کیا آر ایس ایس کے سابق سربراہ سدرشن مسلمان ہوگئے تھے؟

عبدالعزیز
آج آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے جس منصب پر موہن بھاگوت فائز ہیں اسی منصب پر کے. ایس. سدرشن فائز تھے، وہ بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے تھے۔پندرہ سال پہلے کی بات ہے، آگرہ میں آرایس ایس کا کل ہند اجلاس تھا۔ سدرشن نے اس موقع پرِ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان بھارتی سنسکرتی اپنائیں اور اسلام کا بھارتی کرن ہو۔ آر ایس ایس کے سربراہ کا مسلما نوں کے خلاف بہت جارحانہ انداز تھا۔ اخبارات میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ ان کی تقریر کے کچھ حصے شائع ہوتے تھے۔ ایک روز پہلے بنگلور شہر میں مسلم پر سنل لابورڈ کا اجلاس شروع ہوا تھا۔
حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلامؒ بورڈ کے صدر تھے، ان کو جب سدرشن کی سب باتیں معلوم ہو ئیں تو اسٹیج پر آئے، سدرشن کے جو اب میں تیس
منٹ کی تقریر کی،مولانا نے سدرشن کا نام لے کرکہا کہ میں ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتاہوں، اسلام ہی سچا اور اچھا مذہب ہے، میں پورے خلوص اور محبت کے ساتھ کہتا ہوں کہ سدرشن کے قبول اسلام سے اسلام کا کوئی بھلا نہیں ہوگا ؛بلکہ سدرشن کا ہی بھلا ہوگا ،وہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں گے۔
صدرمحترم نے اسلام کی حقانیت کا دیگر مذاہب سے دلائل کے ساتھ موازنہ پیش فرمایا، مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :تم اس ملک میں داعی ہو،مد عو نہیں، تمہارا اوّلین کام ہے کہ ملک کے تمام با شند وں کو ،جو مسلمان نہیں ہیں ،اسلام کی طرف بلاؤ، اسلام کی دعوت دو۔ خاکسار بھی اجلا س میں موجود تھا، مولانا سے ملاقات کی اور کہا : مولانا! آپ نے حق ادا کر دیا۔ موصوف نے مسکراتے ہوئے کہا: حق تو اس وقت پورے طور پر ادا ہوگا، جب ہم لوگوں کی مسلسل کوششوں سے ایسے لوگ مشرف بہ اسلام ہوجائیں۔
اجلاس بنگلور کے دو یاتین سال بعد کلکتہ کے او پی شاہ نے، جو میر ے آشنا اور ملاقاتی تھے، دہلی میں آر ایس ایس کے سربراہ کے ایس سدرشن اور ان کے چند رفقا کے ساتھ جماعت اسلامی ہند کے امیر ڈاکٹر محمد عبد الحق انصاری اور جماعتی رفقاکے ساتھ تبادلۂ خیالات کی ایک نشست کا اہتمام دہلی شہر میں کیا، سدرشن نے تین باتوں کی شکایت کی، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ مسلمان کہتا ہے کہ اسلام ہی سب سے اچھا دھرم ہے اور دوسروں سے برتر ہے، مسلمانوں کو یہ کہنا چھوڑنا ہوگا۔
ڈاکٹر صاحب نے جواب میں کہا کہ اسلام قبول کرنے والوں کا تو یہ حق ہے کہ وہ ایسا کہیں ؛کیونکہ اگر ان کے نزدیک اسلام ایسا مذہب نہ ہوتا، تو اسے کیوں قبول کر تے اور کیوں اسی کے ہوکر رہ جا تے، دوسری بات اس سلسلے کی یہ ہے کہ یہی حق آپ کو حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ہندوتو کا پرچار کرتے ہیں اور بھارتی سنسکرتی دوسروں کو قبول کر نے کی دعوت دیتے ہیں، مسلمانوں کو اس حق سے کیوں محروم کر نا چاہتے ہیں؟ سدرشن لا جواب ہوگئے۔
چند سال پہلے یہ خبر با وثوق ذرائع سے ملی کہ اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد کے ایس سدرشن قبول اسلام کرنا چاہتے ہیں، مگر آر ایس ایس والے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، عین عید الفطر کے دن سدرشن جی بھو پا ل پہنچے، انھوں نے ’تاج المساجد‘ میں جاکر عید کی نماز ادا کر نے کی خواہش کا اظہار کیا، سنگھ پریوار میں کھلبلی مچ گئی، سابق وزیر اعلیٰ گور بابو، جواوما بھارتی کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ہوئے تھے، اپنی پوری فوج کے ساتھ پولیس کے اعلیٰ افسران کو لے کر آگئے، ان کو مسجد جانے سے روکا اور انہیں بہلاپھسلا کر ایک مسلمان کے گھر لے گئے اور وہاں جا کر سدرشن نے سوئیاں کھائیں، کہا جاتا ہے کہ سبکدوشی کے بعد مو صوف کر نا ٹک کے شہر بنگلور میں رہنے لگے، تو چند نوجوان ان سے مسلسل رابطے میں رہے، انہوں نے مطالعہ کے لیے اسلامی لٹریچر دیا، ایک بار انہیں عید ملن پروگرام میں بلایا، اس میں انہوں نے اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام ہی حق پر ہے۔
ہم مسلمانوں کی اس ملک میں دو ایسی کوتاہیاں ہیں، جن کے لیے شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف نہ کرے، ایک کوتاہی تو یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو گہرائی سے اور اچھی طرح جاننے کی کوشش نہیں کی، جس کی وجہ سے ہمارا عمل ادھورا اور ناقص ہے اور نتیجہ خیز نہیں ہے ،نہ پُرکشش ہے اور نہ متاثر کن۔
دوسری سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم نے غیر مسلم آبادی کو ٹھیک سے اسلام کی دعوت نہیں دی، اللہ کی طرف بلانے کا کام نہیں کیا؛ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں‘‘۔ (سورہ حم السجدہ، آیت33)
آیت نمبر 33سے پہلے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ ’’اللہ کی بندگی پر ثابت قدم رہنا اور اس راستے کو اختیار کرنے کے بعد پھر اس سے منحرف نہ ہونا بجائے خود وہ بنیادی نیکی ہے، جو آدمی کو فرشتوں کا دوست اور جنت کا مستحق بناتی ہے، اب ان کو بتایا جارہا ہے کہ آگے کا درجہ جس سے زیادہ بلند کوئی درجہ انسان کے لیے نہیں ہے، یہ ہے کہ تم خود نیک عمل کرو اور دوسروں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاؤ اور شدید مخالفت کے ماحول میں بھی، جہاں اسلام کا اعلان و اظہار کرنا اپنے اوپر مصیبتوں کو دعوت دینا ہے، ڈٹ کر کہو کہ میں مسلمان ہوں، اس ارشاد کی پوری اہمیت سمجھنے کے لیے اس ماحول کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے جس میں بات فرمائی گئی تھی۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ جو شخص بھی مسلمان ہونے کا اظہار کرتا تھا اسے یکایک یہ محسوس ہوتا تھا کہ گویا اس نے درندوں کے جنگل میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں ہر ایک اسے پھاڑ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔ اور اس سے آگے بڑھ کر جس نے اسلام کی تبلیغ کے لیے زبان کھولی ،اس نے تو گویا درندوں کو پکار دیا کہ آؤ اور مجھے بھنبھوڑ ڈالو۔ ان حالات میں فرمایا گیا ہے کہ کسی شخص کا اللہ کو اپنا رب مان کر سیدھی راہ اختیار کرلینا اور اس سے نہ ہٹنا بلا شبہ اپنی جگہ بڑی اور بنیادی نیکی ہے؛ لیکن کمال درجے کی نیکی یہ ہے کہ آدمی اٹھ کر کہے کہ میں مسلمان ہوں اور نتائج سے بے پروا ہوکر اللہ کی بندگی کی طرف خلق خدا کو دعوت دے اور اس کام کو کرتے ہوئے اپنا عمل اتنا پاکیزہ رکھے کہ کسی کو اسلام اور اس کے علمبرداروں پر حرف زنی کی گنجائش نہ ملے‘‘۔
میرے خیال سے اسلام کے مخالفین کو اسلام کی دعوت دینا ضروری ہے، اس کے بغیر ہمارا دینی فریضہ پورا نہیں ہوگا، اگر ایسا نہیں کریں گے، تو اللہ کی بارگاہ میں ہمارا مواخذہ ہوگا، کے ایس سدرشن کے بارے میں داعی اسلام مولانا کلیم الدین صدیقی کی ’یو ٹیوب‘ میں ایک تقریر ہے ،جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان نوجوانوں سے ان کی ملاقات ہوئی ہے، جو کے ایس سدرشن سے ملتے تھے، مولانا صدیقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلور کے اس شخص سے بھی ملاقات ہوئی ،جس کی موجودگی میں سدرشن جی نے کلمۂ حق پڑھا اور اسلام قبول کیا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068