نیٹ ورک مارکیٹنگ میں شریعت کے حکم ٹوٹتے ہیں اس لئےیہ تجارت جائز نہیں

کل ہند اسلامک علمی اکیڈمی کی ماہانہ نشست میں ہوئے اہم فیصلے
کانپور۔ دور جدید میں پیش آنے والے نئے اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے شہر کانپور کے جید علماء و مفتیان پر مشتمل کل ہند اسلامک علمی اکیڈمی کی ماہانہ نشست اکیڈمی کے آفس جمعیت بلڈنگ رجبی روڈ میں اکیڈمی کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی ،جس میں اہم مسائل وقف علی الاولاد میں پہلی نسل کے ہوتے ہوئے دوسری و تیسری نسل مستحق ہوگی یا محروم ؟اگر مستحق ہوگی تو مذکر و مؤنث میں استحقاق برابر کا ہوگا یا کم و بیش اور زیادہ مستحقین ہونے کی صورت میں وقف سے استفادہ کی صورت کیا ہوگی پر کہا گیا کہ وقف علی الاولاد کی صورت میں واقف کو مکمل وضاحت کر دینی چاہئے کہ وہ موقوف علیہ اولاد میں اپنی جائیداد کو کس طرح حقدار بنانا چاہتا ہے۔ اگر وقف علی الاولاد مطلق رکھا ،کوئی وضاحت نہ کی تو اگر واقف حیات ہو تو اس سے پوچھ کر اس کے مطابق عمل کیا جائے اور اگر واقف زندہ نہ اور وضاحت نہ مل رہی ہوتو ایسی صورت میں واقف کی ساری اولاد مستحق ہوگی اور اولاد ذکور و اناث دونوں شامل ہوں گی ۔ اور جب تک پہلی اوردوسری نسل کا کوئی بھی فرد موجودہے تیسری نسل اس وقف سے استفادہ کی حقدار نہ ہو گی۔یعنی اس وقف کی آمدنی کا حصہ اولاً پہلی نسل کو ملے گا ، پہلی نسل کے ختم ہونے پر دوسری نسل حقدار ہوگی،البتہ دو نسلوں کے بعد آنے والی نسلوں میں قریب و بعید ساری ہی اولادیں ذکور و اناث بیک وقت اس نفع میں شریک ہوں گے لیکن چونکہ وقف علی الاولاد کی صورتوں میں بڑا تنوع ہے اور بہت سی پیچیدہ بحثیں ہیں اس لئے وقف کا جو مسئلہ درپیش ہو اس کو اپنے معتبر علماء و مفتیان سے رجوع کرکے شرعی حل نکالنا چاہئے۔ چونکہ وقف علی الاولاد وقف کی ایک صورت ہے اور وقف کی املاک کو بیچنا جائز نہیں اس لئے وقف علی الاولاد کو بھی بیچنا درست نہیں۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کی جدیدشکلیں وجود میں آ رہی ہیں جس میں کمپیوٹر تعلیم اور بعض سامان کی خریداری بھی ہر ممبر کو کرنی ہوتی ہے ،کیا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں کوئی جائز شکل بھی ہے ؟ اور اس کے عدم جواز کی وجوہات کیا ہیں پر بحث کے بعد متفقہ طور پر کہا گیا کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کی جو بھی صورتیں رائج ہیں وہ کئی شرعی قباحتوں اور ناجائز امور پر مشتمل ہوتی ہیں مثلاً (1) کم قیمت سامان کی غیر معمولی قیمت میں خریدو فروخت جو غبن فاحش ہے ۔ (2) ممبرسازی پر نفع کو موقوف رکھنا جو بیع مشروط ہے ۔ (3)خریدار کمپنی کا ایجنٹ بھی بنتا ہے ،فروخت کے ساتھ اجارہ کے معاملے کو جوڑاجاتاہے جوکہ صفقہ در صفقہ کی شکل ہے، نیز اس میں ایک کا نفع بلا محنت کے ممبروں میں تقسیم ہوتااور ممبر سازی ہونے پر محروم نہ ہوتا ہے یہ ایک قسم کا غرر اور قمار ہے اور شریعت کے مزاج کے خلاف ہے ، جو نوجوان اس طرح کے کاروبار میں جڑتے ہیں وہ جائز آمدنی اور کسب معاش کے اختیار کرنے کے بجائے وہ بے جہت اور سست رہ کر کام کے نہیں رہتے اور عموماً ایسی کمپنیاں بھی ایک مدت کے بعد دیر سویر فراڈ کرکے میدان سے بھاگ کھڑی ہوتی ہیں اور بعد میں شامل افراد کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں۔ بہر حال نیٹ مارکیٹنگ میں حصہ لینا شرعاً جائز نہیں۔
۲۹؍ رمضان المبارک جمعرات کو بعض جگہ رؤیت کی تصدیق ہو گئی تھی ، کانپور میں عدم رؤیت کا فیصلہ ہوا تھا ؟ بعض لوگوں نے جمعہ کو روزہ دوسری جگہ کی تصدیقات کو بنیاد بنا کر توڑ دیا تھا ، ایسی صورت میں روزہ توڑنے والوں کو کیا روزہ قضاء رکھنا ہوگا اور رکھنا ہو گا تو صرف قضاء ہوگی یا کفارہ بھی ہوگا ؟ یاکچھ نہیں پر بات چیت کے بعد کہا گیا کہ علاقہ کی رؤیت ہلال کمیٹیوں کے ثبوت شرعی کے بغیر 29کی رؤیت کو صحیح سمجھ کر روزہ نہیں رکھا تھا یا رکھ کر توڑ دیا تھا ان کو ایک روزہ کی قضاء لازم ہے، چونکہ 29کی رؤیت میں بعض لوگوں کا اختلاف ہوا اور شبہ کسی نہ کسی درجہ میں پایاگیا اس لئے کفارہ لاز م نہ ہوگا۔اس موقعہ پر میٹنگ میں اکیڈمی کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی، نائب صدرمولانا خلیل احمد مظاہری، جنرل سکریٹری مفتی اقبال احمد قاسمی، سکریٹری مفتی عبد الرشید قاسمی ، مولانامحمدانیس خاں قاسمی، مولانا محمد انعام اللہ قاسمی، مفتی سید محمد عثمان قاسمی ، مفتی عزیز الرحمان قاسمی، مفتی محمد سعد نور قاسمی، مفتی محمد دانش قاسمی، مفتی حفظ الرحمان قاسمی، مفتی مفتاح حسین قاسمی ، مفتی سعود مرشد قاسمی، مفتی اظہار مکرم قاسمی اراکین و مدعو خصوصی مولانا فرید الدین قاسمی،مولانا ایاز ثاقبی موجود تھے ۔