کیف عظیم آبادی کی برسی پر ’’بزم کیف‘‘ کی ادبی نشست


پٹنہ:
دبستان عظیم آباد کے معروف شاعر محمد یاسین کیف ؔ عظیم آبادی کی برسی کے موقع پر ’’بزم کیف‘‘ کی ایک ادبی نشست محمد آصف نواز و ڈاکٹر زرنگار یاسمین کے دولت کدہ پر منعقد ہوئی جس کی صدارت پروفیسراعجازعلی ارشد نے کی، انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ کیفؔ عظیم آبادی واردات قلبی کے بہترین اظہار پر قادر ہیں، جب یہ اظہار سامعین و قارئین کے احساس کا حصہ بن جاتا ہے تو مقبول شاعری وجود میں آتی ہے۔ بزم کیف کے صدر پروفیسراسرائیل رضا نے تعارفی کلمات میں کہا کہ کیف عظیم آبادی کو غزلوں نے سنوارا اور مشاعروں نے اس طرح اچھالا کہ ان کی شہرت و مقبولیت سمندر پار تک عام ہوگئی۔انہوں نے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو کچھ اس طرح شعری حسن کا پیکر عطا کیا کہ کلاسیکیت اور جدیدیت باہم گلے ملتی ہوئی نظر آتی ہے، اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کیفؔ کی شاعری میں کلاسیکیت اور جدیدیت کی حسین آمیزش پائی جاتی ہے۔ مہمان خصوصی پروفیسراسلم آزادنے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیفؔ میرے دل میں رہیں گے۔ ان کی سادگی، خلوص اور اپنائیت اکثر یاد آتی ہے۔ مشہور فکشن نگار مہمان ذی وقارپروفیسرعبدالصمد نے بزم کیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضروری تھا کہ کوئی ایسی بزم بھی جو شعرو ادب کی بھی محفل آراستہ کرے او ر تعلیم و تربیت کے شعبہ میں بھی کام کرے، میں اس کے لئے ہر طرح تعاون دینے کے لئے تیار ہوں۔ ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی نے بزم کیف کے تحت ہونے والے پروگرام کی روداد بیان کرتے ہوئے کیف کی زندگی اور شاعری کے حوالے سے مفید اور بے حد معلوماتی پہلو پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سیدشاہ حسین احمد، سجادہ نشیں نے بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں بیرون ملک جاتا ہوں اور کیف ؔ صاحب کا ذکر آتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے درمیان اتنا بڑا شاعر بھی تھا، جو بیرون ملک میں بھی جانا جاتا تھا، اورہمیں اس لئے بھی زیادہ خوشی ہوتی تھی کہ کیفؔ صاحب کا تعلق ہماری خانقاہ سے گہرا تھا۔ ڈاکٹر فرزانہ اسلم نے کہا کہ کیفؔ کے تعلق سے بہت سی باتیں یاد ہیں، وہ نہ صرف بڑے شاعر تھے بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھے۔ زرنگار کو بہت دعائیں کہ انہوں نے ان کی یادوں کو زندہ رکھا۔ افسانہ خاتون نے کہا کہ بیٹیاں بھی نام روشن کرتی ہیں، زرنگار اس کا نمونہ ہیں۔ یہ محفل ہمیشہ قائم رہے میری یہی دعا ہے۔
اس موقع پر بزم کیف کے ڈائرکٹر آصف نواز نے پروفیسرعبدالصمد، پروفیسرعلیم اللہ حالیؔ ، پروفیسراسلم آزاد، فرزانہ اسلم کو شال اڑھاکر عزت افزائی کی۔ مشتاق احمد نوری، سابق سکریٹری بہار اردو اکیڈمی، ڈاکٹرجاوید حیات، صدر شعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی اور فخرالدین عارفی نے بھی کیفؔ سے متعلق اپنی یادوں کو شےئر کیا۔ اس موقع پر ایک مخصوص شعری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا جس کی صدارت پروفیسرعلیم اللہ حالیؔ نے کی اور نظامت فخرالدین عارفی نے کی۔ انہوں نے عظیم آباد کی محفل سخن کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کیفؔ نامساعد حالات میں بھی اپنے عزم کا چراغ جلاتے رہے۔ اس شعری نشست میں عظیم آباد کے چنندہ ادباء و شعراء اور اہل علم حضرات نے شرکت کی۔ شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعری نشست بے حد کامیاب اور پرلطف رہا۔ بڑے بڑے شعرا نے اپنے مخصوص انداز سے کلام پڑھ کر سنایا جن پر سامعین نے خوب داد و تحسین سے نوازا۔