پروفیسر عتیق اللہ اقبال سمان سے سرفراز

نئی دہلی(پریس ریلیز)
شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر عتیق اللہ کو حکومت مدھیہ پریش کی جانب سے اقبال سمان سے نوازا گیا ہے۔ اقبال سمان حاصل کرنے والے ادیب کو اس کے ادبی کارناموں پر مدھیہ پردیش حکومت دو لاکھ روپے سے نوازتی ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ عہد حاضر کے ایک بڑے ناقد اور شاعر ہیں۔ شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی میں29برس کی تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ لگا تار تصنیف و تالیف میں لگے رہنے والے ادیب ہیں۔ ان کی اب تک 20سے زائد کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں اور قارئین سے داد پا چکی ہیں۔ ادبی اصطلاحات کی فرہنگ، ترجیحات ، بیسوی صدی میں خواتین اردو ادب، تعصبات، بیانات، مارکیسیت نو مارکیسیت ترقی پسندی، تنقید کی جمالیات(دس جلدوں میں)، اسالیب، مغرب میں تنقید کی روایت، ان کی چند اہم تنقیدی کتابیں ہیں جن سے اردو ادب ثروت مند ہوئی اور جن سے عتیق اللہ کو شہرت ملی ۔ ان کے اب تک چار شعری مجموعے ایک سو غزلیں، بین کرتا ہوا شہر، عبارت اور تکلم بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔پروفیسر عتیق اللہ کی انہیں خدمات اور ادب نوازی کے سبب انہیں یہ سمان دیا گیا ہے۔ اس سے قبل دہلی اردو اکادمی ، یوپی اردو اکادمی ، غالب اکیڈمی اور غالب انسٹی ٹیوٹ وغیرہ جیسے نامور ادبی اداروں نے بھی انہیں انعامات سے نوازا ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ کو اقبال سمان ملنے سے ادبی حلقوں میں مسرت کی لہر ہے اور شائقین اردو اس سے کافی خوش ہیں۔لوگ متواتر انہیں مبارک باد پیش کر رہے ہیں اور دعائے خیر سے نواز رہے ہیں۔