،لہذا سنہ ہجری کی بنیاددنیاوی شہرت ، خوشی ، شادمانی یا دیگر جاہ وجلال پر نہیں رکھی گئی؛ بلکہ ایسے واقعہ کی طرف منسوب کی گئی، جس کے اندر صبرواستقامت ، ثبات قدمی کی زبردست مثال موجودہے ۔
جہاں تک سوال ہے ماہ محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قراردینے کا، تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماہ ذی الحجہ میں بیعت عقبہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا مصمم ارادہ کرلیا گیا تھا اس کے بعد جو چاند نظرآیا تھا وہ محرم کا تھا بایں وجہ قمری مہینوں کی ابتدامحرم الحرام سے کی گئی ۔،قمری مہینوں کے نام دورجاہلیت سے چلے آرہے ہیں سوائے محرم کے ،اس مہینہ کو عرب اپنے خاص مزاج اور ذوق کے لحاظ سے بدلتے رہتے تھے ، محرم اس لئے بھی رکھا گیا کہ عرب اس ماہ میں لڑائی جھگڑے کو جائز نہیں سمجھتے تے ، البتہ ابن کثیر نے اس کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ اس ماہ کو محرم تاکید پیداکرنے کے لئے قراردیا گیا ہے؛ کیونکہ عرب کسی سال اس ماہ کو حلال قراردیتے تھے مطلب یہ کہ ان کے نزدیک جو لڑائی جھگڑے قتل وقتال ، لوٹ مار اس ماہ میں ممنوع تھے اس کو حلال کرلیتے تھے اور کسی دوسرے مہینہ کو حرمت والا قراردیتے تھے ۔ قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالی نے چارمہینوں کو حرمت والاقراردیا ہے ،ان میں سے ایک مہینہ محرم ہے ( إن عدۃ الشہور عنداللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللّٰہ یوم خلق السموات والارض منہااربعۃ حرم ) بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اس نے آسمان وزمین کو پیدا کیا اور اس میں سے چارمہینہ حرمت والے ہیں ۔اس کی وضاحت حدیث رسول ﷺ سے ہوتی ہے، تین ماہ مسلسل ہیں، ذیقعدہ ، ذی الحجہ ،محرم ، اور چوتھامہینہ جب المرجب ہے۔
ماہ محرم کو نبی پاک ﷺ نے’’ شہر اللّٰہ‘‘ اللہ کا مہینہ قراردیا ہے ،یہ فضیلت کسی اور مہینے کو نہیں ہے ، حدیث میں آیا ہے کہ رمضان المبارک کے روزے کے بعد افضل ترین روزہ ماہ محرم کا ہے (افضل الصیام بعد رمضان شہراللہ المحرم) آیات کریمہ اور احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ماہ محرم الحرام کو جو فضیلت ورفعت حاصل ہے وہ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ کربلا کی وجہ سے نہیں ہے؛ کیونکہ واقعہ کربلا نبی پاک ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کہ تقریبا پچاس سال بعد پیش آیا اور دین کی تکمیل نبی پاک ﷺ کی حیا ت میں کردی گئی تھی ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے (الیوم أکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الإسلام دینا) اس لیے یہ کہنا کہ ماہ محرم کی عظمت ورفعت واقعۂ کربلا کی وجہ سے ہے، سراسر فرمانِ خداوندی کے خلاف ہے ؛کیونکہ اسلامی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں، جو اسی ماہ مبارک میں وقوع پزیر ہوئے ہیں ، اسلام میںیومِ شہادت منانے کا کوئی شرعی جواز ہوتا،تو اسی ماہ میں یکم محرم الحرم کوسیدنا عمرفاروقؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ، ماہ ذی الحجہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور بے شمارشہادتیں ہیں، جن کی یادگارمنائی جاتی ، نبی پاک ﷺ کا مدینہ منورہ میں عاشورہ کا روزہ رکھنا اور یہودونصاریٰ کے مشابہت میں آئندہ سال سے اس کی مخالفت میں نویں محرم الحرام کا روزہ رکھنے سے متعلق فرمانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ماہ محرم الحرام کی اہمیت واقعۂ کربلا کے سانحۂ دلگداز پیش آنے کے بہت پہلے سے ہے۔
لہذا ہمیں چاہئے کہ اس ماہ مبارک کی ہر گھڑی اور ہر لمحہ کی زیادہ سے زیادہ قدرکریں،جتنا ہوسکے غیر شرعی کاموں سے اپنے آپ کو بچائیں ایسے تو ہر مہینہ اور ہر گھڑی غیر شرعی کاموں سے بچنا چاہئے ،لیکن ا س ماہ مبارک کے بارے میں خود ساقی کوثر نے فرمادیا ہے کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے ، جس سے اس کی اہمیت وفوقیت بڑھ جاتی ہے ، ہمیں چاہئے کہ اس تقویم کی ہر تاریخ اور ہر مہینے کو یادرکھیں اور اپنے معاملات اور لین دین میں اس کو رائج کریں ایسا کرنا ہر صاحب ایمان کیلئے مستحب ہے اور معاشرے میں رائج خرافات اور لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔
سنگرام ، مدھوبنی
abdullahaqasmi@gmail.com

متعلقہ خبریں

Leave a Comment