کروڑی مل کالج میں اردو کی موجودہ صورت حال پر یک روزہ سیمینارکاانعقاد


دہلی:29/جنوری(پریس ریلیز)
دہلی یونیورسٹی کے کروڑی مل کالج میں اردو زبان و ادب کی موجودہ صورت حال پر یک روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں قاہر ہ یونیورسٹی مصر، جامعہ الازہر ، عین شمس یونیورسٹی اور بیرون ملک سے آئے ہوئے کئی دیگرمندوبین کے علاوہ ملک کی کئی یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے مہمانان نے موضوع کی مناسبت سے مقالے پیش کیے۔ تقریب کی صدارت پروفیسر شہاب عنایت ملک، صدر شعبہ اردو و ڈین آف آرٹس فیکلٹی جموں یونیورسٹی نے کی۔ پروفیسر موصوف نے جموں و کشمیر میں اردو زبان و ادب کے آغاز و ارتقاء کے ساتھ ساتھ موجودہ صورت حال اور درپیش مسائل کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے کئی طرح کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جموں و کشمیر ملک کی واحد ریاست ہے جس کی سرکاری زبان اردو ہے اور اسی اردو نے تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے الگ الگ ریاست کے تینوں خطوں کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے رکھا ہے۔ جب تک ریاست میں اردو زبان باقی ہے ریاست کے تینوں حصے ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے۔ اس لیے عوام کے ساتھ ساتھ سرکار کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اردو کی بقا کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ عین شمس یونیورسٹی قاہرہ مصر سے تشریف آور ہوئیں اردو کی استاد ڈاکٹر مروہ لطفی ہیکل السباعی نے مصر کی جامعات میں اردو کی درس و تدریس سے متعلق ایک پر مغز مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر مروہ نے مصر میں اردو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 80 سال سے مصر میں اردو زبان و ادب کا چلن جاری ہے ۔ مصر میں طالب علموں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی اردو شعر و شاعری سے شغف خوش آئند ہے۔ شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر مشتاق حیدرؔ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبان تہذیب و ثقافت کا محفوظ خانہ ہوتی ہے ،اردو زبان کسی ایک خاص مذہب یا تہذیب سے وابستہ نہیں بلکہ اُس مشترکہ تہذیب کا آئینہ خانہ ہے جس میں گنگا جمنی رنگ چھایا ہوا ہے۔ اس لیے اردو کی ترقی و ترویج دراصل اُس خوبصورت ملی جلی ثقافت کی ترویج ہوگی جس کی بنیاد آپسی بھائی چارے اور رواداری پر رکھی گئی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے ڈاکٹر ندیم احمد کے مطابق یہ اردو زبان کی شیرینی ہے کہ جو ہر ایک کو اس کا گرویدہ بنا دیتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر آپ اپنی شخصیت کو نکھارنا چاہتے ہیں تو اردو سیکھیے۔ ذاکر حسین کالج ،دہلی سے وابستہ ڈاکٹر نوشاد عالم نے یورپ میں اردو زبان کے بڑھتے ہوئے چلن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یورپی ممالک میں اردو کی جو نئی بستیاں آباد ہورہی ہیں وہ مستقبل میں الگ الگ دبستانوں کی شکل اختیار کریں گیں۔کروڑی مل کالج کی پرنسپل اور سیمینار کی مہمان خصوصی پروفیسر وبھا سنگھ چوہان نے اردو سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے سامعین کو اس بات کی جانکاری دی کہ انہوں نے منٹو پر ایک کتاب لکھنے کے علاوہ افسانوی مجموعہ’ انگارے ‘ کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا ہے اور اس زبان کا جادو انہیں اس حوالے سے کچھ اور زیادہ کام کرنے کی طرف راغب کر رہا ہے۔ پرنسپل صاحبہ نے اس موقعہ پر یہ بھی اعلان کیا کہ اردو تدریس و تحقیق کے لیے کالج ایک بین جامعاتی بین الاقوامی مرکز قائم کرنے جا رہاہے، جس کے لیے کالج سے وابستہ اردوکے استاد اور آج کے سیمینارکے کنوینر ڈاکٹر محمد محسن صاحب نے ایک خاکہ پہلے ہی تیار کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر محسن صاحب نے اس بات کے لیے کالج انتظامیہ اور خاص طور پر پرنسپل صاحبہ کا شکریہ ادا کیا کہ ایسے سیمینار منعقد کرانے کے لیے انہیں ہر طرح کی معاونت کی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر محمد محسن صاحب نے فرما یا کہ ہم مستقبل قریب میں اس طرح کے مزید پرو گرام منعقد کرانے کے لیے پُر عزم ہیں، جس سے اردو زبان و ادب کی بیرونی سطح پر ترقی ہوگی ۔ مصر سے تشریف لائے جناب مصطفی علاؤالدین نے مصر میں اردو شعر و ادب کی موجودہ صورت حال پر مقالہ پیش کیا۔ سیمینار میں جن دیگر مقالہ نگار وں نے اپنے مقالے پیش کیے اُن میں دہلی یونیورسٹی سے وابستہ ریسرچ اسکالر غلام نبی ، عا مرنذیر ڈار ، عرفان الحق اورنازیہ کے علاوہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ مختار احمد شامل ہیں۔صدر شعبہ اردو کروڑی مل کالج ڈاکٹر محمد یحییٰ صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اردو زبان کی ہی کرشمہ سازی ہے کہ بلا تفریقِ مذہب و ملت سب میر و غالب اور فیض و فراز کو سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔ اردو سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بھی اُسے وہ پیار دیں جو پیار یہ ہم سب پر لٹا رہی ہے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد محسن نے ادا کیے ۔ ڈاکٹر مجیب احمد خان نے بیرونِ ملک سے آئے ہوئے مندوبین اور ملک کی مختلف جامعات سے تشریف لائے اساتذہ صاحبان، ریسرچ اسکالروں اور طلباء و طالبات کا شکر یہ ادا کیا۔