پرسنل لابورڈکی راجیہ سبھامیں بل رکوانے کی تیاری جاری

 
بصورت دیگرسپریم کورٹ جائے گابورڈ
حیدرآبادیکم جنوری (قندیل نیوز)
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے اپنے وضاحتی بیان میں آج کہا ہے کہ تین طلاق سے متعلق لوک سبھا سے پاس ہونے والے قانون کے سلسلے میں بعض لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہورہے ہیں اور ایک حلقہ کی طرف سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس معاملہ میں صحیح طور پر کارروائی نہیں کی ، یہ درست نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ بورڈ نے سپریم کورٹ میں بھی نہایت بہتر طور پر اپنے کیس کو پیش کیا اور نہایت ماہروکلاء کی خدمات حاصل کیں، پھر جب حکومت نے اس سلسلہ میں قانون سازی کرنی چاہی تو اس کو بھی رکوانے کی کوشش کی اور جب مجوزہ قانون کا مسودہ سامنے آگیا تو اس میں مناسب ترمیم کرانے کی بھر پور کوشش کی، بورڈ کے نمائندوں نے اپوزیشن لیڈروں سے رابطہ کیا، مسلم ممبران پارلیمنٹ تک اپنی بات پہنچائی، حکومت سے بھی گفتگو کی پیش کش کی گئی اور آج تک قانون اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم اگر راجیہ سبھا میں بھی یہ بل پاس ہوگیا تو ان شا ء اللہ بورڈ سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کرے گا، کیوں کہ یہ قانون شریعت میں مداخلت پر مبنی ہے، دستور کی روح کے خلاف ہے اورعورتوں کے لیے سخت نقصاندہ ہے او رپوری امید ہے کہ اگر عدالت سے رجوع کیاگیا تو بورڈ کے نقطہ نظر کو قبول کیا جائے گا۔ البتہ ملت اسلامیہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کو اختلاف وانتشار کا ذریعہ نہ بنائیں او رمسلمانوں کے اس متفقہ پلیٹ فارم کو غلط فہمی کا شکار ہوکر کمزور نہ کریں، ورنہ اس سے فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچے گی ، جو بورڈ کو اپنے راستہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں، نیز عامۃ المسلمین سے اپیل کی جاتی ہے کہ جب تک بورڈ کی طرف سے ہدایت نہ آجائے کوئی بھی قدم اْٹھانے سے گریزکریں، اور فی الحال اس سلسلہ میں عام جلسوں اورریلیوں سے بچیں، کیو ں کہ اس سے ہمارے مقصد کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔