ہاشم پورہ قتل عام پردہلی ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ


پی اے سی کے تمام16؍ ملزمین کو عمر قید کی سزا
نئی دہلی:31/اکتوبر(قندیل نیوز)
میرٹھ کے ہاشم پورہ میں 1987ء میں ہوئے قتل عام کے معاملے میں آج دہلی ہائی کورٹ نے تیس ہزاری کورٹ کا فیصلہ بدلتے ہوئے تمام 16؍ملزمین پی اے سی کے جوانوں کو عمر قید کی سزاسنائی ہے۔31؍سال قبل مئی1987ء میں میرٹھ کے ہاشم پورہ علاقے میں 42؍لوگوں کا قتل کیاگیاتھا،اس معاملے میں 21؍مارچ2015کو نچلی عدالت نے اپنے فیصلے میں سبھی ملزمین کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیاتھا،عدالت کاکہنا تھا کہ پراسکیوشن ملزمین پر بغیر شک و شبہ الزام ثابت نہیں کرپایا۔ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو یوپی سرکار،قومی حقوق انسانی کمیشن اور کچھ متاثرین نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا،اس کے علاوہ موجودہ بی جے پی ایم پی(راجیہ سبھا)سبرامنیم سوامی نے اس وقت کے وزیرپی چدمبرم کے کردار کی جانچ کے لیے بھی عرضی دائر کی تھی۔عدالت نے ان سبھی عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کی ہے،حالاں کہ الزامات سترہ پی اے سی جوانوں پر لگائے گئے تھے،مگر ٹرائل کے دوران ان میں سے ایک کی موت ہوچکی تھی،اس لیے کل سولہ جوانوں پر مقدمہ چلایاگیا۔دہلی ہائی کورٹ نے6ستمبر کوہی اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا،جسے آج سنایاگیا اور سولہ پی اے سی جوانوں کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہاشم پورہ قتل عام کے معاملے میں کل19؍جوانوں پر قتل،قتل کی کوشش اور ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کاالزام لگایاگیا تھا،2006ء میں ان میں سے 17؍پر الزامات طے کیے گئے،دوکی دورانِ سماعت موت ہوگئی تھی،بعد میں ایک اورملزم کی موت ہوگئی،لہذا دہلی ہائی کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں بقیہ سولہ ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔واضح رہے کہ ہاشم پورہ قتلِ عام کا سرا1986ء میں کانگریس حکومت کے دوران بابری مسجد کا تالا کھلوانے سے جڑاہواہے،جس کے بعد مغربی یوپی میں خاص کر حالات بے قابو ہوگئے تھے ،14؍اپریل1987ء کو میرٹھ میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے،جس میں بہت سے لوگ مارے گئے،دکانوں کو نذر آتش کیاگیا،لوٹ اور ڈاکہ زنی کے بے شمار واقعات رونما ہوئے،مگر اس صورت حال کو قابو نہیں کیاجاسکا،بالآخر مئی کے مہینے میں میرٹھ میں کرفیولگادیاگیا اور شہر میں فوجیوں نے مورچہ سنبھال لیا،اسی دوران22؍مئی1987ء کو شہر کے مسلم علاقہ ہاشم پورہ میں سرچ آپریشن چلایا،پھر کئی سو بچوں،عورتوں،بوڑھوں اور جوانوں کو ٹرکوں میں بھر کر پولیس لائن لے جایاگیا،جبکہ ایک ٹرک کو مراد نگر گنگاندی کے پاس روکاگیا،اس میں پچاس لوگ تھے،انھیں اتاراگیااور پھران جوانوں نے وحشت و درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایک کرکے سب کو گولی ماری اور ندی میں پھینک دیا،اتفاق سے ان میں سے آٹھ لوگ بچ گئے تھے،جنھوں نے بعد میں پولیس میں رپورٹ درج کی اور یہ معاملہ تیس سال سے زائدعرصے تک ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقل ہوتا رہا،حتی کہ اب اس پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایاہے۔