گاندھی جی سیکولرزم کا آئکن :پروفیسرشہپررسول


اردو اکادمی،دہلی کے زیراہتمام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف انجینئرنگ کے آڈیٹوریم میں کل ہندقومی یکجہتی مشاعرے کا انعقاد
نئی دہلی:29؍اکتوبر(پریس ریلیز)
اردو اکادمی،دہلی کے زیراہتمام مہاتماگاندھی کی ۰۵۱ویں سال گرہ کے موقع پر ۷۲؍اکتوبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ فیکلٹی آف انجینئرنگ کے آڈیٹوریم میں کل ہندقومی یکجہتی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔کل ہندقومی یکجہتی مشاعرے کی صدارت معروف وبزرگ شاعر وجیندرسنگھ پرواز نے کی اور نظامت ڈاکٹر رحمان مصور نے کی ۔اس موقع پر اپنے خیرمقدمی کلمات میں اردواکادمی ،دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسرشہپررسول نے کہاکہ آج کا یہ مشاعرہ ہندوستان کے عظیم رہنما گاندھی جی کے ڈیڑھ سوسالہ یوم پیدائش کی مناسبت سے منعقدہورہاہے۔گاندھی جی کا تعلق جامعہ سے بہت گہرا تھا ۔ایک وقت ایساآیا کہ جب لوگوں نے یہ طے کیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نام بدل دیا جائے تو گاندھی جی نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اگر آپ لوگوں نے یہ نام بدلا تو میں اس تحریک سے الگ ہوجاؤں گا ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ملک کا عظیم ادارہ ہے،جہاں ساری اقوام کے لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں ۔میں تمام شعرا کا استقبال کرتاہوں اورخوش آمدید کہتا ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ سامعین کے بغیر کوئی مشاعرہ مکمل نہیں ہوسکتا ، اس مشاعرے کے انعقاد کے لیے جامعہ کاانتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ یہاں سخن فہم لوگ پائے جاتے ہیں ۔جامعہ کی شان یہ ہے کہ یہاں ایک خاص طرح کی تہذیب پائی جاتی ہے ۔دہلی حکومت اردو اکادمی کے پروگراموں کو جس سنجیدگی سے لیتی ہے ،اس پر مجھے فخرہوتا ہے ۔نائب وزیراعلی اورحکومت کے دیگر نمائندے اردو کے فروغ کے لیے عہد بستہ ہیں ۔

مشاعرے کی ابتدائی نظامت اطہرسعید نے کی ۔اس موقع پر اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے شرکت کی اور تمام شعرا کو مبادک باد پیش کی اور ان کے کلام سے محظوظ ہوئے ۔اردواکادمی کے وائس چیرمین پروفیسرشہپررسول اور اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمدنے قومی یکجہتی مشاعرے میں مدعو شعرا کوگلدستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا ۔قومی یکجہتی مشاعرے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ،طلبہ وطالبات اور دہلی کی معزز شخصیات نے شرکت کی ۔