کونسل کو بدعنوانی سے دور رکھنے کے لیے شفافیت برتی جائے گی


قومی کونسل کے صدر دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر کا خطاب
نئی دہلی(16 اکتوبر) :کونسل کو بدعنوانی اور بے ایمانی سے دور رکھنے کے لیے ہر کام میں شفافیت برتی جائے گی۔ ماضی میں اس حوالے سے شکایتیں آئی تھیں ، کونسل اسے دور کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ مدارس میں کمپیوٹر سینٹرس دینے کی کوشش کریں گے؛ تاکہ اردو جاننے والے بچے عصری ٹکنالوجی سے جڑ سکیں، کونسل کا صاف موقف ہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم ہے، اگر کسی بھی سینٹر سے رشوت دینے کی بات آئے گی، تو وہ سینٹر ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا، میں ایمانداری اور دیانتداری کا قائل ہوں اور اس پر قائم رہتے ہوئے اردو کے فروغ کی کوشش کروں گا، یہ باتیں صدر دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے نومنتخب ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہیں۔انھوں نے کہا کہ قومی اردو کونسل جلد ہی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کرے گی، جس میں عالمی سطح کے باصلاحیت دانشوروں اور ادیبوں کو دعوت دی جائے گی، ہم ایسے ادیبوں سے رجوع کریں گے ،جن کی اردو زبان و ادب کے فروغ میں قابل ستائش خدمات ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ کونسل کا ایک اہم پروگرام کتاب میلہ ہے، اس حوالے سے بھی اردو زبان و ادب کا فروغ ہو رہا ہے اور خاص کر ایسی نادر و نایاب کتابیں، جن تک اردو قارئین کی رسائی ممکن نہیں، کونسل ان شہروں تک ایسی کتابیں دستیاب کرائے گی۔کونسل اب تک بڑے شہروں میں جن پروگرام کا انعقاد کرتی آ رہی تھی، اب یہ پروگرام ریاستوں میں ضلعی سطح پر کرانے کی بات کہی گئی ہے؛ تاکہ عام لوگ اردو سے قریب ہو سکیں اور اردو کی رسائی گھر گھر تک ہو سکے۔
قومی اردو کونسل کی کی کارکردگی اور اس کی اسکیم سے متعلق دہلی جیسے بڑے شہروں میں لوگوں کو اس کی جانکاری ہو سکتی ہے ؛لیکن چھوٹے شہروں، گاؤں اور قصبوں میں اس کے تعلق سے بہت کم لوگ جانتے ہیں؛ لہٰذا ہندوستان کے گوشے گوشے میں کونسل اور اس کی کارکردگی اور مختلف اسکیموں اور سرگرمیوں سے متعلق جانکاری دینے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو کہا ہے کہ ہندوستان کی تمام ریاستوں میں کم سے کم 100 سمینار/ ورکشاپ کرنے کی منظوری دی جائے؛ تاکہ ہندوستان کے دور دراز علاقے میں رہنے والے عوام بھی کونسل کی کارکردگی سے بخوبی واقف ہو سکیں۔ خاص طور پر شمال مشرقی ریاستوں میں اردو تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ان کا کہناتھا کہ ہم ابن صفی کے ناولوں کے طرز پر داستانوں کی ایک سیریز شائع کریں گے،ہم ہندوستان کی عظیم شخصیات کی سوانح حیات بھی شائع کریں گے، جس سے ہماری نئی نسل مستفیض ہو سکے اور ان کے کارناموں سے تحریک حاصل کر سکے۔ بچوں کے لیے ہندوستان کی تہذیب و ثقافت سے متعلق کتابیں شائع کرے گی، اردو سکھانے والی کتابیں دیگر علاقائی زبانوں میں بھی شائع کی جائیں گی،اس کے علاوہ این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو بھی شائع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔