ڈاکٹر عبرتؔ بہرائچی:(ایک گوشہ نشیں شاعر و ادیب)

عظیم اختر
اردو کی شعری و ادبی دنیا کی اس حقیقت سے آنکھیں تو یقیناًچرائی جا سکتی ہیں لیکن انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو کے فروغ و تحفظ کے نام پر قائم کیے گئے سرکاری و نیم    سرکاری اداروں اور پیشہ ور چندے باز منتظمین مشاعروں نے شعر فہمی کے وصف سے محروم اور ادب نوازی کی صلاحیتوں سے نا آشنا بھیڑ کو جمع کر کے مشاعرے منعقد کرنے کا ایک ایسا بازا گرم کر رکھا ہے جس میں شاعرانہ ترنم کے نام پر گائیکی کے جوہر دکھانے اور فدویانہ انداز میں سامعین سے داد کی بھیک مانگنے والے شاعروں اور متشاعرات کے پو بارہ ہو رہے ہیں اور فکر کو ترستی ہوئی سطحی وغیر معیاری شاعری سر چڑھ کر بول رہی ہے اور فکر و فن سے مملو شاعری کی اس خوشبو کا دور دور تک احساس نہیں ہوتا جو مشاعرے کے بعد خوبصورت شعروں کی شکل میں دور دور تک پھیلتی تھی۔ ماضی میں اردو کی بہترین اور معیاری شاعری مشاعروں کی دنیا کا سفر طے کرتی ہوئی ادب کا حصہ بنی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مشاعروں کی بہتات اور آئے دن منعقد کیے جانے والے بڑے سے بڑے مشاعرے میں شعر و شاعری کا صاف ستھرا اور اعلیٰ ذوق رکھنے والے سامعین کے کان خوبصورت شعر سننے کے لیے ترستے ہی رہتے ہیں، لیکن مشاعروں کے نام نہاد سخن فہم سامعین کی بھیڑ کی پسند پر پورااُترنے اور ان کی دلبستگی کا سامان فراہم کر کے مشاعروں سے پیشہ کمانے والے شاعروں کی اس بھیڑ میں ایسے شعراء کی بھی کمی نہیں جو شہرت و تشہیر سے بے نیاز ہو کر صرف تفنّنِ طبع کے لیے شاعری کر رہے ہیں ایسے گوشہ نشین اور سیلف پبلسٹی سے بے نیاز شاعروں کا کلام مقتدر رسائل یا شعری مجموعوں کے حوالے سے اردو کے باذوق قارئین تک پہنچتا ہے اور اپنے شعری و ادبی وجود کا بھرپور احساس دلاتا ہے۔
اس وقت ہمارے سامنے اُتر پردیش کے بہرائچ جیسے مردم خیز علاقے کے کہنہ مشق شاعر جناب عبرتؔ بہرائچی کا شعری مجموعہ ’’ نغزِ سخن‘‘ موجود ہے، جس نے ہمیں ایک گوشہ نشیں اور کہنہ مشق شاعر کو اپنے قارئین سے متعارف کرانے کی تحریک دی ہے، کیوں کہ ہم شعر و سخن کی حرمت کے امین، نوک پلک درست کرکے شعر کہنے والے گوشہ نشیں شاعروں اور نئی نسل کے ان نوجوان شاعروں کو اپنے قارئین سے متعارف کرانا اپنا ادبی فریضہ سمجھتے ہیں، جن کے یہاں اچھی اور معیاری شاعری کرنے کے تمام تر امکانات موجود ہیں۔
شمالی ہندوستان کے مسلمانوں اور اردو لکھنے، پڑھنے اور بولنے والوں کے یہاں بہرائچ سید سالار مسعود غاریؒ کی جرأتِ رندانہ، شجاعت اور مزارِ اقدس کے علاوہ اپنی تاریخی و روحانی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے، لیکن تقسیمِ وطن کے بعد سے ملک کے سیاسی حالات کے پس منظر میں کہا گیا اور حضرتِ شوق بہرائچی سے منسوب اس شعر نے تو بہرائچ کو غیر اردو داں دنیا میں بھی متعارف کرا دیا اور یہ شعر بہرائچ کی ایک طرح سے پہچان بن گیا جب سب سے پہلی بار پاکستان کی پارلیمنٹ میں صدر اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے کسی ممبر نے پڑھا اور کچھ عرصہ کے بعد ہمارے ملک کی لوک سبھا میں بھی اس شعر کی باز گشت سنائی دی اور حزب اختلاف کے کسی ممبر نے سرکاری بنچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلّو کافی ہے

ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے ، انجامِ گلستاں کیا ہوگا؟


ہندوستان اور پاکستان کے پارلیمنٹ ہاؤس میں اس شعر کے گونجنے سے یہ شعر نہ صرف شہرت و مقبولیت کی تمام حدود کو پار کر گیا بلکہ اردو دنیا میں ضرب المثل بن گیا ہے۔ حضرتِ شوق بہرائچی نے تو اپنے زمانے کے سیاسی حالات اور اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر بڑے خوبصورت انداز سے پھبتی کسی تھی لیکن اس شعر کی ہمہ گیریت کا عالم یہ ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ شعر صرف آج کے سیاسی منظر نامے کو دیکھ کر ہی کہا گیا ہے۔ اردو میں اپنے دور کی عکاسی کرنے والے شعروں کی کمی نہیں لیکن یہ شعر اُنیس بیس کے فرق کے ساتھ ہمیشہ اپنے دور کے سیاسی حالت اور اُتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا رہے گا۔
بہرائچ میں اس طرح کے خوبصورت شعر کہنے والے شاعروں کی کمی نہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جس طرح حضرتِ شوق بہرائچی اردو دنیا میں اس شہرت اور پذیرائی سے محروم رہے جو ان کا حصہ تھی، اسی طرح حضرتِ شوق مرحوم کے بعد آنے والی نسل کے وہ شعراء بھی ادبی پذیرائی اور بڑی حد تک شہرت سے محروم ہیں جو نوک پلک درست کر کے ایک عرصہ سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ہماری آج کی صحبت کے ممدوح حضرتِ عبرتؔ بہرائچی بھی بہرائچ کے ان ہی شعراء میں سے ایک اہم شاعر ہیں جن کی اردو دنیا میں ابھی تک کما حقہٗ پذیرائی نہیں ہوئی ہے۔ مشاعرہ اردو دُنیا کی ایک ایسی قدیم اور تاریخی روایت ہے جہاں اچھی و معیاری شاعری کے انکُر پھوٹتے ہیں اور شاعروں کی شعری و ادبی پذیرائی کی پہل ہوتی ہے ۔ اردو کی تمام تر اچھی معیاری شاعری گزرے زمانے کے مشاعروں کی ہی دین ہے اور اردو کا ہر بڑا شاعر مشاعروں کے بالغ نظر اور شعر فہم سامعین کی پسند پر پورا اُتر تا ہوا اردو کے شعری ادب کا حصہ بنا ہے اور شہرت و مقبولیت حاصل کی ہے، لیکن یہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب مشاعرے صحیح معنوں میں مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ آج کے مشاعروں میں سطحی اور ہلکی پھلکی شاعری اور ترنم کے نام پر گائیکی کا دور دورہ ہے اور صرف وہی شعراء پسند کیے جاتے ہیں جو شعر فہمی سے نابلد سامعین کی بھیڑ کی سماعتوں کا گائیکی اور باڈی لنگویج سے جگا سکیں۔ مشاعروں کے سامعین کے اس معیارِ پسندیدگی نے فکر و فن کے امین شاعروں پر مشاعروں کے دروازے تنگ کر دیے ہیں۔ ہم ایسے بہت سے شاعروں سے واقف ہیں جو خوبصورت شعر کہتے ہیں لیکن مشاعروں کے حوالے سے گمنام ہیں۔ جناب عبرتؔ بہرائچی بھی ان ہی شاعروں میں سے ہیں جو مشاعروں کے حوالے سے کم لیکن اپنی شعری اور نثری تصانیف کے حوالے سے اردو دنیا میں خاصے جانے پہچانے جاتے ہیں اور بہرائچ اور اس کے قرب و جوار کے ادبی حلقوں میں ایک اہم ادبی شخصیت کے حامل ہیں۔
عبد العزیز خاں عبرتؔ ،بہرائچ جیسے مردم خیز علاقے کے ایک ذی علم اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور شاعری ان کو ورثے میں ملی ہے۔ ان کے جدِ امجد حضرت ضامن علی خاں انیق ؔ بہرائچی اپنے دور کے قادر الکلام شاعروں میں سے تھے اور فنِ شاعری میں غیر معمولی گرفت رکھتے تھے۔ حضرتِ انیق بہرائچی کی شعری وراثت اور حضرتِ نشور واحدی جیسے غزل گو شاعر کی تربیت نے عبرتؔ بہرائچی کی شعری صلاحیتوں کو وہ جلا بخشی کہ شعر و ادب کے سنجیدہ اور شعر فہمی کا وصف رکھنے والے قارئین کے حلقوں میں آج وہ بذاتِ خود ایک معتبر تخلیق کی حیثیت کے مالک ہیں۔ حضرتِ انیق بہرائچی مرحوم کی غزل گوئی کی وراثت اورجناب نشور واحدی جیسے معتبر غزل گو کی تربیت ممکن ہے عبرت بہرائچی کو غزل گوئی کے سحر میں ہی گم رکھتی لیکن وہ غزل کے سحر میں گم ہو کر بھی صرف غزل کے ہو کر نہیں رہے بلکہ نثر کے میدان میں بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے سوتے پھوٹے۔ نظم و نثر میں اب تک ان کی چار درجن سے زائد کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں، جن میں تقریباً پندرہ نعتیہ مجموعے شامل ہیں۔
عبرت بہرائچی ایک کثیر التصانیف شاعر و ادیب ہیں۔ اردو دنیا میں ہمہ جہت اور کثیر التصانیف شاعر و ادیب کو صرف ایک شاعر اور ادیب ہی سمجھا جاتا ہے اور ان کی شعری و نثری کاوشوں کو صحیح معنوں تنقید کی کسوٹی پر آنکا نہیں جاتا جس کی وجہ سے ایسے ہمہ جہت اور کثیر التصانیف شاعر و ادیب وہ مقام حاصل نہیں کر پاتے جس کے وہ صحیح معنوں میں مستحق ہوتے ہیں۔ عبرت بہرائچی کی کثیر التصانیف ہونے نے ان کی شعری خدمات کا ابھی تک صحیح معنوں میں وہ اعتراف نہیں ہونے دیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ عبرت بہرائچی بنیادی طورپر ایک اچھے شاعر ہیں اور سماعتوں پر دستک دینے والے شعر کہتے ہیں۔ ہم اپنے ممدوح شاعر کے اشعار کو تنقید کی کسوٹی پر آنکنے اور اپنے قارئین کی شعر فہمی پر شب خون مارنے کے قائل نہیں اس لیے عبرت ؔ بہرائچی کے چند خوبصورت شعر ہدیۂ قارئین کر رہے ہیں تاکہ وہ خود اندازہ لگا سکیں کہ خود تشہیری اور جماعتی گروہ بندہی کے اس دور میں ایسے شعراء بھی موجود ہیں جو صلہ و ستائش سے بے نیاز ہو کر شعر و ادب کی خاموش خدمت کر رہے ہیں:
دار پہ میرا تبسم دیکھ کر
ہوکے شرمندہ مرا قاتل گیا

ہم لوگ تپ رہے ہیں تعصب کی دھوپ میں
قابو میں آپ وقت کے حالات کیجیے
کیا ضرورت ہے تام جھام کی پھر
جب ہے دنیا میں مختصر رہنا
جو جلایا تھا کبھی میں نے چراغ
آندھیوں کے دوش پہ جلتا رہا
میں خود سے گفتگو کرتا ہوں عبرتؔ
میں گھبراتا نہیں، تنہائیوں سے
گھر کے دیوار و در تھے نمدیدہ
لوٹ کر آئے جب سفر سے ہم
قاتل اس شان سے رہتے ہیں بے خطر
ملحق جو ایک مکان ہے میرے مکان سے
غزل
غم بھی لازم ہے زندگی کے لیے
غم نہیں ہے تو زندگی کیسی
ہم کو منزل سے جو ملا نہ سکے
رہبروں کی ہے رہبری کیسی
ایک مدت سے میں ہنسا بھی نہیں
میری آنکھوں میں پھر نمی کیسی
ہونے والا ہے کچھ نیا شاید
چار سو میرے خامشی کیسی
جان جوکھم میں پڑ گئی میری
آپ کی یہ ہے دل لگی کیسی
گھر کا ہر اک چراغ ہے گم صم
پھر مرے گھر میں روشنی کیسی
***
M: 9810439067

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*