کانگریس وسی پی ایم کوممتا کی دعوتِ اتحاد کیوں پسند نہیں؟


عبدالعزیز
بی جے پی کا عروج بنگال میں جیسے جیسے بڑھتا جارہا ہے اسی طرح بدامنی اور فساد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بی جے پی کو یقین ہوگیا ہے کہ وہ سیاسی خونریزی اور فرقہ وارنہ فساد کے ذریعے ہی مغربی بنگال میں اقتدار کی کرسی پر فائز ہوسکتی ہے۔ 2019ء کے جنرل الیکشن میں مغربی بنگال میں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی نے فرقہ پرستوں کا حوصلہ بڑھا دیا ہے۔ ہجومی دہشت گردی کے واقعات بنگال میں سننے کو نہیں ملتے تھے لیکن اب مغربی بنگال میں وہی کچھ ہورہا ہے جو یوپی، بہا، ہریانہ، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ یا گجرات میں ہورہا ہے۔ بی جے پی کی براہ راست لڑائی اس وقت ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس سے ہے۔ بی جے پی اب مغربی بنگال میں حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہی ہے۔ کانگریس اور سی پی ایم بی جے پی سے بہت پیچھے ہو گئی ہیں۔ گزشتہ جنرل الیکشن میں مغربی بنگال میں سی پی ایم کو ایک سیٹ پر بھی کامیابی نہیں ملی، جبکہ کانگریس کو صرف دو سیٹوں پر کسی طرح کامیابی حاصل ہوئی۔ مذکورہ دو پارٹیوں کا حال بہت برا ہے۔ دونوں اپنے وجود کیلئے کوشاں ہیں۔ بنگال کی فکر شاید دونوں کو نہیں ہے کہ یہاں کیا کچھ ہورہا ہے۔ دونوں پارٹیاں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کو یکساں دشمن سمجھتی رہی ہیں۔
گزشتہ اسمبلی کے الیکشن میں دونوں پارٹیوں کا سیاسی اتحاد بھی ہوا تھا لیکن دونوں کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔ اس وقت بی جے پی بہت پیچھے تھی۔ مغربی بنگال اسمبلی کا الیکشن 2016ء میں ہوا تھا، اس وقت بی جے پی کا ترنمول کانگریس سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ کانگریس خاص اپوزیشن پارٹی تھی۔ اس کے بعد سی پی ایم کے ممبروں کی تعداد اسمبلی میں زیادہ تھی۔ بی جے پی کے ایک یا دو ایم ایل اے تھے لیکن ایک دو سال پہلے مغربی بنگال میں پنچایت کا الیکشن ہوا تھا جس میں بی جے پی ترنمول کے بعد دوسرے نمبر پر آگئی۔ کانگریس اور سی پی ایم کو بی جے پی نے بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اسی وقت سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اب لڑائی بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان ہوگی۔ خونریزی اور فساد کے بغیر کوئی پارٹی مغربی بنگال میں برسر اقتدار نہیں آئے گی۔ بی جے پی مغربی بنگال کی تاریخ سے پوری طرح واقف ہے۔ کانگریس، سی پی ایم یا ترنمول کانگریس کی جو لڑائیاں ایک دوسرے سے ہوئیں وہ سیاسی سطح پر ہوئیں، لیکن بی جے پی کی جو لڑائی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ صرف سیاسی نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ ہے۔ جس کی وجہ سے پولرائزیشن بڑھ گیا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ہی دونوں طرف سے مارے جارہے ہیں۔ اس حقیقت کو بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے بھی تسلیم کیا ہے۔ سی پی ایم یا اس کے لوگ خاص طور پر یہ سوچ رہے ہیں کہ اب وہ ترنمول کانگریس سے پنجہ آزمائی نہیں کرسکتے ہیں، اس لئے بی جے پی کے آنے سے ان کی تشویش میں اضافہ نہیں ہورہا ہے بلکہ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب بی جے پی آجائے گی تو ان کی اصل لڑائی میدان میں بی جے پی سے ہوگی۔ ترنمول کانگریس کمزور ہوجائے گی۔ اس کے بہت سے لوگ بی جے پی میں چلے جائیں گے۔ کم و بیش یہی حال کانگریس کا بھی ہوگا۔
جنرل الیکشن میں مارکسی پارٹی کے ورکروں کا نعرہ تھا ’پہلے رام، پھر بام‘ یعنی پہلے بی جے پی آجائے تو بایاں محاذ لڑ بھڑ کر اپنی جگہ بنالے گا۔ اس میں مارکسی پارٹی کے پالیسی ساز دور اندیشی اور دور بینی سے کام لے رہے ہیں، لیکن اگر وہ تریپورہ میں مارکسی پارٹی کے زوال پر نظر رکھیں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی کہ تریپورہ کے وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت مغربی بنگال کی مارکسی پارٹی اور یہاں کے آخری مارکسی وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ سے زیادہ بہتر اور کامیاب تھے لیکن بی جے پی سی پی ایم کے اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی اور ابھی تک وہاں سی پی ایم اپنی شکست سے ابھر نہیں سکی۔ آگے کیا ہوتا ہے کہاں نہیں جاسکتا۔ مغربی بنگال میں سی پی ایم کی چونتیس سال تک حکومت رہی، یہ بات یہاں کے عوام نہیں بھول پا رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سی پی ایم کو بہت دیکھ چکے {Enough is enough}۔کانگریس کو بھی یہاں کے عوام برسوں دیکھ چکے ہیں۔ ترنمول بھی یہاں کے عوام کیلئے اب پرانی پارٹی ہوگئی ہے۔ یہاں کے نوجوانوں میں نئی پارٹی کو آزمانے کا شوق سوار ہے۔
ایسی صورت میں گزشتہ روز ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے اجلاس میں کانگریس اور مارکسی پارٹی کے اپوزیشن لیڈروں سے دست بستہ عرض کیا کہ وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی کریں بجائے ہم سے لڑنے کے ہم سب مل جل کر بی جے پی کو مغربی بنگال میں آنے سے روک دیں۔ کانگریس کے اپوزیشن لیڈر عبدالمنان ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ مارکسی پارٹی کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر سوجن چکرورتی نے ممتا کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ ان کی پارٹی کے ورکر اور لیڈر ترنمول کانگریس کے ظلم و ستم کے شکار ہیں۔ محترمہ ممتا بنرجی نے ڈاکٹر صاحب کی باتوں کوتوجہ سے سنا اور کہا کہ وہ اس پر غور کریں گی اور خاطر خواہ کارروائی بھی کریں گی۔ میرے خیال سے ممتا بنرجی نے جو پکار دی ہے وہ کوئی ترنمول کانگریس کی پکار نہیں ہے بلکہ وقت کی پکار ہے۔ عوام کی پکار ہے۔ اور خاص طور پر مسلم اقلیت کی یہ آواز ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی پارٹیاں ترنمول کانگریس کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کریں یا نہ کریں لیکن سیاسی میدان میں سب مل کر بی جے پی کا مقابلہ کریں تاکہ مغربی بنگال میں فرقہ پرستی اور فسطائیت کا قلع قمع ممکن ہوسکے۔
امید یہ ہے کہ دیر یا سویر کانگریس اور سی پی ایم کے اندر نئی سوچ ابھر کر آئے گی اور بی جے پی کو مغربی بنگال سے اکھاڑ پھینکنے کی کوئی پالیسی ضرور بنائے گی مگر ترنمول کانگریس کی شمولیت ک ے بغیر فی الحال بی جے پی سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے اور یہ سمجھنا کہ ترنمول کانگریس کے سارے لوگ بی جے پی میں چلے جائیں گے یہ خیال ناقص ہے۔ ابھی بھی ممتا بنرجی مغربی بنگال میں دوسرے لیڈروں سے کہیں زیادہ عوامی مقبولیت رکھتی ہیں اور ان کی پارٹی بھی دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں مضبوط ہے۔ اگر ممتا بنرجی اپنی ماضی کی غلطیوں، خامیوں اور کمزوریوں کو دہرائیں گی نہیں تو اب بھی ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس بی جے پی سے لڑسکتی ہے اور کامیاب بھی ہوسکتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068