کانگریس نے ڈوکلام معاملے پرمودی کوگھیرا

نئی دہلی:27جولائی(قندیل نیوز)
کانگریس نے آج کہا کہ چین نے ڈوکلام علاقے میں بڑی فوجی ڈھانچہ جاتی سہولت کو تیارکر لی ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر کچھ بھی بولنے کو تیار نہیں ہیں۔کانگریس کے مواصلات محکمہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجیوالا نے چین کے ڈوکلام میں فوجی سامان اور فوجی بنیادی ڈھانچہ جاتی سہولت مہیا کرنے سے متعلق امریکی کانگریس کے کمیشن کے بیان سے جڑے سوال پر کہا کہ چین کا یہ قدم ہمارے لئے بڑا چیلنج بن گیا ہے لیکن مسٹر مودی اس معاملے پر چین کے ساتھ کچھ بھی بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران، چین کے نائب خارجہ وزیر نے بھوٹان کا دورہ کرتے ہیں اور ہندوستان کہ شامل کئے بغیر ڈوکلام معاملے پر ان سے مذاکرات کرتے ہیں۔ بھوٹان کے چین کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں پھر بھی دونوں ممالک کے درمیان اس موضوع پر تبادلہ خیال ہوتا ہے لیکن مسٹر مودی اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ جوہانسبرگ میں بریکس کے اجلاس کے دوران مسٹر مودی اور چین کے صدر سے علیحدہ بات چیت کرتے ہیں مگر وہ اس معاملے کو نہیں اٹھاتے ۔ترجمان نے کہا کہ شمالی ڈوکلام میں جس طرح فوجی سازوسامان اور انفراسٹرکچر چین نے تیار کیا ہے اس کی پوری تصویریں کانگریس نے جاری کی تھی ۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے پہلے اس سے انکار کردیا تھا، لیکن بعد میں اسے پارلیمنٹ میں تسلیم کرلیا۔