کل کی مجرمہ خاتون!

ناصررامپوری مصباحی
کچھ متعصب ٹی وی چینلز کل کے واقعہ میں یک طرفہ طور پر محض مولانا قاسمی کو ہی مجرم ٹھہرا رہے ہیں کہ انہوں نے کیسے ایک خاتون پر ہاتھ چھوڑ دیا،جب کہ اصل سوال یہ ہے کہ بحث میں اپنی خفت کا احساس ہوتے دیکھ آخر کیسے ایک خاتون نے لائیو شو میں ایک عالم پر ہاتھ چھوڑ دیا؟ اور کیسے اپنا آپا کھو دیا؟
جب کہ وہ سپریم کورٹ کی وکیل بھی بتائی جارہی ہے، ایسے میں مزید سوال بنتا ہے کہ ایک طرف وہ دوسرے کو شدت پسند کہتی ہے اور خود کو متمدن سمجھتی ہے،اتنی ذمے دار تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے اس نے اتنی گری حرکت و جہالت اور بدتمیزی کیسے کی؟ کیسے ایک وکیل ہوتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے کی جرات کی؟ کیا اس نے قانون کی ڈگری اسی بات کی لی ہے کہ برسرعام قانون و اخلاق کی دھجیاں اُڑائی جائیں؟
کیا سپریم کورٹ جیسی معزز جگہ میں قانون کی بات کرنے والا کوئی شخص آخر اتنا زیادہ شارٹ ٹیمپرڈ نکل سکتا ہے کہ اسے اتنا بھی ہوش نہیں رہا کہ اس کی اپنی قانونی ضروری حدود کیا ہیں؟
اس لیے دیکھاجائے تو اصل مجرم یہی خاتون وکیل ہے، زیادہ سخت کاروائی اسی خاتون کے خلاف ہونا چاہیے؛ کیوں کہ اس نے قانون کو جانتے ہوئے اس کی شدید ترین خلاف ورزی کی، رہی یہ بات کہ ایک عالم نے خاتون پر ہاتھ اٹھایا،
تو اس سے زیادہ غلط جرم یہ ہے کہ ایک خاتون نے ایک عالم پر ہاتھ اٹھایا اور نہ صرف ہاتھ اُٹھایا؛بلکہ اس قانونی جرم کی پہل بھی کی؛ لہذا جب ایک ایجوکیٹڈ خاتون نے ہی بد تمیزی کر ڈالی،تو پھر اُسے اپنے لیے بھی اس سے کم کی توقع نہیں رکھنا چاہیے تھی،جو اس کے ساتھ ہوا،حالاں کہ ہم مولانا قاسمی کے تجاوزِ حدود کو جائز نہیں ٹھہراتے؛کیوں کہ انہیں خود انتقام نہ لے کر قانون کا سہارا لینا چاہیےتھاـ
یاد رہے ہمارے سماج میں کسی بھی خاتون کی خصوصی عزت و رعایت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ عموماً سماج میں مظلوم رہی ہے، پس ہم اسے خوصوصی حوصلہ اور رعایت دے کر ضروری سطح تک باحوصلہ اور غیر مظلوم دیکھنا چاہتے ہیں؛
لیکن اس کے بر خلاف وہی خاتون اگر مظلومیت کے احساس سے نکل کر ظالم بننے کی ڈگر پر چل پڑے اور وہ بھی وہ ذمہ دار خاتون جو اپنی نوعِ نسواں کی مظومیت کی دہائی لے کر انصاف کے مندر میں درخواست گزار ہے،اگر ایسی کوئی ذمہ دار خاتون لائیو ٹی وی شو تک کی پروا کیے بغیر وِلن بن جاتی ہے،غنڈا گردی کرتی ہے اور مار پیٹ کرنے میں حصہ ہی نہیں لیتی؛بلکہ پہل بھی کرتی ہے،تو بے شک وہ کئی اعتبار سے بہت بڑی مجرم ہے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*