Home تجزیہ کارپوریٹ گھرانوں کے اردو اخبارات کا المیہ!

کارپوریٹ گھرانوں کے اردو اخبارات کا المیہ!

by قندیل

عظیم اختر
M: 9810439067
سیکولرازم کا بھرم قائم رکھنے اور سیاسی وسعتِ نظری اور رواداری کا ثبوت دینے کے لیے اردو کے نام نہاد فروغ و تحفظ کے نام پر سرکاری اور نیم سرکاری ادارے قائم کرنے والے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں اور صحافت کی محبت میں اچانک گرفتار ہو کر اردو اخبارات نکالنے والے کارپوریٹ گھرانوں کے دھنا سیٹھوں کی اردو زبان و ادب اور تہذیب سے دوری، لا علمی اور ناواقفیت سے اردو کے طبقۂ اشرافیہ بالخصوص دہلی کی دانش گاہوں میں اردو تدریس کے ورکنگ اور ریٹائرڈ پروفیسر نقادوں کی طرح اردو صحافت کی مبادیات سے پیدائشی ناواقف ہونے کے با وجود اردو صحافی کا مکھوٹا لگا کر خوشامد اور چاپلوسی کی غیر معمولی اور خداداد صلاحیتوں کے ہمارے کارپوریٹ گھرانوں کے اخبارات کے اعلیٰ عہدوں پر تو ضرور متمکن ہو گئے لیکن اردو کے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے پر کشش عہدوں پر شب خون مارنے والے پروفیسر نقادوں کی طرح صرف اپنا ہی بُت تراشتے رہے اور دھنا سیٹھوں کی اردو زبان و صحافت سے عدم واقفیت اور لا علمی سے بھرپور فائدہ اٹھاکر اخبار کے صفحات رنگین اور دیدہ زیب بنانے میں گرچہ کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن اخبار کے صحافتی معیار کو اس مقام پر آج تک نہیں پہنچادیا جہاں سے دوسری زبانوں کے اخبارات اور روزناموں نے اپنا صحافتی سفر شروع کیا تھا۔
ڈیزائننگ اورپرنٹنگ کی غیر معمولی آسانیوں کی وجہ سے آج کے دور میں اخبار کو دیدہ زیب اور جاذب نظر بنانے میں ڈیزائنر اور پرنٹنگ مشین اہم رول ادا کرتی ہیں اور اخبار کے دیدہ زیب صفحات پر ملکی و غیر ملکی خبریں اور زندگی کے روزمرہ کے سیاسی و سماجی مسائل سے تعلق رکھنے والے مضامین، اداریہ اور اسی قسم کے دوسرے شذرات اخبار کے مدیر کی صحافتی صلاحیتوں کی صحیح معنوں میں پول کھولتے ہیں۔ اس پہلو سے ہم بلا تکلف کہہ سکتے ہیں کہ دلّی سے نکلنے والے کارپوریٹ گھرانوں کے اردو اخبارات کا یہ المیہ ہے کہ ان اخبارات کو صحافت کی مبادیات، اور زبان و بیان پر کما حقہ دسترس رکھنے کے ساتھ آج تک اردو کا ایک بھی ایسا بڑا اور اوریجنل صحافی نہیں مل سکا جس کو ایک بڑے اخبار کے بڑے صحافی و مدیر کے طورپر لیا جاسکے۔
قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور دہلی اردو اکاڈمی جیسے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے والے پروفیسر نقادوں نے ان اداروں کے وسائل کو عوامی سطح پر فروغ دینے کی بجائے اپنے حوالی موالیوں کو فائدہ پہنچانے اور اپنا ادبی بت تراشنے میں ہی استعمال کیا، یہی حال کارپوریٹ گھرانوں کے ان اردو اخبارات کا ہے جن کے مدیرانِ کرام میں سے ایک سابق مدیر نے اپنے دور میں اپنے اردو زبان و بیان اور صحافت میں تمام تر بے بضاعتی کے باوجود اخبار کے صفحات کو ذاتی پبلسٹی اور ہندوستانی مسلمانوں کی عام سماجی، سیاسی اور ملی زندگی میں اپنا بُت تراشنے کے لیے اس طریقے سے استعمال کیا کہ موصوف چند ہی ماہ میں علمائے کرام کی آنکھوں کا تارا ،پروفیسر نقادوں کے لاڈلے اور شہرت کے بھوکے سیاسی، سماجی ورکروں کے ایسے چہیتے مدیر بن گئے جو جلسوں اور اس قسم کی تقریبات میں مذہبی فریضے کی ادائیگی کی طرح شرکت کر کے اپنے ہی اخبار میں اپنی اور منتظمین کی تصویر نمایاں کر کے اخبار کے کاغذ کا پیٹ بھرتے۔ ’تم مجھے جلسوں میں بلاؤ میں تمھاری خبریں اخباروں میں چھاپ کر تم کو مسلمانوں کی سماجی اور ملی زندگی میں معتبر و مستند بنا ؤں گا‘ یا ’ من ترا حاجی بگویم، تو مرا قاضی بگو‘ کے مصداق کارپوریٹ گھرانے کے پہلے اخبار کے پہلے مدیر نے شمالی ہندوستان کے اردو داں مسلم طبقے میں ایک حلقہ بھی بنا لیا تھا جس نے شہرت کے بھوکے مدیر کو خطابات و اعزازات سے نوازنا شروع کر دیا۔ دہلی کے ادبی جلسوں وغیرہ میں یہاں کی دانش گاہوں میں اردو ادبیات کے پروفیسر نقاد حضرات اسٹیج پر موصوف کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہوئے شاہی دور کے قصیدہ گو شعراء کو پچھلی صف میں ہی بٹھا دینے میں اکتفا کرتے ، لیکن کچھ دانش گاہوں کے اردو شعبوں کے صدور نے چاپلوسی اور خوشامد کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے موصوف کی صحافتی صلاحیتوں اور ان کے ادبی تدابیر کو اپنے شعبوں کی تحقیقی کاموں میں بھی شامل کر لیا۔ ہمیں یاد ہے کہ ساہتیہ اکاڈمی میں چندر بھان خیال کی مشہور نظم لولاک کے ہندی ایڈیشن کے موقع پر ایک پروفیسر نے تقریر کرتے ہوئے چندر بھان خیال کی شاعری پر تو برائے نام بات کی لیکن موصوف مدیرکی صحافتی صلاحیتوں اور استعداد پر تقریر کرتے ہوئے ان کو اردو صحافت میں مولانا آزادؒ سے بڑا صحافی ، مدیر اور قلم کار بنا کر پیش کیا کہ ہم جیسے سامعین حیرت زدہ رہ گئے۔
کارپوریٹ گھرانے کے پہلے اخبار کو موسس مدیر سے چھٹکار ملا تو دھنا سیٹھوں نے اردو کے پڑھنے اور بولنے والوں کی مزاج نا شناسی یا اپنی مصلحتوں کی اردو کی معمولی شد بد رکھنے اور اردو صحافت کی مبادیات سے سراسر نا واقف کلمہ گوؤں کے قبیلے کے ایک ایسے فرد کو اخبار کی ادارتی ذمہ د اریاں سونپ دیں جو خبروں کے انتخاب و ترتیب سے لے کر اداریہ نویسی وغیرہ کے معاملے میں اپنے پیش رو سے اٹھارہ انیس تھا۔ جس کی وجہ سے اردو دنیا میں کارپوریٹ گھرانے کا وہ پہلا اخبار نہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا رہا اور مختلف مسلکوں کے علمائے کرام، مولوی حضرات اور مدارسِ دینیہ کے جلسوں، کانفرنسوں اور اسی قسم کی دوسری سرگرمیوں کا ایک ایسا نیوز بلیٹین بن کر رہ گیا جس میں اگر خبر کے ساتھ حضرت جی کی تازہ ترین تصویر نہ چھپے تو حضرت جی کے متعلقین احتجاج کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی ملی، سیاسی اور سماجی زندگی کا یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام جو تصویر کشی کو کل تک ممنوع اور حرام قرار دیتے تھے ،پبلسٹی اور شہرت کی خاطر اخبارات کو بیان جاری کرتے ہوئے آج اپنا تازہ ترین فوٹو ارسال کرنا نہیں بھولتے۔
کم و بیش یہی حال دوسرے کارپوریٹ گھرانے کے اردو اخبار کا بھی ہے، جو ریڈر شپ کے جادوئی آنکڑوں کی بنا پر اردو کا’’ نمبر ایک اخبار‘‘ ہونے کا مدعی ہے لیکن اردو صحافت کی ان اعلیٰ اور ارفع روایتوں کے پاسنگ کے برابر بھی نہیں جو تمام تر نامساعد حالات اور سختیوں کے باوجود ہمارے قد آور بزرگ صحافیوں نے قائم کیا تھا اور زبان و بیان پر دسترس اور صحافت کی مبادیات سے کما حقہ واقف ہونے کی وجہ سے ماضی قریب و بعید کی اردو صحافت کی ان قد آور شخصیتوں نے اپنے اخباروں کا وہی معیار برقرار رکھا جس سے ابتدا کی تھی، مالی تنگی اور نا مساعد حالات کی وجہ سے انھوں نے کبھیCompromiseنہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کے مسائل سے جو جھتے ہوئے نکلنے والے ان اخبارات اور ان کے مدیران کا نام آج بھی زندہ ہے۔ جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ بزرگ اور محترم شخصیتیں اردو صحافت کے تئیں سراپا مخلص اور حرمتِ قلم کے امین تھے۔ دہلی اور ملک کے دوسرے چند چھوٹے بڑے اردو اخبارات کا المیہ یہ ہے کہ ان کو آج تک ایسے ذمہ دار مدیر اور صحافی نہیں ملے جو صحیح معنوں میں اردو صحافت کے مزاج آشناہوں۔، خبروں کی ترتیب و انتخاب اور قدروں کے ہنر سے واقف ہوں، مؤثر اور بھرپور انداز سے اداریہ اور شذرات لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اپنے ما تحت عملے کی زبان و بیان کی صحافتی غلطیوں کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ صلاحیتیں اور ہنر ہمیں دہلی سے شائع ہونے والے دوسرے روزناموں کے صحافی مدیروں کے بدرجہ اتم نظر آئیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے اخبار مالی وسائل اور دوسری آسانیوں کے مقابلے میں کارپوریٹ گھرانوں کے اخباروں کے پاسنگ برابر بھی نہیں ہیں جس کی وجہ سے دہلی کی صحافتی برادری میں کارپوریٹ گھرانوں کے ان دونوں اخبارات ہی کو اردو زبان کے اہم اور بڑے اخباروں کے زمرے میں رکھ دیا جاتا ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ کارپوریٹ گھرانوں کے یہ دونوں اخبارات صحافتی معیار کو روتے ہوئے ہر صبح اردو اخبار پڑھنے والوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔ جس کی تمام تر ذمہ داری اردو صحافت کی مبادیات اور مزاج سے ناآشنا مدیرانِ کرام کے سر جاتی ہے ، جو بے معنی کالموں اور لا یعنی خبروں سے اخبار کا پیٹ بھر کر مدیرانہ ذمہ داریاں نباہ رہے اور اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ ان کو اس کا احساس نہیں ہے کہ اس روش نے ان اخبارات کو اردو جاننے والے غیر مسلم طبقوں نے اسے مسلم نیوز بلٹین کا نام دے دیا ہے۔

You may also like

1 comment

اقبال بوکڑا 20 مئی, 2018 - 09:31

اخبارات کے نام لکھتے۔

Leave a Comment