چست و چمک داربرقع پہننا ناجائز :دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ

خواتین ڈھیلا ڈھالا لباس پہن کر ہی گھر سے نکلیں
دیوبند،2؍ جنوری(سمیر چودھری؍قندیل نیوز)
مسلم خواتین کے ذریعہ پردے کے نام پر استعمال کئے جا رہے مختلف ڈیزائن دار برقعے اور تنگ لباس پہننے کو دارالعلوم دیوبند نے سخت گناہ اور ناجائز قرار دیا ہے۔ دارالافتاء کی جانب سے سامنے آئے فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ایسا برقع یا لباس پہن کر عورت کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے جس کی وجہ سے اجنبی مردوں کی نگاہیں ان کی جانب متوجہ ہوں۔دیوبند کے ہی ایک شخص نے دارالعلوم کے شعبہ افتاء سے تحریری سوال پوچھا تھا کہ مسلم خواتین کے لئے ایسا برقع یا لباس پہننا کیسا ہے جس میں عورتوں کے اعضاء ظاہر ہوتے ہوں ،یا ایسا چمک دمک کا برقع پہن کر بازار میں جائیں جس کی وجہ سے غیر مردوں کی نگاہیں اس کی جانب متوجہ ہوں ؟۔ دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام نے مذکورہ سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورت چھپانے کی چیز ہے، کیونکہ جب عورت باہر آتی ہے تو شیطان اس کو گھورتاہے،لہٰذا عورت کو بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے اور جب ضرورت کے مطابق گھر سے نکلے تو اپنے جسم کو اس طرح چھپائے کہ اس کے جسم کے اعضاء ظاہر نہ ہوں، یعنی ڈھیلا لباس پہن کر نکلے، تنگ اور سخت لباس یا برقعہ پہن کر نکلنا اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہرگز جائز نہیں ہے اور سخت گناہ ہے، اسی طرح ایسا برقع پہن کر نکلنا بھی جائز نہیں ہے جس چمک دمک اور بیل بوٹے لگے ہوں۔ فتوے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے برقع اور لباس فتنے کی وجہ ہوتے ہیں۔ دارالعلوم سے جاری فتوے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے تنظیم ابنائے دارالعلوم دیوبند کے سکریٹری مفتی یاد الٰہی قاسمی نے کہا کہ مغربی تہذیب ہندوستانی تہذیب پر پوری طرح حاوی ہو چکی ہے، ہماری عورتیں پردوں سے نکل کر چھوٹے اور تنگ لباسوں میں آ گئی ہیں،اس جانب بطور خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔