پی این بی گھوٹالہ کی باز گشت بڑی خبر کے ایونٹ تک : یشونت سنہا

 سنہا نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے پوچھے دس سوالات
نئی دہلی:20 فروری (قندیل نیوز)
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ نیرو مودی ۔ پی این بی بینک کے گھوٹالے نے نہ صرف ملک کے بینکاری نظام کی خامیوں کی پول کھول ڈالی ہے، بلکہ نریندر مودی حکومت کی شبیہ کو بھی مسخ کردیا ہے ۔ اس مسئلے سے منسلک 10 اہم سوال موجودہ مرکزی حکومت سے پوچھتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس اسکینڈل کے بعد سیاسی بیانات کے سیلاب آنی ہی تھی، لیکن ان بیانات میں لگ رہے الزام تراشی میں حقیقت کہیں چھپ گئی ہے۔نجی ٹی وی NDTV کے لئے لکھے ایک بلاگ میں یشونت سنہا نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر گھوٹالہ سسٹم کی ناکامی کا نتیجہ ہوسکتا ہے اور کوئی بھی وزیر خزانہ بسااوقات ماتحتی میں کام کرنے والی ہر تنظیم کے ہر نکتہ پر نظر نہیں رکھ سکتا، لیکن وہ اپنی آئینی اور جمہوری ذمہ داری سے بھی نہیں بچ سکتا۔اس کے بعد انہوں نے 10 سوال پوچھے ہیں جن کے جواب ان کے مطابق معاملے کی جڑ تک پہنچنے کے لئے لازمی ہیں۔1اگر نیرو مودی کا گھوٹالہ 2011 میں شروع ہوا تھا، تو بتایا جائے کہ ہر سال کتنے لیٹر آف اڈرسٹیڈگ (LoU ) جاری کئے گئے؟ معاملے کو اس سے آگے صاف صاف سمجھنے کے لئے مئی 2014 کو ایک خاص وقت مان لیا جائے، اور بتایا جائے کہ مئی، 2014 تک کتنے ایل اویو جاری ہوئے، اور کتنے اس سال کے آخر تک۔علاوہ ازیں ہر ایل او یو کی رقم بتائی جائے۔بتایا جائے کہ ایل او یو کتنی مدت کے لئے جائز تھا ۔ 90 دن، 180 دن، 365 دن یا اس سے بھی زیادہ۔یہ بھی بتایا جائے کہ ہر ایل او یو پر غیر ملکی بینکوں سے کتنی رقم نکلی؟کتنے معاملات میں ایل او یو کی رقم پی این بی کو واپس ہوئی؟ کتنے ایل او یوکی ضمانت پی این بی کو نہیں لوٹائی گئی؟اگر کسی غیر ملکی بینک برانچ کو وقت پر پیسے نہیں ملے تو کیا اس نے پی این بی کو خبر دی؟ کتنے معاملات میں بقایا وصولی کے لئے پی این بی کی ضمانت کا استعمال کیا گیا؟کیونکہ اس میں غیر ملکی کرنسی کا ٹرانزیکشن بھی شامل تھا، تو پھر بتایا جائے کہ آخر یہ آر بی آئی کی نگاہ سے یہ لین دین بچا کیسے رہ گیا؟بتایا جا رہا ہے کہ نیرومودی نے 200 شیل کمپنیاں بنائی تھیں جن کے ذریعہ لین دین ہوا، لیکن پھر حکومت کے دعوے کا کیا ہوا کہ نوٹ بندی کے بعد ایسی ساری فرضی کمپنیاں بند ہو گئی ہیں؟جب تفتیشی ایجنسیاں فوری طور پرنیرو مودی کی ضبط شدہ املاک کا تخمینہ کرسکتی ہے تو پھر وہ عام معلومات کیوں نہیں اشتراک کر رہی ہیں؟اور آخر میں اس کنفیوژن سے کسے فائدہ ہو رہا ہے؟ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس خبر کی باز گست اسی وقت تک ہے جب تک میڈیا کو کوئی بڑی خبر مل نہیں جاتی؟ اس کے بعد پھر نیرو مودی بھی وجے مالیا کی طرح قصہ پارینہ بن جائیں گے ۔