نکاح کی تقاریب اور ہمارا معاشرہ

مولانا عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ
نکاح ،عین تقاضۂ فطرت اور انسان کی بنیادی ضرورت ہے ؛جس طرح کھانا،پینا ،پہننا ،اوڑھنا انسان کی ضروریات میں شامل ہے ، اسی طرح ایک عمر کو پہونچنے کے بعد نکاح کرنا بھی بشری زندگی کا لازمہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان سے آسان طریقے اور پوری سادگی کے ساتھ انجام دینے کا حکم دیا ہے اوراس بات سے بھی آگاہ کردیا ہے کہ بابرکت نکاح وہی ہے جس میں خرچ کم سے کم ہو۔اسلام کی نظر میں نکاح محض جسمانی ضرورت کی تسکین اور نفسانی خواہش کی تکمیل کا نام نہیں ہے ، بلکہ اس سے دنیاو آخرت کے بہت سارے احکام وابستہ ہیں ۔ چنا ں چہ اسلام نے نکاح کو انسانیت کی بقا وتحفظ کا بنیادی سبب بتلایا،احساس بندگی اور شعور زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ،عفت وپاکدامنی کے حصول کے لیے اہم ڈھال قراردیا اور معاشرے میں بڑھتی بے حیائی و بے راہ روی پر قدغن لگانے کا موثرہتھیار شمارکیا ۔مزید برآں حضور ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت او رایک جگہ آدھے ایمان سے تعبیرکیا: حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:148جب کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے؛ لہٰذا اسے چاہیے کہ باقی آدھے دین کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا رہے ۔147(بیہقی)
اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا، ہمارے معاشرے نے اسے اتنا ہی مشکل بنا ڈالا،دو گواہوں کی موجودگی میں صرف ایجاب وقبول پر مشتمل نکاح کے اس بابرکت معاہدے پر ہم نے نت نئی رسموں اورفضول خرچیوں کا ایسا بوجھ ڈالا کہ ایک غریب؛ بلکہ متوسط آمدنی والے شخص کے لئے بھی وہ ایک نا قابل عبور پہاڑ بن کر رہ گیا ۔فی زمانناکوئی شخص اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک اس کے پاس(گری پڑی حالت میں بھی)دو تین لاکھ روپئے موجود نہ ہوں۔یہ لاکھ دو لاکھ روپئے نکاح کی حقیقی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے نہیں؛بلکہ صرف فضول رسموں کا پیٹ بھرنے کے لئے درکار ہیں، جنہیں خرچ کرنے سے زندگی کی حقیقی ضروریات پوری کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔
شریعت کی طرف سے نکاح کے موقع پر صرف دعوت ولیمہ مسنون تھی اور وہ بھی ہر شخص کی استطاعت کے مطابق؛ مگر اب نکاح سے قبل اور بعد تقریبات اور دعوتوں کا سلسلہ اس طرح رواج پاچکاہے کہ صرف منگنی کی تقریب مستقل شادی کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور عین نکاح کے موقع پر مہندی ،سانچک،چوتھی سے لے کر سات جماگیوں تک تقریباً ہر روز کسی نہ کسی تقریب کا اہتمام لازمی سمجھ لیا گیا ہے ، جس کے بغیر شادی بیاہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
آج ہمارا مسلم معاشرہ اپنی جائز و ناجائز دولت کی تشہیر اور معاشرے میں عزت و شہرت کے لیے سرگرم عمل ہے ، ہم کفایت شعار قوم سے 148فضول خرچ قوم147 بن چکے ہیں،نمود و نمائش پر یقین رکھتے ہیں اور ذہنی طور پر دکھاوے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ یقین کیجئے کہ ہماری ترقی کی راہ میں ہمارا مسرفانہ رویہ اور فضول خرچی کی عادت دیوار چین بن کر کھڑی ہے ۔ دنیا کے کسی اور اسلامی ملک میں شادی و بیاہ کی نہ اتنی رسومات ہیں اور نہ ہی اس قدر دولت پانی کی طرح بہائی جاتی ہے جس طرح ہمارے ہاں اس موقع پر روپیے کو آگ لگائی جاتی ہے ۔پھر تقریبات میں بھی زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ نت نئے اخراجات کا اضافہ ہورہا ہے ، نئے نئے مطالبے سامنے آرہے ہیں،چھوٹی بڑی رسمیں وجود پذیرہورہی ہیں،غرض فضولیات کا ایک ڈھیر ہے جس نے شادی کو غریب ومتوسط طبقہ کے لئے ایک ایسی ذمہ داری میں تبدیل کردیا ہے جو عام طور پر صرف حلال آمدنی سے پوری نہیں ہوسکتی؛لہٰذا اسے پورا کرنے کے لئے کہیں نہ کہیں ناجائز ذرائع کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اس طرح نکاح کا یہ کار خیر نہ جانے کتنے حرام کاموں اور کتنے گناہوں کا مجموعہ بن کر رہ گیاہے ۔
تقریبات میں اعتدال:
خوشی کے مواقع پر اعتدال کے ساتھ خوشی منانے پر شریعت نے کوئی پابندی نہیں لگائی اور کیونکر لگائے گی ؛جب کہ اسلام146146افراط و تفریط سے پاک ایک اعتدال پسند دین ہے ؛جو ہر چیز میں میانہ روی کو پسند کرتا ہے ، اسلامی نظام کوئی بے نور اورخشک نظام نہیں؛ جس میں تفریحِ طبع کی کوئی گنجائش نہ ہو؛ بلکہ وہ فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو رو بہ عمل لانے والاکامل دین ہے ۔ اس میں نہ تو خود ساختہ 148رہبانیت وعزلت گزینی147 کی گنجائش ہے ، نہ ہی بے کیف و بے ہنگم زندگی بسر کرنے کی اجازت ۔
خوشی و مسرت کے موقع پر جائزحدود و قیود میں رہتے ہوئے تقریب منعقدکرنا اسلام میں جائز و مستحسن ہے ؛ایسی تقریب جو سنت سے ثابت ہو، اسلاف سے منقول ہو،جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو،کسی کے ساتھ ظلم وناانصانی نہ ہو،بے جاتکلفات نہ ہو، غیرمعمولی اخراجات نہ ہو،مختلف رسوم و رواج نہ ہو؛بل کہ فرائض و واجبات کا التزام ،حقوق و آداب کا اہتمام اورایک دوسرے کامکمل احترام ہو ۔
نکاح میں سادگی کے نمونے :
ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیاں، آپﷺ کی پیاری بیٹیوں کا نکاح اور صحابہ کرام کا نکاح نمونہ ہے ۔ رسول اللہﷺ نے اپنی چار صاحب زادیوں کی شادی کی، ان میں سے ام کلثوم اور حضرت رقیہ کو کسی قسم کا جہیز دینا ثابت نہیں ہے ، البتہ حضرت زینب کو حضرت خدیجہ نے اپناایک ہار دیا تھا، جو جنگ بدرمیں حضرت زینب نے اپنے شوہر ابو العاص بن ربیع کو چھڑوانے کے لیے بطور فدیہ بھجوایا تھا، جسے رسول اللہﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کے بعد واپس بجھوایا۔ حضرت فاطمہ کو حضرت علی نے مہر میں ایک ڈھال دی تھی، جسے فروخت کرکے رسول ﷺ نے حضرت فاطمہ کو گھر کا ضروری سامان پانی کا مشک، تکیہ اور چادر بنوا کردیا ۔
حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار چوٹی کے مالدار صحابہؓ میں ہوتا تھا، دولت ان پر برستی تھی، مکے سے خالی ہاتھ آئے تھے لیکن جب ان کے انصاری بھائی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال ان کو پیش کیا تو انہوں نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کر لی اور دعا دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بازار کا راستہ بتا دیجئے ۔ یوں انہوں نے مدینہ منورہ میں تجارت کا آغاز کیا جو کہ بعد ازاں اتنی وسعت اختیار کر گئی کہ ان کا تجارتی مال سینکڑوں اونٹوں پر لد کر باہر جاتا اور اسی طرح باہر سے آتا ۔ تجارت کے علاوہ زراعت بھی وسیع پیمانے پر کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت کے ساتھ ساتھ دل کے بھی غنی تھے ۔ اپنی دولت راہ خدا میں بے دریغ خرچ فرمایا کرتے تھے ۔ ابن اثیر کے مطابق حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو بار چالیس چالیس ہزار دینار راہ خدا میں وقف کئے ۔ ایک مرتبہ جہاد کے موقع پر پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ حاضر کئے ۔ سورۃ براء ۃ کے نزول کے موقع پر چار ہزار درہم پیش کئے ۔ ایک مرتبہ اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینا ر میں فروخت کی اور یہ ساری رقم فقراء ، اہل حاجت اور امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک مرتبہ شام سے تجارتی قافلہ لوٹنے پر رسول اکرم ﷺ کا یہ قول سنا کہ عبد الرحمٰن ابن عوفؓ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گے تو پورا قافلہ راہ خدا میں وقف کر دیا ۔ ابن سعدؒ کے مطابق ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کر کے ساری رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک اور موقع پر ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمان غنیؓ کو فروخت کر کے وہ رقم بھی راہ خدا میں وقف کر دی ۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی میں ہزاروں غلام اور لونڈیاں آزاد کیں ۔
یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کی دولت کا مختصر سا جائزہ ہے ، جس سے بخوبی ظاہر ہے کہ وہ اپنے وقت کے کروڑ پتی آدمی تھے ،اتنے بڑے رئیس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا 133 تو اتنی سادگی سے 133 کہ وقت کے نبی رسول اکرم ﷺ تک کو بھی مدعو نہیں کیا ۔
جہیز کی لعنت :
مختلف رسوم و رواج میں صرف جہیز کی ایک رسم ہی لے لیجیے ! جس کے سبب ملت کی ہزاروں بیٹیاں جوانی کی عمریں پار کررہی ہیں، ہزاروں غریب اور متوسط خاندان جہیز نہ دے سکنے کے سبب زندگی کے سکون سے محروم ہیں، جس گھر میں شادی کی لائق ایک سے زائد جوان بیٹیاں موجود ہیں، وہاں کے سرپرستوں کی رات کی نیندیں اُڑ چکی ہیں، بہت سی غربت کی ماری بچیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں اور اپنے دین وایمان کا سودا کررہی ہیں، بعض لڑکیاں شادی میں تاخیر یا شادی سے مایوس ہوکر خود کشی کر رہی ہیں، جہیز کی لعنت نے ہزاروں خاندانوں کو اُجاڑ کے رکھ دیا ہے ،جہیز کے لالچی والدین نے شادی جیسے مقدس عمل کوکاروبار اورتجارت بنالیا ہے ، ایک طرف تو ہم میں سے بہت سے لوگ جہیز کو لعنت سمجھتے ہیں دوسری طرف شادی کے موقع پر لڑکے کا پورا خاندان یہ ہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں لڑکی والے فلاں چیز جہیز میں دیں گے کہ نہیں دیں گے ۔ اب تو لڑکی کی جسامت سے زیادہ جہیز کی جسامت145 لڑکی کی صورت سے زیادہ جہیز کی صورت اور لڑکی کی سیرت سے زیادہ جہیز کی قیمت دیکھی جاتی ہے ۔
رسوم و رواج کا سد باب :
شادی بیاہ میں خرافات و رسومات کی افسوس ناک صورت حال کا حل بتلاتے ہوئے مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ "اس صورت حال کا کوئی حل اس کے سوا نہیں ہے کہ اوّل تو با اثر اور خوش حال لوگ بھی اپنی شادیوں کی تقریبات میں حتی الامکان سادگی اختیار کریں اور ہمت کرکے ان رسموں کو توڑیں جنہوں نے شادی کو ایک عذاب بنا کر رکھ دیا ہے دوسرے اگر دولت مند افراد اس طریق کار کو نہیں چھوڑتے تو کم از کم محدود آمدنی والے افراد یہ طئے کرلیں دولت مندوں کی حرص میں اپنا پیسہ اور توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں گے اور اپنی استطاعت کے حدود سے آگے نہیں بڑھیں گے ۔
اس سلسلے میں اگر ہم مندرجہ ذیل باتوں کا خاص اہتمام کرلیں تو امید ہے کہ مذکورہ خرابیوں میں انشاء اللہ نمایاں کمی واقع ہوگی۔
خاص نکاح اور ولیمہ کی تقریبات کے علاوہ جو تقریبات منگنی، مہندی، ابٹن اور چوتھی وغیرہ کے نام سے رواج پاگئی ہیں ان کو یکسر ختم کیا جائے اور یہ طئے کرلیا جائے کہ ہماری شادیوں میں یہ تقریبات نہیں ہوں گی، فریقین اگر واقعی محبت اور خوش دلی سے ایک دوسرے کو کوئی تحفہ دینا یا بھیجنا چاہتے ہیں وہ کسی باقاعدہ تقریب اور لاؤ لشکر کے بغیر سادگی سے پیش کردیں گے ۔
اظہار مسرت کے کسی بھی مخصوص طریقے کو لازمی اور ضروری نہ سمجھا جائے بلکہ ہر شخص اپنے حالات اور وسائل کے مطابق بے تکلفی سے جو طرز عمل اختیار کرنا چاہے کرلے نہ وہ خود کسی کی حرص کا شکار یا رسموں کا پابند ہو نہ دوسرے اسے مطعون کریں۔
نکاح اور ولیمے کی تقریبات بھی حتی الامکان سادگی سے اپنے وسائل کی حد میں رہتے ہوئے منعقد کی جائیں اور صاحب تقریب کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ اپنے خاندانی یا مالی حالات کے مطابق جس کو چاہے دعوت دے اور جس کو چاہے دعوت نہ دیں، اس معاملے میں بھی کسی کوئی سنجیدہ شکایت نہیں ہونی چاہئے ۔”
آخری بات :
شادی بیاہ کے معاملات میں اسراف کے بجائے بہترین انسانی اقدار اور مفید معاشرتی رویوں پر زیادہ سے زیادہ زور دینا چاہیے ،بے جارسوم کا بوجھ دلہن والوں پر ہو نہ دولہے والوں پر،مہمان پر ہو نہ میزبان پر۔ تقریبات میں سادگی، متانت اور شائستگی کا پہلو نمایاں ہو،بزرگوں کی ہدایات کا احترام کیا جائے اور بچوں کے تقاضوں کو خوش اسلوبی سے سلجھایا جائے ۔ ایسی ہی باتوں پر عملدرآمد سے ایک ایسے معاشرے کے خواب کو حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے جہاں کے افراد پریشانیوں، اُلجھنوں اور ذہنی تناؤ سے محفوظ و مامون ہوں۔ زندگی کے تقاضے بہت سادہ ہیں، فطرت سادگی پسند ہے ؛لیکن ہم لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگیاں مشکل بناتے اور فطرت کو آلودہ کرتے ہیں۔