پاکستانی قوم کی سیاسی بصیرت


کاشف حسن
پاکستانی سیاست ،جو آج بھی اشرافیہ اور فوج کے درمیان گھوم رہی ہے، کیا اس قوم کو کوئی ایک ایسالیڈر نصیب نہیں ،جو عالمی پیمانے پر اپنی ساکھ رکھتا ہو؟ اس کی وجہ واضح ہے،مسلمان قوم صدیوں سے ایک ایسی ریوڑ ہے، جسے صرف ڈنڈوں سے ہانکا جا سکتا ہے، برصغیر میں یہ بات اور بھی کھل کر سامنے آتی ہے، گرچہ کچھ مسلم ممالک اپنے معاشی استحکام اور تعلیمی پالیسی کی وجہ سے ارتقا پذیر ہیں جیسے ملیشیا، ترکی اور قطر۔
پاکستانی سیاسی قیادت کا جائزہ لیجیے ،تو کسی پارٹی کے پاس واضح لائحۂ عمل موجود نہیں، سیاسی منشور میں معاشی استحکام ،تعلیمی پالیسیاں، بین الاقوامی تعلقات، بنیادی ضروریات جیسی واضح حکمت عملی سرے سے موجود نہیں، جو بحث ہے ،وہ صرف اس بات کی ہے کہ سیاست یامذہب،لبرل ریاست یا مذہبی تڑکا اور بغیر کسی حکمت عملی کے مذہب مکس جمہوریت۔ ریاستِ مدینہ کا کاغذی نقشہ یا بالی ووڈ فلموں میں موجود طرزِ لباس، کلچر اور آزادی، کوئی ریاست مدینہ کے نام پر مڈل کلاس نفاق سے بھرے عوام کا جذباتی استحصال کرتا ہے ،تو کوئی فوجی جرنیلوں سے ٹکر لینے کے نام پر، مزے کی بات یہ ہے کہ گیم پلان کرنے والے سیاسی اشرافیہ اور بے لگام فوج اپنی جگہ سالوں سے حکومت کر رہے ہیں، مڈل کلاس طبقہ پٹواریوں اور یوتھیوں میں بٹا ہوا ہے،ایک سیاسی جماعت کا نعرہ تو بالکل مودی کے سیاسی نعرے کی طرح ہے، جیسے متحدہ مذہبی پلیٹ فارم کا نعرہ اب کی بار دیانت دارسرکار، اب کی بار،مودی سرکار کے وزن پر۔
تصویرا کا دوسرا رخ یہ ہے:
انڈیا پاکستان جب دوالگ الگ ملک بنے ،تودونوں کے پاس وقت تھا اپنی جمہوریت کو مضبوط کرنے کا، بدقسمتی سے انگریزوں نے جس طرح کا جمہوری اسٹریکچر ان دونوں ملکوں کو دیا،اس میں نسل پرستی،مذہبی تعفن اور کاسٹ بیسڈ جمہوریت تھی، جس پر ہندوستان نے جلد ہی قابو پالیا ، جبکہ پاکستان نے غیر تکثیری سوسائٹی نہ ہونے کی وجہ سے آمریت کو گلے لگا لیا (آج بھی وہاں اقلیتی فرقوں کے ساتھ روارکھاجانے والا ناروا سلوک دنیا بھر کے اخباروں کی ہیڈ لائن بنتا ہے) وہاں فوجی آکوپیشن مضبوط ہوتا چلا گیا،اسکے برعکس ہندوستان میں جمہوریت اس قدر مظبوط ہوئی کہ پولٹکل دخل اندازی تمام محکمہ جات میں شروع ہوگی۔
اس بات سے اتفاق ہے کہ پاکستان میں کچھ لوگ انسانیت کی بقا اور مکمل جمہوری نظام چاہتے ہیں، مگر یہ کام کرنے کے لیے وہ حزبِ مخالف کو نیچا دکھا کر آگے بڑھنا چاہتے یا فرسٹریشن میں انھوں نے بائنری بنا لی ہے، شعور کی بیداری ڈپلومیسی اور اچھا قائد چاہتی ہے، جو نواز شریف کی قیادت میں نہیں ہے،دوسری طرف چاکلیٹی برگر نسل ہے ،جو لالی پاپ کے لالچ سے بہتر پاکستان اور تبدیلی کا خواب دیکھنے چلی ہے۔ہم بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں مکمل جمہوری نظام قائم ہو ،مگر اس سے پہلے شعور کی بیداری ضروری ہے اور شعور کی بیداری اچھا قائد چاہتی ہے ،جو دور دور تک نظر نہیں آتا۔