’کم از کم آمدنی‘ ضرورتمندوں تک پہنچاناضروری


ڈاکٹر منور حسن کمال
مرکزی حکومت نے بے روزگاروں اور معمولی اراضی والے کسانوں کیلئے جو وظائف کے اعلانات کئے ہیں ، ان پر اگر چہ بڑے مباحثے نہیں ہوئے ، لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرف سے یہ آواز ضرور اٹھی ہے کہ برسراقتدار حکومت اس اعلان کا عام انتخابات 2019میں فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اگریہ مان لیا جائے توبھی فائدہ توبے روزگاروں اور کسانوں کا ہی ہونے والا ہے، جو لوگ مخالفت برائے مخالفت کے قائل ہیں انہیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ حکومت نے آخری دور میں ہی سہی بے روز گاروں اور کسانوں کی امداد کے لئے اعلانات تو کئے۔سیاسی گلیاروں میں یہ بات بھی گشت کررہی ہے کہ کانگریس کے تین ریاستوں میں کسانوں کے قرض معاف کرنے کے اعلان اور پھر اس پر گارکر کارروائی کے بعد مرکزی حکومت نے اس کے جواب میں یہ قدم اٹھایا ہے۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ کسی بھی حکومت سے مجموعی طور پر عوامی مفاد میں اس وقت فوائد حاصل ہوتے ہیں ، جب حزب اختلاف مضبوط ہو، حزب اختلاف مضبوط ہوتاہے اسی وقت حزب اقتدار عمومی سطح پر عوامی مفاد کے فیصلے جلد جلد لیتی ہے۔حزب اختلاف میں ذرا جان آتی ہے تو عوامی مفاد کے فیصلے بھی ہورہے ہیں۔
ویسے ان دنوں دنیا کے کئی ممالک میں بھی بی ایم آئی (بیسک منمم انکم) پرگفتگو ہورہی ہے۔ بعض ممالک نے اس پر عمل بھی شروع کردیاہے۔ حکومت نے جو(کم از کم زمین والے)کسانوں کے لئے جن کی تعداد تقریباً 12کروڑہے، 6ہزار روپے سالانہ دیے جانے کا اعلان کیاہے۔ اس کو بی ایم آئی کی ہی ایک شکل کے طور پر دیکھا جارہاہے، جو ملک کے تمام شہریوں کو سماجی مفاد کے زمرے میں ان کا حصہ ادا کرنے کی گارنٹی دیتاہے۔غریبی اور بے روزگاری سے نمٹنے میں حکومت کی بڑی حد تک ناکامی نے اسے بی ایم آئی کی پہل کے لئے سوچنے اور اس پر عمل آوری کے لئے زمینی سطح پر اس کے ذہن کو تیار کیاہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خاندان کو حکومت کی سطح پر اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔یادرکھنا چاہئے کہ اوسط سے کم آمدنی والے اور معمولی زرعی زمین والے کسانوں کے لئے ہی یہ اسکیم ہے اور انہیں اس کے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ذمہ دارشہریوں ، اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے افسروں اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساتھ سماجی معاونین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے اس منصوبے کو اس کے جائز افراد تک پہنچائیں اور اگر کوئی غیر ضرورت مند اس منصوبے سے فائدہ اٹھارہاہے یا اٹھانے کی کوشش میں ہے تو اس کو سمجھائیں، ورنہ قانونی سطح پر اس کو اس کی حیثیت سے آگاہ کرائیں۔
خط افلاس سے نیچے کی آبادی اور جنہیں حکومت نے غریب تسلیم کیا ہے یعنی تقریباً آٹھ لاکھ روپے سے کم سالانہ آمدنی والے خاندانوں کو اس کا فائدہ یقینی بنانا چاہئے۔ اس کا ایک فوری فائدہ تو یہ ہوگا کہ عام انتخابات کے اعلان سے قبل اگر ان کی امداد شروع ہوگئی تو پھر یہ جاری رہے گی۔وگرنہ عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوجائے گا اور ضرورت مند اس منصوبے کے فوائد حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔
جب ہم حکومت کے اس منصوبے پر غور کرتے ہیں اور تاریخ کے صفحات کھنگالتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سب سے پہلے جس حکومت نے ہرشہری کے لئے کم از کم آمدنی اور اخراجات یقینی روٹی، کپڑا اور مکان کا اعلان کیا وہ عالم اسلام کی اولین مملکت حجاز یعنی آج کا سعودی عرب تھی۔دنیا میں سب سے پہلے اسلامی حکومت کے خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیقؓ نے کم از کم آمدنی اور روزگار کی گارنٹی کے طور پر اپنی مملکت کے ہر شہری خواہ مرد ، عورت اور یہاں تک کے بچوں کو بھی دس درہم سالانہ وظیفہ دینا شروع کیاتھا۔ جسے بعد میں بڑھا کر 20درہم کردیاگیاتھا۔یہ درہم ان کی کفالت کے لئے کافی ہوگئے تھے،پھر اس کے تقریباً گیارہ سوبرس کے بعد 1795میں تھامس پائن نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شہریوں کے لئے اراضی کی جائداد کا آغاز کیا اور اس کے قدرتی حقوق یا نقصانات کے معاوضہ کی وکالت کی۔ فرانسیسی ایمپائر نیپولین بونا پارٹ جس کے مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں،اس نے بھی انسان کی ضرورتوں اور اس کے حقوق کی وکالت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ زمین کی پیداوار کے حصے پر انسان کا پیدائشی حق ہے۔امریکی اقتصادیات کے ماہر ہینری جارج نے ٹیکس کے ذریعہ حاصل ہونے والے ریونیوسے سبھی شہریوں کو فائدہ پہنچانے کی وکالت کی ہے۔رابرٹ تھوبالڈ نے ’فری مین اینڈ فری مارکیٹ‘ نامی کتاب لکھی جس میں انہوں نے کم از کم آمدنی کے فوائد کی وکالت کی۔1987میں نیوزی لینڈ کے وزیرمالیات محنت روجر ڈگلس نے کمزور طبقات کے غریبوں کے لئے ایک نئے فلیٹ ٹیکس کے ساتھ کم از کم آمدنی کے منصوبے کا اعلان کیا۔حالانکہ اس وقت کے وہاں کے وزیراعظم ڈیوڈ لینگ نے دونوں سفارشوں کو چھوڑ دیاتھا۔سائپرس حکومت نے جولائی 2013نے اپنے ملک کے شہریوں کو کم از کم آمدنی کا منصوبہ بنایا۔فرانس 1988سے کم از کم آمدنی کا حق دینے والے ملکوں میں شامل ہے۔2009میں اسے ریونیو ڈی سالیڈے ریٹ ایکٹو(Revenu de solidarite active) کے نام سے بدل دیاگیا۔
مرکزی حکومت نے جو اعلانات کیے ہیں اس کے لئے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا ہے ، جہاں تک کسانوں کا معاملہ ہے تو جن کے پاس ایک ہیکٹےئرسے کم اراضی ہے ، اس کے لئے16-2015کی کسان آبادی کو بنیاد بنایاگیاہے۔ یہ امداد اگر چہ کسانوں اور بے روزگاروں کو براہ راست پہنچانے کے انتظامات کئے جارہے ہیں ، لیکن سیاسی گلیاروں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ امدادی رقم خاندان کے کس رکن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی جائے ، تاکہ اس کا فائدہ اس کے ضرورت مندوں کو راست طور پر مل سکے۔ اس کے لئے بہتر ہوگا کہ خاندان کی ایسی خاتون کو منتخب کیاجانا چاہئے ، جو گھر کا خرچ چلاتی ہے۔اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ رقم آخری حد تک خردبرد ہونے سے محفوظ رہے گی اور ضرورت کے مطابق ہی خرچ ہوگی۔اس لئے کہ ریسرچ میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ عورتیں بچوں کی تعلیم اور صحت پر آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرتی ہیں۔ اس کی اہمیت کے لئے عام طور پر ہندوستان کا شہری ہونا اور ایک معمولی سے ٹسٹ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی سطح پر جو کوششیں ہوتی ہیں انہیں ضرورت مندوں تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، خاص طور پر یہ ذمہ داری اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے ، جب ہمارے ارد گرد ایسے ضرورت مندوں کی تعداد کثیر ہو اور وہ اپنی کھانے پینے جیسی ضرورتیں بھی پوری نہ کرپارہے ہوں۔اگر اس ضررت کو ہم اپنی ضرورت سمجھتے ہوئے اس پر عمل کریں اور جیسا کہ شریعت کا قانون ہے کہ زکوٰۃ، صدقات اور امداد ایسے ضرورت مند افراد تک پہنچائی جائے ، جو غریب اور مفلس ہوتے ہوئے بھی کسی سے کچھ طلب نہیں کرتے اور سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہیں، حقیقتاً وہی اس کے حق دار ہیں۔