کیا شخصیت کی موت کے ساتھ اس کا مشن بھی مرجاتا ہے؟

مسعود جاوید
شخصیت پرستی اور اقربا پروری کا حامی تو میں کبھی نہیں رہا؛ لیکن کبھی کبھی اپنے نظریے پر نظر ثانی کا جی چاہتا ہے اور وہ اس لئے کہ بعض شخصیتوں کی وفات سے جو خلا پیدا ہوتا ہے، اس کو پر کرنے والے ایسے با صلاحیت افراد نظر نہیں آتے ہیں اور نتیجتاً ان شخصیات کا مشن ان کی موت کے ساتھ ہی مرحوم ہو جاتا ہے۔
مفتی عتیق الرحمان عثمانی ؒ صدر مسلم مجلس مشاورت اردو بازار دہلی کے دفتر ندوۃ المصنفین سے ایک بہت معیاری علمی رسالہ ’’برہان‘‘ مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی ادارت میں نکالتے تھے ،علمی حلقوں میں اس اسلامی ،ادبی، علمی و تحقیقی میگزین کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا ؛اس لئے کہ مختلف علمی موضوعات پر پایے کے محققین علما اور پروفیسر حضرات وریسرچ اسکالرز کی تحریریں اس میں شامل ہوتی تھیں،افسوس ان دونوں شخصیتوں کی وفات کے بعد گرچہ بورڈ آج بھی آویزاں ہے، مگر وہ موقر جریدہ زمانہ ہوا بند ہو گیا،ریسرچ کی غرض سے کچھ پتہ کرنا چاہا، تو اس رسالے سے متعلق اس عمارت اور اس کے قرب و جوار میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے،ان دونوں شخصیتوں کی وفات کے بعد کچھ دنوں تک سلسلہ چلا،مگر انجام کار بند ہو گیا۔
اسی طرح1978 میں سید شہاب الدین مرحوم نے فارن سروس سے استعفیٰ دینے کے بعد سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ کیا ،آنجہانی چندر شیکھر صاحب کے دست راست بنے اور جنتا پارٹی کے جنرل سیکرٹری بنائے گئے؛لیکن مسلم ایشوز کے زمینی حقائق سے واقف ہونے کے لئے انہوں نے مفتی عتیق الرحمان عثمانی ؒ کے دفتر کا رخ کیا،میری پہلی ملاقات سید صاحب مرحوم سے اسی دفتر میں ہوئی تھی۔سید صاحب مرحوم کا وہیں سے مسلم مجلس مشاورت ،پرسنل لا بورڈ ،جمعیت علما، جماعت اسلامی اور دیگر ملی تنظیموں کے ذمے داروں سے رابطہ ہوا،بعد میں سید صاحب پارلیمنٹ کے ممبر بھی بنے اور مسلم مجلس مشاورت کے صدر کے عہدے پر بھی فائز ہوئے؛لیکن ان کے نمایاں کارناموں میں سے ایک اہم کام ’’ مسلم انڈیا‘‘ میگزین اپنی ادارت میں نکالنا تھا،یہ وہ زمانہ تھا ،جب مسلمانوں کی صحیح ترجمانی تقریر و تحریر سے ،خاص طور پر انگریزی زبان میں بے باکی سے اپنا موقف رکھنے والے خال خال نظر آتے تھے،عام مسلم قائدین کی جذباتی تقریروں کے بر عکس سید صاحب کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی بات اعداد و شمار، ڈیٹا اور سرکاری ایجنسیوں کی رپورٹ کی روشنی میں مدلل بنا کر پیش کرتے تھے۔
ان کا ماہنامہ ’’مسلم انڈیا‘‘ بھی کوئی ادبی یا سنسنی خیز خبروں کا ماہنامہ نہیں تھا،یہ ایک ڈاکومنٹری جرنل اور ریسرچ بیسڈ آرٹیکل اور ڈیٹا پر مشتمل رسالہ تھا، جس میں لکھنے والے نامور صحافی اور اعلیٰ عہدوں سے ریٹائرڈ سرکاری افسران تھے،ایسے وقت میں جب انٹرنیٹ کی سہولیات عام طورپر میسر نہیں تھیں ریسرچ اور ریفرنس میگزین نکالنا آسان نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ سید شہاب الدین اور مسلم انڈیا فرقہ پرست عناصر اور تنظیموں کی آنکھ کی کرکری تھے،نہ صرف آر ایس ایس؛ بلکہ کانگریس کے باہر سے سیکولر اور اندر سے فرقہ پرستوں کو سید صاحب اور مسلم انڈیا ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے؛لیکن افسوس سید شہاب الدین کے ساتھ ’’مسلم انڈیا ‘‘بھی دفن ہو گیا،’’ملی گزٹ‘‘ نے اسے لیا تو ضرور ،مگر نہ وہ اسلوب ،نہ وہ مواد اور نہ وہ عرق ریزی!
ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کی گھڑی کی سوئی الٹی جانب چل رہی ہے،آج سے بیس پچیس سال قبل مسلمانوں کا اپنا روزنامہ اخبار نکلتا تھا’’ الجمعیۃ‘‘ اور’’ دعوت‘‘افسوس یہ ملی تنظیموں کے ترجمان ہونے کے باوجود بند کر دیے گئے،اب ہفت روزہ اور سہ روزہ نکلتے ہیں،ایسے میں ہمارا یہ خواب دیکھنا کہ مسلمانوں کا اپنا الیکٹرانک میڈیا ،ٹی وی چینل ہو،کہاں تک صحیح ہے؟! ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ملی قائدین بدلتے وقت اور نئے دور کے تقاضوں کے ساتھ چلنے کی ضرورت سے واقف نہیں ہیں یا ڈیجیٹل ،برقی ذرائع ابلاغ کی ضرورت ،اہمیت اور افادیت سے آگاہ نہیں ہیں یا وسائل اور اسباب مہیا نہیں ہو سکتے یا ٹیلنٹ اور افراد کی کمی ہے؛لیکن….؟؟
شخصیات کی موت کے ساتھ مشن کے فوت ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سکنڈ لائن تیار کرنے، جمہوری طرز پر اقتدار منتقل کرنے اور اپنے ماتحتوں کی صلاحیتوں کی قدر کرنے کا رواج نہیں ہے۔کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*