پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟

مشرف عالم ذوقی

پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب اقبال اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل بلند کیجیے پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، برسنے سے اُگتے ہیں جلال الدین رومی پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا، وہ تمہیں پہنچا دیا اور میرا رب تمہاری جگہ اور قوم پیدا کردے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکو گے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ سورہ ہود:57 جودریاؤں کی موجوں سے سحاب اٹھاتا ہے، جو بیج کو مٹی کی تاریکی میں پالتا ہے، وہ سب کا خیال بھی رکھتا ہے۔ کچھ مسائل عمل سے حل ہوتے ہیں۔ رومی نے کہا، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، برسنے سے اُگتے ہیں۔ سورہ ہود میں آیا کہ رب تمہاری جگہ کوئی اور قوم پیدا کردے گا۔ قرآن شریف میں بار بار کہا گیا، غور کرو تمہارے لےے نشانیاں ہیں۔ ہم غورفکر کی منزل سے کنارہ ہوگئے۔ دوسری قوموں کا نصیب بلند ہوتا چلا گیا۔ آزادی کے بعد بہت سے مسائل پیدا ہوئے۔ ایک بڑا مسئلہ غربت بھی ہے۔ مسلم کمیونٹی میں ہر تیسرا شخص غریب ہے۔ سچرکمیٹی نے 2006میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ 31فیصد مسلمان غربت کی لائن سے کافی نیچے ہیں۔ غربت کی سطح پر مسلمانوں کے اعدادوشمار میں اب بھی کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی چودہ فیصد ہے۔ چار پارلیمانی حلقے ایسے ہیں، جہاں صدفیصد مسلم آبادی ہے۔ دس ایسے حلقے ہیں، جہاں مسلمان 50سے 80فیصد تک ہیں۔ سیاست میں مسلمانوں کی فعال شراکت داری نہیں کے برابر ہے۔ مسلمانوں نے اقتصادی اور تعلیمی فروغ پر دھیان نہیں دیا اور سیاست میں ووٹ بینک بن کر رہ گئے۔ ایک زمانہ تھا جب کرکٹ کے گیارہ کھلاڑیوں میں کم از کم دو سے تین کھلاڑی ضرور ہوتے تھے۔ اب محمد سمیع ہیں، وہ بھی اکثر باہر ہی رہتے ہیں۔ اسپورٹس کے دیگر شعبوں میں بھی مسلمان نظر نہیں آرہے۔ فلم نگری ایک ایسی نگری تھی، جہاں کوئی تفریق نہیں تھی۔ وقت نے شاہ رُخ، عامر کو مسلمان بنادیا۔ سیاسی، معاشی، سماجی ہر سطح پر مسلمان بیک فٹ پر نظر آئے۔ مسلمان ہر جگہ بیک فٹ پر ہیں تو آگے کیا ہیں؟ کچھ برس قبل ’انڈیا ٹوڈے‘ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کا نصف حصہ جیلوں میں زندگی بسر کررہا ہے۔ مسلمان قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بعض جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد 65فیصد تک ہے۔ مسلمان جیلوں میں اکثریت میں ہیں۔ یہ بھی غوروفکر کا مقام ہے کہ مسلم قیدیوں کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟ سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مسلم قیدی مغربی بنگال میں ہیں۔ دوسرے نمبر پر مہاراشٹر ہے۔ 47فیصد مغربی بنگال میں، 32فیصد مہاراشٹر میں، 26فیصد اترپردیش میں، 23فیصد بہار میں۔ زیادہ تر مسلم قیدیوں سے انٹرویو کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان میں 75.5فیصد ایسے ہیں، جنہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا۔ اور ان کا کوئی کرمنل بیک گراو ¿نڈ بھی نہیں تھا۔ ایک بات اور بھی حیران کرنے والی ہے کہ زیادہ تر مسلم قیدیوں کی عمر 18سے 30برس کے درمیان تھی۔ کچھ کے معاملے برسوں سے عدالت میں زیرغور ہیں۔ یہاں سسٹم، قانون، پولیس، انتظامیہ کی باتیں کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس سسٹم کو ختم کرنا ہے تو تعلیم کے فیصد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ تعلیم کے راستہ اور ذرائع پیدا کرنے ہوں گے۔ مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے لوگوں پر بھی اعتبار کرنا بھول گئے ہیں۔ 71برسوں کی سیاست یہ بھی رہی ہے کہ امن پسند مسلمانوں کے کردار پر دہشت گردی کا بدنما داغ لگ گیا۔ یہ سیاست کوئی ایک دن یا پانچ برسوں کی نہیں ہے۔ جب کانگریس کی حکومت تھی، تب بھی یہی قصہ عام تھا۔ معصوم مسلمان فرضی مقدمات میں ملوث ہوئے۔ مالیگاؤں 2000، 2008 ، بم دھماکہ، مکہ مسجدبم دھماکہ، اجمیر درگاہ دھماکہ، سمجھوتہ ایکسپریس معاملہ، جالنہ پونا مسجد دھماکہ، ایسے کئی معاملے ہیں جو سامنے اے تو دہشت گردی کی سوئی مسلمانوں کی طرف موڑ دی گئی ـ حالات بدلتے چلے گئے،نئے سیاسی پس منظر کا مقابلہ کیسے ہو ؟ آپ اچھے بھی ہیں اور برے بھی ہیں . قرآن شریف ، حدیث کے حوالے ایک طرف ، دوسری طرف موب لچنگ میں کویی کمی نہیں، طلاق ثلاثہ ہندوستان کا سب سے بڑا مسلہ دوسری طرف انکے ہی ہونٹوں پر علم اور جمہوریت کی باتیں . آپ کو سہلایا بھی جا رہا ہے اور آپ پابندی کے دائرے میں بھی ہیں،آپ کی باتیں مخصوص سیاسی نظریات کے لوگ اس طرح رکھ رہے ہیں جیسے ان سے بڑھ کر ہمدرد کویی نہ ہو . اور ہر لہر آپکی مخالف ہو . آپ بیک وقت ہمدردی ، محبت اور گھٹن کے سایے میں ہوں اور سایے گھنے ہوتے جا رہے ہوں .پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، برسنے سے اُگتے ہیں. رومی نے کہا .مگر اس وقت آپ برس بھی نہیں سکتے،جو دریاؤں کی موجوں سے سحاب اٹھاتا ہے ، وہی راستہ دشمنوں کے لئے بھی بناتا ہے .علم دشمنوں کے پاس . ہم تہی دامن . رب تمہاری جگہ اور قوم پیدا کردے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکو گےـ مستقبل کی طرف جانے والے اندھیرے کے راستے کو ہم مشکل سے مشکل حالات میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں ـ اب اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری،تعلیم ضروری ـ ہم اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل بلند کریں ـ ہم برسنا بھی سیکھیں ـ ہم جینا سیکھیں ، ہم تجارت کو فروغ دیں، ہم اپنے ہنر کو آزماییں،ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں، پھر جو بیج کو مٹی کی تاریکی میں پالتا ہے ، وہ بھی ہمارے ساتھ ہوگاـ اس وقت ہمیں مضبوط بھی رہنا ہے اور آنکھیں بھی کھلی رکھنی ہیں ـ