کیا آ پ نے چانکیہ کی کہانی سنی ہے؟

 

(مغربی بنگال میں اردواکیڈمی کونوازے جانے اوراردواسکولوں کی کس مپرسی کی افسوسناک روداد)


نورا للّٰہ جاوید
ہندوستان بھر میں اپنی سیکولر مزاجی، مسلم نوازی اور اردو دوست ہونے کی حیثیت سے نیک نامی حاصل کرچکی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جنہیں ملک بھر کے مسلمان عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اوراس وقت لالو پرساد یادو کے بعد وہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔اس کے باوجوداگر اردو بنگال میں کسمپرسی، بدحالی،اساتذہ کی قلت کے دور سے گزررہی ہے تواس سے ذہن میں یہ خیال پیداہوتاہے کہ سیکولرزم کے علمبردار سیاست دانوں نے مسلمانوں کی تعلیم اور امپاور منٹ پر توجہ دینے کے بجائے انھیں جذباتی اور وقتی مسائل میں الجھائے رکھنا زیادہ مناسب سمجھا ہے۔
اردو اسکولوں میں اساتذہ کے بحران کی وجہ سے کئی اسکول بند ہونے کی کگارپر ہیں، لازمی حق تعلیم کی پاسداری نہیں ہورہی ہے۔تین تین ہزار طلبا پر حکومت نے تین سے چار اساتذہ دے رکھے ہیں۔کچھ اسکولوں میں مقامی کمیٹی نے پارٹ ٹائم ٹیچر بحال کرکے کسی بھی صورت میں تعلیم کو باقی رکھا ہے۔اردو میڈیم اسکولوں میں سائنس و کامرس سیکشن بند ہورہے ہیں۔سائنس اورکامرس پڑھنے کے متمنی اردو میڈیم کے طلبامیڈیم تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔ظاہر ہے کہ جونیئر سیکنڈری تک اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کیلئے سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری میں دوسرے میڈیم (یعنی بنگلہ، ہندی اور انگریزی)میں خود کو فٹ کرنے میں ایک وقت لگ جاتا ہے، اس کا سیدھااثراس کی تعلیمی صلاحیت وقابلیت پڑتا ہے۔دوسری جانب مغربی بنگال اردو اکیڈمی جس کا 2011تک سالانہ بجٹ 80لاکھ تک تھا۔گزشتہ سات سالوں میں اضافہ ہوکر 15کروڑتک پہنچ چکا ہے۔یہ 15کروڑ مشاعرے، قوالی، سیمینار، تقسیم انعامات اور غیر معیاری کوچنگ کلاسیس اور کئی درجن کتابوں کی اشاعت میں خرچ کردیے جاتے ہیں۔اگرآپ بنگال اردو اکیڈمی کے ذمہ داروں اور ممبران سے ملاقات کریں گے توآپ کو ”باغوں میں بہار“ کے دل آفریں نغمے سنائی دیں گے۔ملک بھر کی اردو اکیڈمیوں کا اتنا بجٹ نہیں ہے جتنا بنگال اردو اکیڈمی کا ہے۔ان کے مطابق ہندوستان کی تاریخ میں ممتا بنرجی سے بڑ ا کوئی بھی اردو نواز سیاست داں پیدا ہی نہیں ہوا؟ مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایک طرف اردو اکیڈمی پر فنڈ کی بارش ہورہی ہے تو دوسری طرف اردو اسکولوں سے حکومت نے منہ کیوں موڑ لیاہے؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کیلئے کچھ دیرکومیں آپ کو ماضی بعید کے ایک ہونہار نوجوان کی کہانی گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اور یہ نوجوان آج بھی ہمارے درمیان بہت ہی مشہور ہے اور اس کے فارمولے پر آج بھی حکومت کی پالیسی طے ہورہی ہے۔
چندر گپت موریہ اپنی جلاوطنی کے دورمیں ایک دن ٹیکسلا سے گزررہے تھے۔اسی درمیان انہوں نے دیکھا کہ ایک برہمن نوجوان پیتل کی پتیلی میں پانی گرم کرکے درخت کی جڑ میں ڈال رہا تھا۔موریہ نوجوان کی اس حرکت پر حیران ہوئے اور قریب جاکر پوچھا کہ ”مہاراج کیا کررہے ہیں؟ تواس جوان نے کہا کہ انتقام لے رہا ہوں،موریہ نے کہا کہ انتقام؟نوجوان کہتا ہے کہ جی ہاں انتقام لے رہا ہوں اس درخت سے،میں گزررہا تھا کہ اس درخت کی جڑسے میرا پاؤ ں الجھ گیا اور میرے سر میں چوٹ آئی ہے۔اس لیے میں اس درخت کے وجود کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔چندر گپت موریہ نے کہا کہ بھلایہ کوئی انتقام ہے؟انتقام ہی لینا ہے تو کلہاڑی اٹھائیں اور درخت کو کاٹ دیں؟ برہمن نوجوان نے فوراً اپنے دونوں ہاتھوں سے کان پکڑے اور بولا مہاراج معاف کیجئے گا،برہمن درخت نہیں کاٹا کرتے،اگر میں نے درخت کاٹ دیا تو مجھے پاپ لگے گا؟ چندر گپت موریہ جوان کی ذہانت سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوا اور اس کو اپنا وزیر بنالیا بعد میں اسی نوجوان کی بدولت موریہ نے پہلی ہندو حکومت قائم کی اور اسی نوجوان نے امور مملکت چلانے کیلئے موریہ کو ایک کتاب لکھ کر دی جو آج تک ہندوستانی حکمرانوں کیلئے نسخہ کیمیا ہے اور اس کتاب کی کئی پالیسیاں ہندوستان کی پالیسی کا حصہ ہیں۔جانتے ہیں وہ جوان کون تھا اور کتاب کا نام کیا ہے؟ جوان کانام چانکیہ تھا اور وہ کتاب ارتھ شاشتر ہے۔
چانکیہ کی اس مختصر کہانی کے تناظر میں بنگال میں اردو کے موجودہ منظر نامہ کو سمجھا جاسکتا ہے کہ جڑ میں تو گرم پانی ڈالا جارہا ہے اور شاخوں پر پانی کا جھڑکاؤ ہورہا ہے۔در اصل ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک کے بیشتر سیکولر حکمرانوں نے بی جے پی اور ہندوانتہا پسند جماعتوں کی طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آبیاری نہیں کی مگر مسلمانوں کی جڑوں میں گرم پانی ڈالنے کا کام ضرور کیا۔بنگال تو بنگال ہے،جہاں ہندوستان کی آزادی کے بعد سے اب تک برہمن یا پھر بڑی ذات کے افراد نے ہی حکومت کی ہے تو یہاں کا ہرسیاست داں چانکیہ ہے۔بنگال میں ہندوستان کی آزادی کے بعد 30سالوں تک کانگریس نے حکومت کی،اس کے بعد 34سالوں تک بائیں محاذ کی حکومت رہی اور اب گزشتہ 7سالوں سے ممتا بنرجی اقتدار میں ہے مگر مسلمانوں کی کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے؟یہ صورت حال مسلمانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے ـ
آل بنگال اردو میڈیم اسکول ایسوسی ایشن نے ستمبر 2016میں ریاست کے سرکاری جونیئر، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اردو اسکولوں کا سروےکرنے کے بعد ایک رپورٹ جاری کیا تھا کہ ”بنگال میں سرکاری اردو میڈیم جونیئر سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اسکولوں کی کل تعداد 68کے آس پاس ہے جن میں سے 58اسکولوں نے سروے میں تعاون کیا۔جس کے مطابق اردو میڈیم سیکنڈری، جونیئر سیکنڈری اور ہائرسیکنڈری اسکولوں میں کل 68585طلبا زیر تعلیم ہیں، جن کیلئے اس وقت 1268اساتذہ کی آسامیاں ہیں،مگر ستمبر 2016تک صرف 549اساتذہ تھے۔کل 727اساتذہ کی سیٹیں خالی ہیں اور اس میں 451سیٹیں شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائب کیلئے ریزرو ہیں اور 276عام سیٹیں خالی ہیں۔چوں کہ 2013کے بعد اردو میڈیم جونیئرسیکنڈری، سیکنڈری اورہائر سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ کی کوئی بحالی نہیں ہوئی اوراس درمیان درجنوں اساتذہ ریٹائر ہوئے ہیں اس کی وجہ سے اردو اسکولوں میں مزید سیٹیں خالی ہوگئی ہیں۔ اردو اسکولوں کا سب سے بڑا مسئلہ ریزرویشن کا ہے۔چوں کہ شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائب کیلئے ریزرو سیٹوں پر کوئی امیدوار نہیں آتا ہے اس کی وجہ سے یہ سیٹیں خالی کی خالی رہ جاتی ہیں بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا چلاجاتا ہے۔2010میں اردو میڈیم اسکولوں کے اساتذہ کی تحریک کی وجہ سے سابق وزیرا علیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ نے 101 ریزرو سیٹوں کو ڈی ریزرو کردیا تھا او ر اس کے بعد اسکولوں میں بحالی ہوئی۔مگر یہ قدم عارضی ثابت ہوا۔ محکمے تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں تقریبا50ہزار پرائمری اسکول ہیں جن میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد صرف 5سو کے قریب ہے۔جونیئر سیکنڈری، سیکنڈری اسکولوں کی کل تعداد 12ہزار کے قریب ہے جن میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد 80کے قریب ہے۔جب کہ ہائر سیکنڈری اسکولوں کی کل تعداد 8ہزار کے قریب ہے، جن میں اردو میڈیم ہائی اسکولوں بشمول ہائر سیکنڈری ہائی مدرسہ کی کل تعداد 57کے قریب ہے۔یعنی 0.62 کے قریب ہے۔جس میں مغربی بنگال میں اردو میڈیم ہائر سیکنڈری کامرس اسٹریم کے 14اسکول ہے اور سائنس 24ہے۔
ہگلی ضلع جہاں چاپدانی، رشڑا، تیلنی پاڑہ اوربانسبڑیا جیسی 5لاکھ کے قریب اردو آبادی ہے، یہاں کوئی بھی اردو میڈیم سیکنڈری سرکاری ہائی اسکول نہیں ہے۔صرف ایک ہائی مدرسہ ہے۔اس کے علاوہ چاپدانی جونیئر گرلس ہائی اسکول میں ایک بھی ٹیچر نہیں ہے، صرف ایک کلرک ہے اور اسکول کمیٹی اپنے طور پر اسکول چلارہی ہے۔اسی طرح رائے گاچھی شمالی 24 پرگنہ میں 250طلباء زیر تعلیم ہیں، مگر یہاں صرف ایک ٹیچر ہے۔مسلم پریڈنسی ہائی اسکول کلکتہ شہر کا تاریخی اسکول ہے، انگریزی دور حکومت میں یہاں کی تعلیم مشہور تھی۔مگر یہاں اساتذہ کی کل تعداد 3ہے اور طلبامجبوراً دوسرے اسکولوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہیں۔کلکتہ شہر کے مسلم علاقے میں واقعہ مشہور اسلامیہ ہائی اسکول جہاں 1500کے قریب بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں بھی وہ بھی اساتذہ کی قلت کا شکارہے۔یہاں اساتذہ کی کل 40سیٹیں ہیں جس میں اس وقت محض 15اساتذہ ہیں۔اس اسکول کے ہیڈماسٹر محمد خالد رضا نے بتایا کہ ہم نے روشٹر کو مکمل کیا ہے اور باربار اسکول سروس کمیشن اور دیگر محکموں کے دروازے کھٹکھٹائے ہیں مگر کوئی بھی ہماری مدد کو تیار نہیں ہوا۔اسکول کا انفراسٹکچر بہت بہترین ہے۔لیب سے لے کر لائبریری اور دیگر تمام سہولیات ہیں مگر اساتذہ ہی نہیں ہوں گے تو تعلیمی معیار کیسے بلند ہوگا۔ چوں کہ چھٹی کے دنوں میں اسکول کی عمارت کو شادی بیاہ کی تقریبات کیلئے کرایہ پر دیدیا جاتا ہے اس کی آمدنی سے پارٹ ٹائم ٹیچروں کو بحال کرکے کسی بھی طریقے سے نصاب کو مکمل کیا جارہاہے۔ایک استاذ ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے طلباء کا مستقبل خراب ہونا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔کانکی ناڑہ گرلس ہائی اسکول بھی ٹیچروں کی قلت سے دو چار ہے۔ہیڈ مسٹریس شمیمہ بانوکہتی ہیں کہ اردو میڈیم اسکولوں کی جانب مسلم لیڈروں نے کبھی توجہ نہیں دیا ہے۔ہم لوگوں نے مسلم لیڈروں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے مدد مانگی کہ ہماری پریشانیوں کو حکومت پہنچائیں مگر کسی نے بھی ہماری آواز، پریشانی اور مشکلات کو وزیر اعلیٰ تک نہیں پہنچایا اور آج نتیجہ یہ ہے کہ بیشتر اسکولوں میں اساتذہ کا بحران ہے۔شمیہ کہتی ہیں کہ جب اردومیڈیم سے طلباء ہی نہیں تیار ہوں گے تو سمینار، مشاعرے اور میلے سے اردو کا تحفظ کیسے ہوسکتا ہے۔ جنوبی 24پرگنہ کا مٹیابرج علاقہ کثیر مسلم آبادی والا علاقہ ہے۔یہاں پر لاکھوں کی تعداد اردوبولنے والے آباد ہیں۔میڈیا کا ایک بڑا حلقہ اس علاقے کو منفی انداز میں پیش کرتا رہا ہے۔مگر یہاں بھی صو رت حال بدترین ہے۔مولانا حسرت موہانی ہائی اسکول میں سائنس و کامرس کا سیکشن اساتذہ نہیں ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا ہے اور یہاں 2ہزار کے قریب بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر یہاں صرف 6اساتذہ ہیں۔اسی طرح گارڈن ریچ مولانا آزاد میموریل گرلس ہائی سیکنڈری اسکول جہاں 4ہزار کے قریب بچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں یہاں اس وقت صرف 15ٹیچر ہیں۔ کئی اہم سبجیکٹس جن میں کیمسٹری اور ریاضی شامل ہے کے استاذ ہی نہیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا پوری ذمہ داری حکومت کے سر تھوپ کر اردو برادری اور اردو کی روزی روٹی کھانے والے اور اکیڈمی میں عہدے حاصل کرنے والے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں؟خوداحتسابی سے عاری مسلم قیادت کا یقینا یہی جواب ہے کہ ہم نہیں،حکومت ذمہ دار ہے اور حکومت بھی نہیں بلکہ ریزرویشن کی پالیسی ذمہ دار ہے کہ ایس ٹی اور ایس سی طبقات سے تعلق رکھنے والے اردو نہیں جانتے ہیں تو ہم کیا کریں؟ مگر موجودہ حالات کا تجزیہ کیاجائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک طرف جہاں حکومت اور اس کے کارندوں نے اردو اسکولوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے، وہیں اردو برادری بالخصوص مغربی بنگال اردو اکیڈمی میں سالانہ کروڑوں کے بجٹ کو مہمانی، دعوت اور سیمیناروں کے نام پر اڑانے والے لوگ کہیں زیادہ ذمہ دارہیں۔میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ 2011میں اردو کودوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے ممتا بنرجی کے اعلان کے بعد اردو برادری بالکل خاموش ہوگئی۔اس نے یہ سمجھا کہ منزل مل گئی مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ قانونی درجہ ملنا ایک الگ شی ہے اور حق ملنا اور اس پر عمل درآمد دوسری شی ہے۔بنگال اردو اکیڈمی جس کا قیام اردو کے فروغ کیلئے ہوا تھا کیلئے ملک بھر میں ممبران کا انتخاب سیاسی وفاداریوں، تعلقات اور سفارشات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ممتا بنرجی کے دور اقتدار میں تو اردو اکیڈمی کو ترنمول کانگریس کا دفتر بنا دیا گیاہے۔اردو سے نابلد سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر ممبروں کا انتخاب ہوا۔موجودہ اردو اکیڈمی کے ممبروں کی فہرست دیکھ لیں اندازہ ہوگاکہ ایک پاور فل راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کی سہیلی کو، جو ایک انگلش میڈیم اسکول میں تیسری جماعت کی کلاس ٹیچر ہیں، کئی بزنس مین دوستوں اور اپنے ادارے کے ملازمین کو ممبرشپ دلادی ہے۔ظاہر ہے کہ جب ممبران کسی کے مرہون منت ہوکرآئیں گے تو ان میں حق بولنے کی جرأت کہاں سے آئے گی۔جہاں تک اردو آبادی کا تعلق ہے، وہ بالکل بے حسی اورخواب غفلت کا شکار ہے۔اردو کے پروفیسر، اساتذہ اور حکومتی کارندے پردے میں شکایتوں کا انبا ر لگادیتے ہیں مگر وہ سامنے آنے کو تیار نہیں ہیں۔ایسے افرادکو اسٹالن کا یہ قول ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ ”جو سچ وقت پر نہیں بولا جائے وہ سچ نہیں ہوتا ہے؛بلکہ جھوٹ ہوتاہے“۔