کیفی اعظمی کے صد سالہ یوم پیدائش پر کل ہند مشاعرہ کا انعقاد


نئی دہلی(پریس ریلیز)
اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام معروف ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پرگزشتہ روز’ جشن کیفی ‘منایا گیا ۔ تروینی کلا سنگم آڈیٹوریم منڈی ہاؤس میں صبح دس بجے یک روزہ قومی سمینار کی شروعات ہوئی جس میں ان کی نظمو ں ،غزلوں اور گیتوں پر قلم کاروں نے اپنے مقالے پیش کیے پھر شام ساڑھے چھ بجے اسی سلسلہ کے تحت کمانی آڈیٹوریم منڈی ہاؤس میں کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت معروف نغمہ نگار جاوید اختر نے کی ،نظامت کے فرائض شکیل جمالی نے انجام دیے، مہمان مکرم کے طور پرکیفی اعظمی کی دختر اورمشہور فلم اداکارہ شبانہ اعظمی شریک رہیں ۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے نائب وزیر اعلی دہلی منیش سسودیا اور مہمان اعزازی کے طور پر عمران حسین (وزیر دہلی حکومت )اور حاجی اشراق خان نے شرکت کی ۔وائس چیئر مین اردو اکادمی دہلی پرو فیسر شہپر رسول نے تمام سامعین، مہمانان اور شعرا کا استقبال کرتے ہوئے دہلی سرکار کی اردو کے فروغ کے تئیں فراخ دلی کا شکریہ ادا کیا ۔ایس ایم علی سکریٹری اردو اکادمی دہلی نے اظہار تشکر کیا ۔ منیش سسودیا نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شاعری دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے ،تغیرات زمانہ کو خوبصورت لفظوں میں بیان کرنے کا ہنر ہے ،سماجی و مذہبی رواداری اور آپسی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کاہتھیار ہے ۔ہمیں اپنے اس تہذیبی و ثقافتی ورثہ کو پروان چڑھانا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ جس عظیم شاعر کی نسبت سے یہ مشاعرہ منعقد ہورہا ہے، دورِ حاضر کے شاعروں اورقلمکاروں کو ان کی فکر اور سوچ کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ سماج کے اس آخری شخص کی آ واز ایوانوں تک پہنچے جو زمانے کی گرد میں دب کر رہ جاتے ہیں ۔جاوید اخترنے کہا کہ آج جن حالات سے ہمارا معاشرہ دوچار ہے اس میں ترقی پسندی کی سخت ضرورت ہے ہمیں شاعری کے روایتی انداز سے ہٹ کر مزاحمتی شاعری کی طرف راغب ہونا چاہیے ۔شبانہ اعظمی نے کہا کہ جب بھی معاشرے پر سخت وقت آتا ہے زمانے کے دانشور ،قلم کار اور شاعر انقلابی جزبے کے ساتھ آواز بلند ضرورکرتے ہیں تاریخ اس کی گواہ ہے ۔سامعین جاوید اختر کی غزلوں اورنظموں سے خوب محظوظ ہوئے اور دل کھول کر انھیں داد و تحسین سے نوازا۔