کیا مودی حکومت ظالم کی حمایت کر رہی ہے؟

عبدالعزیز
عام طور پر یہ خیال تھا کہ ایم جے اکبر نائیجریا سے واپس آنے کے فوراً بعد خود سے استعفیٰ دے دیں گے یا حکومت ان کو مستعفی ہونے پر مجبور کرے گی ،مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، اکبر نے آتے ہی ایک لمبا چوڑا بیان دیا، بارہ تیرہ مظلوم خواتین میں سے چار کا جواب دیا، باقی خواتین کا جواب دینے سے قاصر رہے، اب تعداد 14؍ خواتین کی ہوگئی ہے، ان میں سے صرف ایک خاتون صحافی پریہ رمانی کے خلاف دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں ایم جے اکبر نے ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے، پہلے چار کا جواب دیا ،پھر ایک پر مقدمہ دائر کیا، سب خواتین پر مقدمہ کیوں نہیں کیا ؟ ایسا یقیناًوکلانے مشورہ دیا ہوگا کہ ایک ہی پر کرنا زیادہ صحیح ہوگا؛ کیونکہ سب پر ایک ساتھ کرنے سے مقدمہ کمزور ہوجائے گا اور سب کی شکایتوں کا جواب دینا کوئی آسان نہیں ہوگا؛ بلکہ الٹا کیس اکبر پر ہوجائے گا ؛کیونکہ سب ایک زبان ہوکر کہیں گی اور ایک طرح سے فریق اور گواہ کا کام بیک وقت ہوجائے گا،مگر ان کے وکلا شاید اس حقیقت کو نظر انداز کر گئے کہ اب ساری خواتین مل کر اکبر پر جب مقدمہ دائر کریں گی، تو اکبر کے وکلا تعداد دکھاکر جج کو کیا قائل کرلیں گے؟ جبکہ جج کے سامنے ایک دو وکیل ہی کو دلائل پیش کرنے کی اجازت ہوگی، وکلا کی بھیڑ یا جماعت مقدمہ نہیں لڑسکتی ۔
اکبر کے پاس بی جے پی کے وکلا کی بھیڑ اکٹھی ہوگئی ہے اور پریہ رمانی کے پاس سارے ملک کے صحافی، وکلا اور رائٹرس اکٹھے ہورہے ہیں ، ٹوئٹر پر ہزاروں افراد رمانی کی حمایت کر رہے ہیں اور سب کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، بہتوں نے مالی مدد کا وعدہ کیا ہے، امید ہے وکلا کی بڑی جماعت بھی پریہ رمانی کے ساتھ ہوجائے گی ؛کیونکہ حکومت کھل کر ظالم کی مدد کر رہی ہے، امیت شاہ اور دیگر بی جے پی لیڈران درپردہ اکبر کی مدد کر رہے ہیں، اگر حکومت وقت کی شہ نہیں ملی ہوتی ،تو اکبر کی کبھی یہ ہمت نہیں ہوتی کہ تیرہ چودہ خواتین سے مقابلہ آرائی کے لیے تیار ہوجائیں، حکومت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے ،جو زن بیزار ہیں اور عورتوں کے دشمن ہیں ،اوپر کی سطح پر ایسے لوگ ہیں کہ یا تو عورتوں کو گھر بدر کرچکے ہیں یا کنوارے بنے ہوئے ہیں، کٹھوا میں بھی ایک کمسن کی اجتماعی عصمت دری کے مجرموں کی بی جے پی کے وکلا، وزرا اور لیڈروں نے کھل کر مدافعت کی تھی اور اتر پردیش کے اُناؤ میں بھی بی جے پی کے ایم ایل اے ،جس نے ایک لڑکی کی عزت لوٹی تھی، اس نے اس کے باپ کی مدافعت کرنے پر اس کی جان لے لی تھی اور یوگی حکومت مجرم ایم ایل اے کی حفاظت اور مدافعت کر رہی تھی، الہ آباد کورٹ کے جج نے حکومت پر پھٹکار لگائی ،تب کہیں ایم ایل اے کی گرفتاری ہوئی۔
ایم جے اکبر مودی حکومت کے لیے جزو لاینفک ہوگئے ہیں،مودی ان کو حکومت سے باہر نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ امیت شاہ اپنے اکبر کو جدا کرنا پسند کر رہے ہیں، اکبر کو بھی اندازہ ہے کہ اگر حکومت سے الگ ہوئے ،تو وہ یوسفِ بے کارواں ہوجائیں گے،ان کو پھر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، جب تک وہ حکومت میں ہیں ان کی حمایت اور مدافعت ہوگی، اکبر اپنی جوانی ہی سے شباب اور شراب کے رسیا تھے، اگر ’’می ٹو ‘‘مہم نہ چلی ہوتی اور انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کا زمانہ نہ ہوتا، تو آج ایک طاقتور حکومت یا طاقتور سیاستداں اور ایک قد آور صحافی سے مقابلہ کرنا آسان نہ ہوتا؛ کیونکہ ٹی وی کے تقریباً سارے چینلز ایک دو کے ماسوا مودی اور شاہ کے ساتھ ہیں اور حکومت تاجروں کی ہے او رمیڈیا بھی تاجروں کی ہے، میڈیا اور حکومت دونوں سرمایہ داروں کے زیر اثر ہیں، اکبر ذاتی طور پر بھی سرمایہ داروں کے بہت قریب ہیں،بہت سے زعفرانی سرمایہ دار ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں؛ اس لیے بھی اکبر پر حکومت جلد ہاتھ دینے کا نہیں سوچے گی، فلم انڈسٹری اور اس کے باہر بہت سے لوگوں پر خواتین نے جنسی استحصال کے لزامات عائد کیے ہیں، بعض نے معافی مانگ لی اور بعض اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں، اکبر بھی اپنے عہدہ سے مستعفی ہوکر اور معافی مانگ کر ایک نئی زندگی کی شروعات کرسکتے تھے، مگر جب کوئی دنیا پرستی میں نیچے سے اوپر تک ڈوبا ہوتا ہے، تو پھر اس سے نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، اکبر کی والدہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صوم و صلوٰۃ کی پابند تھیں،بیٹے کو قرآن مجید بھی پڑھایا تھا، مگر بیٹے پر ماں کا اثر نہیں ہوا، بیٹا اپنی دنیا میں مگن رہتا تھا، پہلے ترقی پسندی کا ڈھونگ رچایا، آر ایس ایس اور بی جے پی کی شدید مخالفت میں ہزاروں صفحات سیاہ کیے، مگر اقتدار اور دنیا پرستی نے انھیں مزیدتاریکی اور سیاہی کی طرف مائل کر دیا اورآخرکار فرقہ پرستوں کی گود میں جاکر پناہ لی۔
ایم جے اکبر کو حکومت جتنا بھی بچانے کی کوشش کرے، مگر میرے خیال سے ان کو بچا نہیں سکے گی، شرابی تو بچا بھی لیا جاتا ہے، مگر زانی کو بچانا آسان نہیں ہوتا ؛کیونکہ یہ ایک ایسا جرم ہے کہ قانون خداوندی میں اس کی سزا سنگسار ی ہے، اکبر نے تو ایک دو نہیں، کئی خواتین کو اپنی ہوس رانی یا شہوت رانی کا شکار بنانا چاہاہے، جن خواتین نے منہ کھولا ہے اور جو کچھ بتایا یا ظاہر کیا ہے، وہ بہت کم ہے؛ کیونکہ عام طور پر عورتیں سب کچھ بتاکر اپنی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتیں، معاشرہ بھی بے رحم اور سنگدل ہے، اکثر خاندان والے بھی ماضی کی زندگی کو نظر انداز نہیں کرتے، عورتیں آج بھی مردوں کے مظالم کی شکار ہیں، ضرورت ہے کہ عورتیں رمانی اور دیگر مظلوم عورتوں کا ساتھ دیں اور انصاف پسند مرد بھی میدان میں آئیں، جس طرح نربھیا کے معاملے میں سب یکجا ہوگئے تھے، اس وقت کی حکومت کو مجبور ہونا پڑا تھا، نئے قوانین بنائے گئے،بہت سے اقدامات کیے گئے، اس وقت کانگریس کی حکومت تھی، آج بی جے پی کی حکومت ہے، اس کو بھی دیر یا سویر عوام کی طاقت کے سامنے جھکنا پڑے گا، جمہوریت میں عوام کی طاقت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، عوامی طاقت کو مضبوط سے مضبوط حکومت زیادہ دن تک نظر انداز نہیں کرسکتی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068