پارلیمنٹ میں ملائم سنگھ کابیان:ذہنی دیوالیہ پن یا سیاسی چال؟

عبدالعزیز
ملائم سنگھ یادو کو ملک میں اور خاص طور پر اتر پردیش میں جو سیاسی ترقی ہوئی اور جس تیزی کے ساتھ ہوئی ،اس میں ان کی جدوجہد اور ان کے کردار سے کہیں زیادہ دوسروں کا کردار اور جدوجہد شامل ہے۔ چودھری چرن سنگھ کانگریس کی مخالفت میں اور کسانوں کی حمایت میں اتر پردیش کے سب سے بڑے لیڈر ہوگئے تھے اور پھر ترقی کرتے کرتے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچے۔ اگرچہ ان کی حکومت چند مہینے میں ختم ہوگئی اور ان کو پارلیمنٹ کے اجلاس کا بھی سامنا کرنے کی نوبت نہیں آئی، مگر وہ اتر پردیش کے بڑے لیڈروں میں شامل ہوگئے۔ ان کے سیاسی چیلوں میں اکثر و بیشتر ملائم سنگھ یادو کا نام آتا تھا۔ اس زمانے میں ملائم سنگھ یادو کا نمایاں شخصیتوں میں شمار نہیں ہوتا تھا؛ لیکن جب کانگریس کے خلاف وی پی سنگھ کی تحریک چلی اور ان کی تحریک کامیاب ہوئی ،تو کامیابی کے بعد اتر پردیش میں وی پی سنگھ (وشوناتھ پرتاپ سنگھ) کی وجہ سے ملائم سنگھ کا ستارہ چمکا اور بہار میں لالو پرساد یادو کا۔ وی پی سنگھ غریبوں کے صحیح معنوں میں مسیحا تھے اور منڈل کمیشن کی سفارشات کو انھوں نے جاتے جاتے لاگو کیا تھا، ملائم سنگھ، وی پی سنگھ کی مدد اور کوشش سے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے؛ لیکن جب چندر شیکھر اور وی پی سنگھ میں سے ملائم سنگھ کو کسی ایک کو چننا تھا ،تو ملائم سنگھ نے وی پی سنگھ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اس طرح یہ ملائم سنگھ کی پہلی سیاسی بے وفائی تھی۔
رام مندر کی تحریک کے موقع پر انھوں نے کارسیوکوں پر کس پس منظر میں گولی چلائی تھی یا چلوانے پر مجبور ہوئے تھے، آج بھی بہت واضح نہیں ہے؛ لیکن اس کی وجہ سے مسلمانوں میں ملائم سنگھ کی غیر معمولی شہرت ہوگئی تھی۔ بی جے پی نے بھی یوپی میں ملائم سنگھ یادو کو اپنا خاص دشمن بنا لیا تھا، جس کی وجہ سے یادو اور مسلمانوں کا ووٹ ملائم سنگھ کو ایک زمانے تک ملتا رہا۔ ملائم سنگھ نے مسلمانوں کیلئے کچھ کیا ہو، ایسی کوئی بات نہیں ہے، وہ محض مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے بی جے پی کے خلاف شدت کے ساتھ بولتے تھے اور مسلمان بھی اسی وجہ سے ان پر مرمٹتے تھے۔ ان کی یا ان کے بیٹے کی جو آخری حکومت اتر پردیش میں ہوئی ہے، اس میں لگ بھگ ڈھائی سو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، مظفر نگر کا فساد بہت ہی سنگین تھا ،جس میں مسلمانوں کے تیس بتیس گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے،دو ڈھائی سو لوگ شہید ہوئے اور لگ بھگ 70 ہزار فساد زدگان بے گھر اور بے یارو مددگار ہوئے، دو ڈھائی سال تک جاڑے اور گرمی میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر فساد زدگان کیمپوں میں زندگی گزارتے رہے، بارش کے زمانے میں ہوا اور طوفان کی زد میں رہتے تھے۔ ملائم سنگھ یادو اور ان کے مشیر کار و خوشامدی امر سنگھ جن کا فلمی دنیا سے تعلق ہے ،وہ ایکٹر اور ایکٹریس کو اسی زمانے میں لکھنؤ میں لاتے تھے اور ملائم سنگھ جن کو لوگ ’نیتا جی‘ کہتے ہیں ،ان کی سالگرہ دھوم دھام سے مناتے تھے اور کروڑوں روپیہ ان کی سالگرہ پر پانی کی طرح بہایا جاتا تھا؛ لیکن کیمپوں میں جو بچے اور بچیاں تھیں، انھیں اسکول جانے تک کی اجازت نہیں تھی؛ بلکہ ملائم سنگھ اور ان کے لوگ چڑاتے تھے کہ یہ لوگ کیمپوں میں کانگریس کے دباؤ سے ٹکے ہوئے ہیں، ملائم سنگھ کی حکومت مسلم نواز سمجھی جاتی تھی؛ لیکن نہ تو مصیبت زدگان کی گھر واپسی ہوئی اور نہ ہی ان کو ان کی جائیدادیں دی گئیں اور جو گاؤں یا بستیاں جلادی گئیں یا لوٹ لی گئی تھیں، ان کو وہاں بسایا نہیں گیا۔
کہنے کو تو اتر پردیش میں اکھلیش سنگھ یادو کی حکومت تھی؛ لیکن حقیقت میں پردے کے پیچھے ملائم سنگھ اور ان کے چہیتے بھائی شیو پال یادو حکومت کرتے تھے، اکھلیش کو حکومت کرنے کی نہ کھلی چھوٹ تھی اور نہ اپنی مرضی سے وہ کچھ کرسکتے تھے، اتر پردیش میں جب بھی سماج وادی پارٹی کی حکومت ہوئی ،ملائم سنگھ یادو کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے اور غنڈوں اور بدمعاشوں کا دور دورہ بھی ہوا؛ اسی لئے کماری مایا وتی کہا کرتی تھیں کہ ملائم سنگھ یادو غنڈہ ہے اور اسی کے راج میں غنڈوں کا راج ہوتا ہے، یہ بات حقیقت کے خلاف نہیں تھی، کانگریس کے زمانے میں بھی ان پر بہت سے الزامات تھے، جس کی وجہ سے وہ سی بی آئی سے ڈرتے تھے، جب نریندر مودی کا زمانہ آیا، تو وزیر اعظم ہونے کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ کی حلف برداری کے اجلاس میں لکھنؤ آئے ،تو ملائم سنگھ یادو نے اسٹیج پر ٹی وی کے سامعین اور حاضرین کی پرواہ کئے بغیر نریندر مودی سے سرگوشی کی، جس کا بہت دنوں تک چرچا رہا، کچھ لوگوں نے یہ لکھا کہ ملائم سنگھ نے مودی سے اپنے تحفظ اور سلامتی کیلئے سرگوشی کی ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ ملائم سنگھ نے مودی سے التماس کیا کہ میرے بیٹے کا خیال رکھنا، جب اکھلیش سے پوچھا گیا کہ نیتا جی نے مودی جی سے کیا کہا ؟ تو اکھلیش نے کہاکہ نیتا جی جانے اور مودی جی جانے، مجھے کچھ معلوم نہیں اور نہ میں نے کچھ سنا اور نہ جاننے کی کوشش کی۔ ملائم سنگھ کی بے وفائیاں اور خلاف ورزیاں اور اس طرح کی سرگوشیاں بہت سی ہیں ،جو ایک لمبی داستان ہے، لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں ،جو شاید بھلائی نہیں جاسکتیں۔
ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی کے درمیان صدر جمہوریہ کیلئے تین ناموں پر اتفاق پر ہوا، منموہن سنگھ ، گوپال کرشن گاندھی اور سومناتھ چٹرجی؛ لیکن دوسرے ہی دن ملائم سنگھ بدل گئے اور انھوں نے اعلان کیا کہ اگر کانگریس کی طرف سے کوئی سیاسی شخصیت امیدوار ہوتی ہے، تو وہ اس کی حمایت کریں گے، نتیش کمار جو آج ملائم سنگھ یادو کیلئے تعریفی کلمات کا اظہار کر رہے ہیں، بہار کے ’عظیم اتحاد‘ کے موقع پر انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لکھنؤ میں کانگریس، سماج وادی پارٹی ، جے ڈی یو اور آر جے ڈی کی میٹنگ تھی، اتر پردیش اور بہار کے اتحاد کیلئے ملائم سنگھ یادو کو لیڈر بھی چن لیا گیا تھا؛ لیکن عین موقع پر وہ لکھنؤ کی میٹنگ میں نہیں آئے اور دوسرے روز بیان دیا کہ بہار میں بی جے پی کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اس پر نتیش کمار نے ان کی بیوفائی پر بہت کوسا تھا، اب وہی ملائم سنگھ یادو ہیں، جو گزشتہ روز لوک سبھا کے سولہویں اجلاس کے آخری دن اپنی مٹی پلید کرتے ہوئے مودی کے چرنوں میں نہ جانے کیوں گرنے پر مجبور ہوئے؟ سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان کا بیان ہے کہ ان سے مودی کے حق میں دباؤ ڈال کر بیان دلوایا گیا؛ لیکن میرا خیال ہے کہ ملائم سنگھ یادو خود بہروپیا ہیں اور ان کے جو دوست امر سنگھ ہیں ،وہ سیاسی دلال ہیں، دونوں کی جوڑی کبھی بھی پاور سے الگ سے رہنا نہیں چاہتی، یہ فیصلہ دونوں کی رضامندی سے ہوا ہوگا اور دونوں مودی حکومت سے قریب رہنے کے خواہاں ہوں گے، ممکن ہے کہ ملائم سنگھ کو سی بی آئی کا بھی ڈر ہو، ملائم سنگھ نے یہ بیان ایسے موقع پر دیا، جب اتر پردیش میں سماج وادی کے لیڈروں اور کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جارہا تھا اور ان کو مارا پیٹا جارہا تھا اور ان کی گرفتاریاں ہورہی تھیں، اس سے ایک روز پہلے اکھلیش سنگھ یادو کو الہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ کے پروگرام میں جانے سے الہ آباد ایئرپورٹ پر روک دیا گیا تھا، ملائم سنگھ یادو کو شاید معلوم نہیں ہے کہ وہ کس پارٹی میں ہیں ؟بی جے پی میں ہیں یا سماج وادی پارٹی میں ہیں یا اپنے چھوٹے بھائی کی نوزائیدہ پارٹی میں ہیں، انھوں نے ایک طرح سے یہ ظاہر کردیا کہ وہ اور ان کے بھائی کی پارٹی بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اتر پردیش کی اسمبلی کے گزشتہ انتخاب سے پہلے چچا بھتیجا کی لڑائی میں ملائم سنگھ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ تھے، اس لڑائی میں باپ اور چچا دونوں کو بری طرح شکست ہوئی،ایم پی ، ایم ایل اے اور سماج وادی پارٹی کے ممبران و کارکنان چالیس افراد کو چھوڑ کر سب نے اکھلیش کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر نے سماج وادی پارٹی کے انتخابی نشان کو ملائم سنگھ کے بجائے ان کے بیٹے اکھلیش سنگھ یادو کے حق میں فیصلہ کیا، اس شکستِ فاش سے یہ سمجھا جارہا تھا کہ شاید وہ اپنے بیٹے کے سخت خلاف ہوجائیں گے اور اسمبلی کے انتخاب میں بیٹے کی مخالفت کر یں گے؛ لیکن ان کو اپنی وقعت معلوم ہوگئی تھی کہ اس وقت ان کو بی جے پی بھی گھاس ڈالنے کو تیار نہیں تھی اور بیٹا نے بھی منہ موڑ لیا تھا۔
اب ،جبکہ اتر پردیش میں ان کے بیٹے اکھلیش کی زبردست کوششوں سے بی جے پی کے خلاف اتحاد ہوا ہے تو اس اتحاد کو کمزور کرنے کیلئے لوک سبھا کے آخری اجلاس میں ملائم سنگھ یادو نے نہایت احمقانہ تقریر کی، ان کا یہ کہنا کہ اجلاس میں جو سارے لوگ شامل ہیں، وہ پھر سے منتخب ہوکر لوک سبھا کی زینت بنیں اور نریندر مودی جو سب کو ساتھ لے کر چلے ،وہ دوبارہ وزیر اعظم کی کرسی پر جلوہ افروز ہوں۔ پہلی بات تو کوئی بیوقوف ہی کہہ سکتا ہے کہ لوک سبھا کے جو ممبران ہیں، بہت سے جو بدعنوانیوں میں مبتلا ہیں اور بہت سے لوگوں کے خلاف فوجداری کا مقدمہ دائر ہے اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ،جنھوں نے اپنے حلقۂ انتخاب میں کوئی کام ہی نہیں کیا ،جن میں خود ملائم سنگھ یادو بھی شامل ہیں، سب کیلئے ملائم سنگھ کی تمنا اور آرزو ہے کہ دوبارہ لوک سبھا میں چن کے آئیں، اسے حماقت اور بیوقوفی کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔
دوسری بات ،جو نریندر مودی کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے زمانۂ وزارت میں سب کو ساتھ لے کر چلے ہیں ، یہ اس وقت کا سب سے بڑا جھوٹ ہے؛ کیونکہ نریندر مودی کی وجہ سے پورے ملک میں انارکی پھیلی ہوئی ہے، ہندو اور مسلمانوں میں سنگین قسم کی منافرت پائی جاتی ہے، ہجومی تشدد کے نام پر روز بروز دہشت گردانہ واقعات ہوتے ہیں، پولس افسر تک کو دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے اور ریاست کا نالائق وزیر اعلیٰ اسے حادثے سے تعبیر کرتا ہے، کسی کی جان جائے آپ کی ادا ٹھہری کے مصداق یہ بات ہے۔ پولس افسر کے گھر میں رونا پیٹنا تھا ، افسر کی بیوی بیوہ ہوگئی ، بچے یتیم ہوگئے ۔ اس پر یہ کہا جارہا ہے کہ یہ حادثہ ہوا۔ دو تین مہینے تک خاص مجرم یوگیش راج پولس کی گرفت سے محض اس لئے باہر تھا کہ اس کا تعلق بجرنگ دل سے تھا۔ جس ریاست میں ایسی صورت حال ہو اس کا سابق معمر وزیر اعلیٰ اس ریاست کے موجودہ وزیر اعلیٰ کے سرپرست کی یعنی نریندر مودی کی واپسی کی دعا کر رہا ہے اور بالواسطہ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی ان کی جارحانہ سیاست اور سرگرمیوں کیلئے آشیرواد دے رہا ہے، میرے خیال سے ملائم سنگھ کے تابوت میں یہ آخری کیل تھی، ان کی سیاسی موت اسی وقت ہوچکی تھی، جب اپنے بیٹے کے سامنے انھوں نے ہار تسلیم کرلیا تھا اور یہ کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے جوان بیٹے کے خلاف کوئی سیاست نہیں کریں گے، اب ایک طرح سے ان کی سیاست کا کوئی معنی نہیں؛ اس لئے کہ ان کا دماغی توازن شاید صحیح نہیں ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068