Home نظم گدائے بت کدہ

گدائے بت کدہ

by قندیل

تازہ ترین، سلسلہ 83

فضیل احمد ناصری

ترے دن کا اجالا بھی اندھیرا ہو کے اٹھے گا
سن اے ظالم کسی دن تو بھی تنہا ہو کے اٹھے گا

سبائی خون کل بھی زندگی سے لاتعلق تھا
گدائے بت کدہ کل کو بھی رسوا ہو کے اٹھے گا

خودی کو بیچنے والا نہ زندہ تھا، نہ زندہ ہے
یقیناً ایک دن رسوائے دنیا ہو کے اٹھے گا

مدارس کو ستم گاروں کا مرکز ماننے والو!
تمہارا کارواں بھی غرقِ دریا ہو کے اٹھے گا

ہماری مصلحت کو بے بسی کا نام مت دینا
کسی دن دیکھنا، جگنو بھی شعلہ ہو کے اٹھے گا

تمہیں انجام تو معلوم ہو گا میرجعفر کا
تنِ غدارِ ملت، پھر سے لاشہ ہو کے اٹھے گا

تری تاریخِ پیدائش تری فطرت بتاتی ہے
سبا کا لونڈا جانِ کلیسا ہو کے اٹھے گا

مسلمانی لہو کی دھار شاید بھول بیٹھے ہو
یہ ذرہ جلد ہی کوہِ ہمالہ ہو کے اٹھے گا

ہماری راکھ میں چنگاریاں اب بھی سلامت ہیں
ہمارا ہر شرارہ اک بگولا ہو کے اٹھے گا

You may also like

Leave a Comment