کسی کے باپ کا ہندستان تھوڑی ہے


عبدالعزیز
آج (26جون) انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ نے صفحہئ اول پر ایک شہ سرخی لگائی ہے: "Mr.Nehru, now discover our India” (مسٹر نہرو اب ہمارے ہندستان کو دریافت کیجئے)۔ اس شہ سرخی کے نیچے تین ذیلی سرخیاں "What we say” (ہم کیا کہتے ہیں)، "What we do” (ہم کیا کرتے ہیں)،” "What we won’t see (ہم کیا نہیں دیکھتے)۔ شہ سرخی اور ذیلی سرخیوں کا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے پہلے وزیر اعظم مدبراور مصنف جواہر لعل نہرو نے ایک کتاب لکھی تھی "The Discovery of India” (ہندستان کی دریافت)۔ کتاب میں جواہر لعل نہرو نے اپنے زمانے کے ہندستان کا نقشہ کھینچا ہے اور حالات ِہند پر روشنی ڈالی ہے۔ اخبار مذکور ان سرخیوں کے ذریعے یہ بتانا چاہتا ہے کہ آج اگر ہمارے ملک پر جواہر لعل نہرو کتاب لکھتے تو وہ کتاب بالکل مختلف ہوتی۔ ملک کا وزیر اعظم کہتا ہے کچھ اور ہم کرتے ہیں کچھ اور جو کچھ ہورہا ہے اسے ہم دیکھتے بھی نہیں۔ مثلاً پارلیمنٹ میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کس قدر اچھی اور پرکشش تقریر کرتے ہیں۔ امن و امان کی بات کرتے ہیں۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ مودی کی ان تقریروں اور باتوں پر ایک اچھے وزیر اعظم کی تصویر سامنے آتی ہے، لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں یا ہم کیا کرتے ہیں؟ اس پر مودی جی کی نظر بعض وجوہ سے پڑنے سے قاصر ہے۔
ضلع چوبیس پرگنہ کے ایک عربی مدرس حافظ محمد شاہ رخ ہلدار (23)، 20جون کو جب وہ کیننگ سے ہگلی مدرسہ جارہے تھے تو ’ہندو سمہتی‘ جو آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم ہے اس کے لوگوں نے حافظ محمد شاہ رخ کو گھیر لیا اور یہ پوچھنے لگے تمہارے سر پر ٹوپی کیوں ہے؟ چہرے پر داڑھی کیوں ہے؟ تم کرتا کیوں پہنے ہوئے ہو؟ تم یہ سب پہن نہیں سکتے۔ تم کو ’جئے شری رام‘ بولنا ہوگا۔ ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں 20 سے 25 لوگ تھے۔ جب ٹرین سیالدہ سے قریب پارک سرکس اسٹیشن پر پہنچی تو حافظ محمد شاہ رخ کو فرقہ پرستوں نے ٹرین سے دھکیل دیا۔وہ زخموں سے چور چور ہوگئے۔ اب تک نہ ریلوے پولس نے شرپسندوں کو پکڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی پولس کی دیگر ایجنسیوں نے شرپسندوں کی کھوج خبر لی۔ جمشید پور میں تبریز انصاری کے ساتھ اسی طرح کی واردات ہوئی اور اسے ’جئے شری رام‘ نہ بولنے پر بے دریغ مارا پیٹا گیا اور پولس حراست میں اس کی جان چلی گئی۔
نریندر مودی کو اخبار مذکور یہ بتا رہا ہے کہ آپ کی اچھی اچھی باتوں سے ملک پر کتنا برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ اچھی بات کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے لوگ آپ کو دیوتا سمان مانتے ہوئے ملک میں خلفشار اور فساد برپا کرتے ہیں۔ اس کو آپ اپنے لئے، اپنی پارٹی کیلئے اور اپنی حکومت کیلئے بہتر سمجھتے ہیں۔ مغربی بنگال میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا تھا لیکن موجودہ حکومت کو گرانے اور مغربی بنگال پر سیاسی قبضہ کرنے کیلئے یہاں بھی وہی سب کچھ ہونے لگا ہے جو ملک کی ان ریاستوں میں ہورہا ہے جہاں بی جے پی کی سرکار ہے اور یا اس کی ملی جلی سرکار ہے۔ روزنامہ ’ٹیلیگراف‘ بتانا چاہتا ہے کہ جواہر لعل نہروزندہ ہوتے تو ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں ہندستان کی یہ صورت حال ضرور درج ہوتی۔
شہ سرخی کے نیچے ذیلی سرخیوں میں آخری سرخی ’ہم کیا نہیں دیکھتے ہیں‘کے تحت ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موئیترا کی وہ تقریر درج ہے جو انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں پارلیمنٹ میں کی ہے۔ انھوں نے تقریر کے شروع میں یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ مودی جی آپ بھاری مینڈیٹ سے جیت کر آئے ہیں، لہٰذا کچھ ہمارے گلے اور شکوے بھی سن لیجئے۔ وہ یہ ہیں کہ ہندستان جل رہا ہے۔ فرقہ پرستی و فسطائیت کی طرف تیزی سے بھاگ رہا ہے۔ موئیترا نے 7 خطرناک علامتوں کا ذکر کیا، جس سے ملک پارہ پارہ ہورہا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کے ’ہولوکاسٹ میموریل میوزیم‘کی دیوار پر ایک چسپاں پوسٹر کا حوالہ دیا، جس میں آمریت و فسطائیت کی نشانیاں درج ہیں۔ (مطلب یہ ہے کہ مودی کی حکومت آمریت اور فسطائیت کا بھرپور مظاہرہ کر رہی ہے جو انتہائی شرمناک و افسوسناک ہے)۔
انھوں نے جب فسطائیت کی سات علامتوں کو ایک ایک کرکے پیش کیا اور بیچ بیچ میں اردو اور ہندی زبان سے اپنے مافی الضمیر کو بیان کیا تو ایوان پر سکتہ طاری ہوگیا۔ صرف اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ ہی نے نہیں؛ بلکہ این ڈی اے کے بعض ممبرانِ پارلیمنٹ نے بھی تالیوں سے محترمہ موئیترا کی تقریر کا خیر مقدم کیا۔ محترمہ مہوا موئیترا نے کہاکہ اچھے دن آگئے ہیں اور آپ کی اس سلطنت میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا؛ لیکن آپ کو اندازہ ہونا چاہئے اس کے (اچھے دن کے) کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ آنکھیں کھول کر دیکھئے کہیں اچھے دن کے آثار دکھائی نہیں دیں گے بلکہ آج جو کچھ بھی ملک میں ہورہا ہے اس میں ملک کا آئین پر حملے ہورہے ہیں۔ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مرکز پر تشدد، قوم پرستی اور ہجوم پر مشتمل زہر آلود قومیت پرستی پھیلانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ملک کو متحد رکھنے کے بجائے تقسیم کی کوشش کی جارہی ہے۔ این آر سی اور شہریت بل کا تذکرہ کرتے ہوئے کرشنا نگر کی رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ یہ مودی حکومت صرف مسلمانوں کو ٹارگٹ کررہی ہے تاکہ وہ مجبور و بے بس ہوجائیں۔ ملک کو توڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر انھیں غیر قانونی در انداز قرار دیا جارہا ہے۔ جو لوگ پچاس برس سے اس ملک میں رہ رہے ہیں انھیں خود کو ہندستانی ثابت کرنے کیلئے ایک کاغذ کا ٹکڑا دکھانے کی ضرورت پڑگئی ہے۔ یہ ایسے ملک (ہندستان) میں ہورہا ہے جہاں کے وزراء یا پارلیمنٹ رکن خود اپنی تعلیمی ڈگری د کھانے سے قاصر ہیں تاکہ یہ ثابت ہوسکے کہ وہ کس کالج سے گریجویٹ ہوکر ایوان پہنچے ہیں۔ مہوا موئیترا کا اشارہ براہ راست نریندر مودی اور اسمرتی ایرانی کی طرف تھا۔ ایسے ہی کم پڑھے لکھے لوگ عام شہریوں سے شہریت ثابت کرنے کیلئے کاغذ کا ٹکڑا مانگتے پھر رہے ہیں۔
محترمہ موئیترا نے اپنی تقریر کا اختتام اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کی ایک مشہور غزل کے دو اشعار پڑھ کر کیا:
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایہ دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
سبھی کا خون شامل ہے یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندستان تھوڑی ہے
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068