گجرات میں علاقائی عصبیت کا ننگاناچ

عبدالعزیز
ریاست گجرات ،جہاں موہن داس کرم چند گاندھی پیدا ہوئے، جن کی وجہ سے دنیا بھر میں گجرات کو جانا جاتا تھا،اسے اب نریندر مودی جیسے تشدد پسند سیاست داں کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا ہے، 2002ء میں نریندر مودی کی سربراہی میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، پولس تھانوں سے باقاعدہ ہدایت دیتی تھی کہ بلوائیوں اور فسادیوں پر سختی نہ کی جائے، سابق ایم پی احسان جعفری نے اپنی کالونی اور گھر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، مودی جی کو فون بھی کیا، مگر انھیں ان کے گھر سے گھسیٹ کر بلوائیوں نے مار ڈالا، پولس اور انتظامیہ تماشائی بنی رہی، اسی طرح کئی مسلم بستیوں کو جلاکر خاکستر کر دیا گیا، ایک بستی کو جلانے میں مودی جی کی کابینہ کی وزیر اور کئی بی جے پی اور بجرنگ دل لیڈروں نے حصہ لیا، جس میں 200 افراد بچے، بوڑھے اور عورتیں جلا ڈالی گئیں،آج تک ان ظالموں کے خلاف قانونی جنگ جاری ہے ،مگر بہتوں کو انصاف نہیں ملا،امیت شاہ چند مہینوں کیلئے جیل گئے، مگر انھیں بھی چھوڑ دیا گیا، مودی جی کو اوپر سے لے کر نیچے تک کی عدالتوں نے کلین چٹ دے دیا، نریندر مودی مرکز میں برسر اقتدار آئے ،تو پورے ہندستان میں مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم ہونے لگے، گجرات کے دلتوں کو مونچھ رکھنے، مندر کے پاس جانے یا مردہ گائے کی کھال نکالنے پر سر عام مار مار کے ادھ موا کر دیا گیا۔
اب اسی گجرات میں بہار اور یوپی کے غریب مزدوروں پر ظلم و ستم اس پیمانے پر ڈھایا گیاہے کہ سیکڑوں مزدور مجبوراً نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے، بہت سے لوگ اپنے گھروں کو لوٹ آئے اور بہتوں کو مار مار کر زخمی کر دیا گیا؛ تاکہ غیر گجراتیوں میں ڈر اور خوف پیدا ہوجائے اور وہ گجرات چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں،ایک ٹھاکر کی کمسن لڑکی کی بہار یا یوپی کے کسی لڑکے نے عصمت دری کی تھی ،جس کی وجہ سے ٹھاکروں میں غصہ پیدا ہوا تھا، جوآہستہ آہستہ عصبیت کی شکل اختیار کرگیا، کانگریس ایم ایل اے الپیش ٹھاکر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے یکم اکتوبر کو بیان دیا تھا کہ گجراتیوں کو گجرات میں کام نہیں ملتا، یوپی اور بہار کے لوگ آکر ان کا حق مارتے ہیں، اس بیان نے بھی آگ میں تیل کا کام کیا، اس سے پہلے نریندر مودی کا انداز بھی کچھ ایسا ہی تھا، وہ ہر الیکشن میں سات کروڑ گجراتیوں کی بات کرتے تھے اور انھیں سارے ہندستان کے لوگوں پر فوقیت دیتے، مگر ان کا نشانہ گجرات کے مسلمانوں پر ہمیشہ رہتا تھا، میاں میاں اور میاں مشرف، پاکستان اس طرح کی باتیں کرتے تھے ؛تاکہ جس سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہو، یہی چیز بڑھتے بڑھتے اب گجرات اور غیر گجراتی کا سوال بن گئی ہے، اس طرح گجرات میں نفرت اور عصبیت کے بیج بونے والے نریندر مودی ہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بنارس میں جو لوگ گجرات سے واپس آئے ہیں، ان کے اندر نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوگئی ہے، ان کا نعرہ ہے کہ ’’گجراتی نریندر مودی بنارس چھوڑو‘‘ بی جے پی اور نریندر مودی کے خلاف گزشتہ روز بنارس میں مظاہرہ بھی ہوا، بنارس کے ایک شخص نے بیان دیا ہے کہ وہ کسی طرح فون کرکے احمد آباد ریلوے اسٹیشن پر یوپی کے مزدوروں کو بلایا اور سابرمتی ایکسپریس پکڑکر بنارس آئے،چوکا گھاٹ بنارس کے رام سنگھ نے کہاکہ وہ گاندھی نگر میں 2016ء سے مزدوری کرتے تھے؛ لیکن انھوں نے ایسی نفرت گجرات میں کبھی نہیں دیکھی اور ایسا دو سال سے ہورہا ہے، مزید کہاکہ ’’ہم اب اپنے گھر میں مرنا پسند کریں گے ،مگر گجرات جانا پسند نہیں کریں گے ؛کیونکہ وہاں جاکر مار دیے جائیں گے، نفرت اس درجہ بڑھ گئی ہے‘‘۔
کانگریس اور بی جے پی دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں، مگر جس کی حکومت میں دنگے اور فساد ہوتے ہیں، حقیقت میں وہی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے، فساد یا لڑائی جھگڑے جس نوعیت کے بھی ہوں،اگر حکومت کمر کس لے اور مستعد رہے، تو کسی صورت میں فساد یا قتل و غارت گری نہیں ہوسکی،گجرات میں جو کچھ ہوا ،وہ حکومت یا انتظامیہ کی ڈھیلائی اور چھوٹ دینے سے ہوا ہے، حکومت ان لوگوں کی ہے، جو فرقہ پرستی کو ملک بھر میں کسی نہ کسی عنوان سے بڑھاوا دے رہے ہیں؛ تاکہ 2019ء میں ان کو الیکشن میں کامیابی مل جائے۔
مہاراشٹر میں شیو سینا برسوں سے یہی کام انجام دے رہی ہے، معمولی درجے کے سائیکل رکشا والے، آٹو والے اور معمولی کام کرنے والوں کو اس طرح بہاری کہہ کے مارا جاتا ہے، جیسے وہ کوئی غیر ملکی ہوں، بال ٹھاکرے اس غیر انسانی سیاست کی بنیاد پر مہاراشٹر کے اتنے بڑے لیڈر ہوگئے کہ جج اور مجسٹریٹ بھی انھیں عدالت میں بلانے سے ڈرتے تھے،بال ٹھاکرے پوری ممبئی میں جب چاہے فساد برپا کر دیتے تھے، حکومت خواہ کسی کی ہو، مگر انھیں کچھ بھی گزند پہنچانے یا گرفتار کرنے کی کوشش نہیں ہوتی تھی،اب ان کے لڑکے اور بھتیجے اس ظالمانہ کام کو سنبھالے ہوئے ہیں،بی جے پی اور آر ایس ایس والے اسی کام کو بڑے پیمانے پر پورے ملک میں کر رہے ہیں، مسلمانوں کے ساتھ جہاں چاہتے ہیں ،جبر و ظلم کرتے ہیں، قتل و خون کرتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ ان کا مذہب ان سے الگ ہے، اب تو جو لوگ قاتلوں اور مجرموں کے خلاف عدالت میں گواہی دینے جاتے ہیں ،ان پر بھی حملے ہونے لگے ہیں، پہلو خان کے گواہوں پر جب وہ عدالت جارہے تھے ،تو ظالموں نے ایسا حملہ کیا کہ وہ عدالت نہیں جاسکے، اس طرح پورے ملک میں انارکی پھیلی ہوئی ہے۔
2019ء لوک سبھا الیکشن جیتنے کیلئے بی جے پی سب کچھ کرنے کو تیار ہوگئی ہے، وہ ہر جگہ فرقہ وارانہ فساد کرائے گی، ایسی صورت میں ملک کے تمام انصاف پسند اور حق پسند لوگوں کو بھی اٹھ کھڑا ہونا ہے کہ فرقہ پرست پارٹی کو دوبارہ کامیاب نہ ہونے دیں، یہ کام اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد سے ہی ہوسکتا ہے، ابھی تک جو صورت حال ہے اپوزیشن متحد دکھائی نہیں دے رہے رہی ہے، پانچ ریاستوں کا الیکشن ہونے جارہا ہے، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کا الیکشن اہم ہے، مگر مایا وتی کا تیور اور مزاج ابھی تک آتشی بنا ہوا ہے، تمام پارٹیوں کو مل کر مایا وتی کو سمجھانے کی کوشش کرنی ہوگی اور انھیں بتانا ہوگا کہ اگر وہ نہیں مانیں گی ،تو خود تو ڈوبیں گی ہی، دوسروں کو بھی ڈبائیں گی، 2014ء میں اتر پردیش میں انھیں ایک سیٹ بھی نہیں ملی تھی، متحد نہیں ہوئیں ،تو وہی صورت حال پھر پیدا ہوسکتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068