کتب بینی:چند رہنمااصول

ایلے کیپلن (معروف خاتون صنعت کار، دانش ور، لکھاری)

میں نے یہ بات بارہا کہی ہے کہ مطالعۂ کتب کامیابی کی کلید ہے؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے دولت مند اور کامیاب انسان مثلاً Bill Gates اور Elon Muskجیسے لوگوں نے کتابوں کو اپنا بہت سارا وقت دیاہے،مؤخرالذکرکاتویہ کہناہے کہ اس نے راکٹ بنانے کا طریقہ کتابوں کے ذریعے ہی حاصل کیا،دوسری طرف متعددمطالعات و تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ مطالعہ انسان کے ذہنی دباؤ کودور کرتا،ارتکازی قوت کو بڑھاتااور طویل المیعادوقصیرالمیعادیادداشت کی قوت میں اضافہ کرتاہے۔ ریڈنگ Musclesکولچک داربنانے کے فوائد واضح ہیں،البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پڑھنے کا عمل وقت طلب ہے اور ایک مصروف زندگی میں کسی شخص کا مطالعے کے لیے وقت نکالنا اور پھر محدود ترین وقت میں اس سے فائدہ اٹھاناناممکن سا لگتا ہے۔
ہارورڈبزنس ریویواور دیگر ماہرین نے اسی وجہ سے کچھ ایسی ٹپس اور طریقے دریافت کیے ہیں،جنھیں استعمال کرنے سے مطالعہ نہ صرف آپ کا روزکامعمول بن سکتاہے؛بلکہ آپ اپنے پڑھنے کی مقدار و منفعت میں بہت زیادہ اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔مثال کے طورپرذیل میں کتب بینی کی عادت کو فروغ دینے والے سات عملی طریقے آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں:
۱۔ہرکتاب کومکمل پڑھنا ضروری نہیں!
کبھی کبھی میں کسی کتاب کا مطالعہ شروع کرتی ہوں،پھرپتالگتاہے کہ اس کے مطالعے میں مجھے مزانہیں آرہایااس میں کچھ خاص پرمعنی موادنہیں ہے،مگراس کے باوجود میں اسے پڑھنے میں اپنی طاقت صرف کرتی ہوں؛کیوں کہ میں کسی کتاب کوبیچ سے نہیں چھوڑنا چاہتی۔
بیسٹ سیلنگ کتاب Happiness Project کی مصنفہ اور ہارورڈبزنس رویومیں ہیبٹ ایکسپرٹ مسزGretchen Rubinکاماننایہ ہے کہ اس قسم کی ذہنیت کہ میں ایک حوصلہ مند انسان ہوں اور ایک کام شروع کرنے کے بعداسے درمیان میں چھوڑنہیں سکتا،مطالعے کے عمل میں مفید نہیں ہوتی؛چنانچہ ان کا مشورہ ہے کہ آپ بے لطف کتاب کوجتنی جلدی چھوڑدیں،اس سے آپ کو اتناہی زیادہ اچھی کتابیں پڑھنے کا وقت ملے گااوربے فائدہ کتاب پر آپ کا وقت کم سے کم خرچ ہوگا۔اسے آپ یوں بھی سوچ سکتے ہیں کہ ہر سال لگ بھگ پچاس ہزار کتابیں شائع ہوتی ہیں،توآپ ایسی کتابوں پر اپنا وقت کیوں ضائع کریں،جنھیں پڑھنے میں آپ کو لطف نہیں آرہا؟اگرآپ کوکوئی ناول پڑھنے میں اچھانہیں لگ رہا،توبغیر کسی احساسِ جرم کے آپ اس سے چھٹکاراحاصل کریں اور کوئی دوسری کتاب پڑھیں!
۲۔وقت توبہت ہے!
بطورمصنف اپنی بے مثال کامیابیوں کومطالعۂ کتب کانتیجہ بتانے والےStephen King اپنے مداحوں سے کہتے ہیں کہ اگر وہ ان کے نقشِ قدم پر چلناچاہتے ہیں،توروزانہ پانچ گھنٹے پڑھاکریں۔قلتِ وقت سے دوچاربزنس وومن کے طورپر مجھے سٹیفن کنگ کی یہ تجویز سن کر پہلے تو ہنسی آئی،پھر ہارورڈ بزنس ریویوکے ذریعے پتاچلاکہ کنگ کیسے اپنے گھر اورگھر کے باہر مطالعے کا اہتمام کرتے ہیں،مثال کے طورپر Red Sox گیم کے دوران بھی وہ مسلسل مطالعے میں مصروف رہتے ہیں۔
عام چلنے پھرنے ؍تفریح کرنے والے لوگ اُس شخص کو مجنوں سمجھیں گے،جوپارک میں بھی کتابیں لے کر پہنچ جائے؛لیکن اگر انھیں معلوم ہوجائے کہ ایسی ہی عادت کی وجہ سے سٹیفن کنگ کی دنیابھرمیں اب تک تین سوپچاس ملین(۳۵؍کروڑ)کتابیں فروخت ہوچکی ہیں،توآیندہ وہ ضرور اپنے ساتھ کوئی کتاب لے کر جائیں گے۔ Parishaکاکہناہے کہ’’دن بھر میں ایسے بہت سے منٹس مخفی ہوتے ہیں،جومل کربہت سارے منٹس میں بدل جاتے ہیں‘‘۔میں یہ نہیں کہتی کہ آپ اپنے کسی عزیز کی شادی میں بھی کتاب لے کر پہنچ جائیں،ہاں یہ ضرور ذہن میں رکھیں کہ ہر جگہ پڑھنے اور مطالعہ کرنے کے لیے تھوڑے بہت مواقع ضرور میسرآجاتے ہیں۔
۳۔یکسو رہیں!
سائنس کامانناہے کہ اگر آپ کوئی کام کررہے ہیں اور اس دوران آپ کا دھیان کسی اورطرف بٹ گیا،توآپ کے کام کانتیجہ الٹاہو سکتاہے اور آپ کی کامیابی کا چانس کم سے کم ہوسکتا ہے۔۲۰۰۹ء کی ایک تحقیق کے مطابق جب اُن طلبانے،جو سائیکولوجسٹ بننا چاہتے تھے،اپنے لیے معاون سرگرمیوں کی تفصیلات لکھیں اور انھیں Experimenterکے ساتھ شیئرکیا،توخودوہ ان سرگرمیوں کو اچھی طرح انجام نہیں دے سکے،جب کہ ان کے مقابلے میں دوسراگروپ،جس نے اپنی سرگرمیاں کسی کے ساتھ شیئر نہیں کی تھیں،اس نے انھیں اچھی طرح انجام دیا۔جب لوگ اپنے کسی کام کا مقصد دوسروں سے شیئر کرتے ہیں،تواس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود محنت نہیں کرنا چاہتے،پس اگر آپ نے طے کیاہے کہ زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں،توآپ اپنےGoal تک پہنچنے کے لیے اس کا اظہاربھی کرسکتے ہیں،اسے لکھ بھی سکتے ہیں،مگر اس کا علم صرف آپ کوہو،کسی اور کواس میں شریک نہ کریں۔
۴۔ذہنی ارتکازہونا چاہیے:
معروف بلاگرNeil Pasrichaنے اپنے گھر میں اس کا انتظام یوں کیاہے کہ ٹیلی ویژن کو بیسمنٹ میں پہنچادیااور بک شیلف کواپنے سامنے رکھا،ہارورڈ بزنس ریویوکے مطابقPasrichaنے ماہرنفسیات Roy Baumeister کے "Chocolate chip cookie and radish "نامی تجربے سے فائدہ اٹھایا،جس میں بھوکے افراد کی ایک جماعت کوایک لمبی پہیلی حل کرنے دی گئی اور اسے کھانے کے لیے کچھ بھی نہ دیاگیا،جبکہ ایسے ہی لوگوں کی ایک دوسری جماعت کوکچھ بسکٹس دیے گئے(اورانھیں کھانے سے منع کیاگیا) متوقع طورپر بسکٹ والے گروپ نے جلدی ہاتھ اٹھادیا؛ کیوں کہ اس نے اپنی ساری طاقت بسکٹ سے دور رہنے میں صرف کردی تھی۔
۵۔مطبوعہ کتابیں پڑھیں:
ذہنی ارتکازکے سلسلے میں یہی مشورہ ای۔بکس کے بالمقابل مطبوعہ کتابوں کے پڑھنے کے حق میں نافذالعمل ہونا چاہیے۔آپ کے ہاتھ میں کوئی ’’محسوس‘‘ کتاب ہو،یہ زیادہ بہتر اور آپ کی توجہ وقوتِ ارادی کومرکوزکرنے والاہے،بالمقابل اس کے کہ آپ کے پاس کوئی ایسا ڈیوائس (موبائل،ٹیبلیٹ،لیپ ٹاپ وغیرہ)ہو،جوانٹرنیٹ سے کنکٹ ہواور اس میں کتابیں بھی ہوں،جنھیں آپ پڑھیں،پھر اسی دوران ای میل چیک کرنے لگیں یاسوشل میڈیاپر مشغول ہوجائیں، اس سے یقیناً آپ کا ذہن منتشرہوگااور توجہ بٹ جائے گی،پھر آپ مطالعے سے کماحقہ مستفید نہیں ہوسکتے۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ ذہنی توجہ کا ارتکازمطبوعہ کتاب کے مطالعے کے مفید ہونے کی کئی وجوہات میں سے ایک ہے،ورنہ آج کل کے دور میں،جبکہ تمام تفریحی و کاروباری ذرائع سکرین پر منتقل ہوچکے ہیں،مطبوعہ کتاب کامطالعہ ذہنی تازگی ونشاط کے حصول میں بھی مفید ہے۔
۶۔اپناطرزِفکربدلیے!
میڈیاسٹریٹیجک اورمصنفRyan Holidayزوردیتے ہیں کہ ہم اگر زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہتے ہیں،تواس کے لیے ہمیں پہلے ’’پڑھنے‘‘سے متعلق اپنی سوچ کوبدلنا ہوگا،ان کاکہناہے کہ’’پڑھنے کے عمل کوکسی دوسرے عمل کی طرح نہیں سمجھناچاہیے کہ چاہاتوکیایانہیں کیا؛بلکہ یہ ہمارے فطری اور ضروری اعمال جیسے کھانے اور سانس لینے جیسا ہونا چاہیے‘‘۔ان کے مطابق’’آپ اس لیے نہیں پڑھتے کہ آپ پڑھنا چاہتے ہیں؛بلکہ عموماً غیر ارادی اور لاابالی پن کے ساتھ پڑھتے ہیں‘‘۔کامیابی کا خواب محض اس کے متعلق بات کرنے سے پورا نہیں ہوتا،اس کے لیے دقت پسندی کے ساتھ خاکہ سازی کی جاتی ہے، پھر محنت کی جاتی ہے،تب وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوتاہے،آپ بھی ایسا کرسکتے ہیں،اس طرح کہ اپنی مطالعے کی عادت کومنظم بنائیں،وقت کے مطابق ہدف مقررکریں اورانھیں روزانہ کے کاموں میں اول نمبر پر رکھیں۔
۷۔منتخب کتابوں کی فہرست بنائیں!
بسااوقات کوئی فیصلہ لینے میں غیر معمولی پریشانی درپیش ہوتی ہے،فیصلہ لینے کایہ عمل اس وقت آپ کی قوتِ ارادی پربھی بہت اثر انداز ہوتا ہے،جب آپ کوئی نئی عادت مثلاً مطالعہ و کتب بینی کو اختیار کرنا چاہتے ہوں؛چنانچہ اگر آپ ہرسال شائع ہونے والی ہزاروں کتابوں کوپڑھنا چاہیں،توایسا ہوتونہیں سکتا،البتہ اس چکر میں آپ کے دماغ کی دہی ہوجانی ہے،اسی وجہ سے ہارورڈبزنس ریویومطالعے سے قبل آپ کو منتخب کتابوں کی ایک فہرست بنالینے کا مشورہ دیتا ہے ،خوش قسمتی سے دنیاکے بڑے بڑے ثروت مند مثلاً بل گیٹس اور مارک زکربرگ اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرست شیئر کرتے رہتے ہیں،پس آپ گوگل پر چندمنٹ کی تلاش کے ذریعے مطالعۂ کتب کے سلسلے میں اپنے زمانے کے بڑے لوگوں کی پیروی کرسکتے ہیں۔
یہ عین ممکن ہے کہ ہم وارن بفیٹ کی طرح روزانہ پانچ سوصفحات نہ پڑھ سکیں یا بل گیٹس کی طرح سال میں پچاس کتابیں مکمل نہ کرسکیں،مگر ان طریقوں کو اختیار کرکے ہم سال بھر میں پہلے سے زیادہ کتابیں ضرور پڑھ سکتے ہیں،اپنی معلومات کاجائزہ لینے،ان میں اضافہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں اور کتب بینی کے سائنٹفکAdvantagesسے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
ترجمانی: نایاب حسن

  • شہباز رشید
    6 جولائی, 2018 at 10:37

    میں کس طرح اپنا مضمون سینڈکر سکتا ہوں

  • نایاب
    6 جولائی, 2018 at 11:48

    یہاں میل کریں:
    qindeelonline@gmail.com

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*