نفرت پرمبنی جرم کا سدباب کیسے ہو؟

عبدالعزیز
مودی راج میں اب سب کچھ ممکن ہے۔ پہلے کوئی ہمت نہیں کرتا تھا کہ وہ ظالم یا قاتل کی کھلم کھلا مدد کرے ، اس کو شاباشی دے اورمجرموں کو ہار پہنائے اوراسے ہیرو بنانے کی کوشش کرے، مگراس نفرت اورکدورت کے راج میں سب کچھ ممکن ہوچکا ہے، جو سوچابھی نہیں جاسکتا ،وہ جرم بھی آسانی سے ہونے لگا ہے۔ جو لوگ اس جرم میں ملوث ہیں، وہ سب کے سب بی جے پی یا آر ایس ایس یااس کی ذیلی تنظیموں کے لوگ ہیں ،جن کے لئے ماب لنچنگ یا ہجومی تشدد دائیں ہاتھ کاکھیل ہوگیا ہے، جب چاہتے ہیں ،جہاں چاہتے ہیں ،وہ شک شبہ کی بنیاد پر اورگائے کے تحفظ کے نام پر جس کو چاہتے ہیں ،سرِراہ مارڈالتے ہیں، اس طرح کی وارداتوں کے موقع پر پولس جان بوجھ کر دیر کرکے آتی ہے؛ تاکہ شرپسند عناصر اپنا مقصد پورا کرلیں اورجب پہنچتی ہے ،تو وہ ظالموں کا پتہ لگانے کے بجائے مظلوں کو ڈھونڈتی ہے اوران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں دلچسپی لیتی ہے، ظالموں کی پیٹھ ٹھپتھپاتی ہے اوران کی عزت افزائی کرکے چھوڑ دیتی ہے، چیخ پکار پراگر پولس کچھ کرنابھی چاہتی ہے ،تو لیڈران اوروزرامجرموں کو بچانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں، ان کے وکلا بھی ان کی جرم پوشی میں کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایسی صورت میں مظلوم یامقتول کے اعزا و اقارب اورہمدردان بے دست و پا ہوجاتے ہیں اور ظالم بری ہوجاتاہے، مظلوم جیل کے سلاخوں کے پیچھے کردیاجاتاہے اوراگر ظالموں نے مارڈالا ہے، تو پولس یاتولاش خود دفن کردیتی ہے یاورثا کے حوالے کردیتی ہے،گائے کے محافظوں کے ہاتھوں اب تک جومارے گئے ہیں، ان میں 86 فیصد مسلمان ہیں اور8 فیصد دلت، دلت تو احتجاج بھی کررہے ہیں اورلڑنے بھڑنے کے لئے بھی تیار ہوگئے ہیں ،مگرمسلمان ڈر اورخوف کے مارے برداشت کرلے رہے ہیں، اس سے ظالموں اوران کے سرپرستوں کے حوصلے بلند ہیں ،ایک زمانے تک تو مسلمان فرقہ وارانہ فسادات میں مارے گئے، آج بھی یہ سلسلہ کسی نہ کسی پیمانے پرجاری ہے، فسادیوں ا ورمجرموں کو سزانہیں ہوتی، کمیشن بھی قائم کئے گئے ،ان کی سفارشیں بھی آئیں، مگرحکومت کچھ کرنے سے قاصر رہی، مسلمانوں کو ہجومی تشدد لقمۂ اجل بنارہی ہے، اسے ماب لنچنگ کانام دے کرجرم کو ہلکاکردیاجاتاہے ،یعنی بھیڑ نے اچانک ایسا کیا ،پہلے سے کوئی نیت یاپلان نہیں تھا ،حالانکہ یہ بھیڑ نہیں ہوتی؛ بلکہ آرایس ایس کاکوئی مورچہ یا محاذ ہوتاہے ،جو منصوبہ بند طریقے سے یہ سب کرتاہے ،اسے سپریم کورٹ نے ہجومی حکمرانی (Mobcracy) کانام دیا ہے ،مگریہ نفرت پرمبنی جرم ہے، جو دہشت گردی سے کسی طرح سے کم نہیں ہے۔ اس پرقانون بنانے کے بجائے سپریم کورٹ کو ہدایت دینی چاہئے تھی کہ دہشت گردی کاقانون ایسے لوگوں پرلاگو کیاجائے اور جوحکومت یاپولس اپنے فرائض سے کوتاہی کرے ،اسے بھی کوئی نہ کوئی سزا دی جائے، سپریم کورٹ نے قانون بنانے کے لئے کہا ہے، مگر سوائے سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کے ابھی تک اورکسی شخص یا پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیادپر حکومت پر دباؤ نہیں ڈالا ہے کہ وہ قانون بنائے۔ضرورت ہے کہ جہاں بھی ہجومی تشدد کی واردات ہو،وہاں کے لوگ جو انصاف پسند ہیں ،ایسے جرائم کی سرکوبی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ، تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیں، مجرموں کی شناخت کرانے میں پوری کوشش کریں ،پولس اگرکچھ نہیں کررہی ہے ،تو اس پر دباؤ ڈالیں، نہیں کرے ،تو پولس کی عدم دلچسپی یاکوتاہی کے خلاف مقدمہ کریں اورجولوگ مجرم ہیں ،ان کے خلاف بھی مقدمہ دائر کرکے مستعدی سے لڑنے کی کوشش کریں ،اگریہ کام مقامی سطح سے نہ ہوسکے ،تومقامی افراد ملک گیر جماعتوں کے سربراہوں یاریاستی شاخوں کے ذمے داروں سے رابطہ قائم کرکے دستاویزات (Documentation) کاکام پوری مستعدی سے کریں ؛تاکہ مجرموں کو سخت سے سخت سزادلائی جاسکے،اس میں کوئی شک نہیں کہ کام مشکل ہے، مگر اس کام کو کرنا ضروری ہے، مسلم یا غیرمسلم وکلایا غیرسرکاری تنظیموں(NGO) سے بھی مدد لینے کی ضرورت ہے ، ہر ریاست میں ایسی شخصیتیں یا تنظیمیں موجود ہیں، جو اس طرح کے کام کرتی ہیں، ان کی مدد لینی چاہئے اوران کی توجہ مبذول کرانی چاہئے، اگروہ کررہی ہیں ،تو ان کا ہرطرح سے تعاون کرناچاہئے ،اگرمجرموں کوسزا نہیں ملتی ،توان کا حوصلہ بلند رہے گا اودیگرافراد بھی ان کی پیروی کرنے لگیں گے؛ لہٰذا حالات جتنے بھی سنگین ہوں، کام کرنا ضروری ہے ، جلسہ، لکچر، اجتماعات، سمینار اورسمپوزیم سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ نچلی سطح (Grassroot) سے ماب لنچنگ جیسے جرائم کے سدباب کے لئے مستعدی اورسرگرمی سے کام کیاجائے ، تبھی اس کاکچھ تدارک اورسدباب ہوسکتاہے۔
Mob:9831439068 E-mail:azizabdul03@gmail.com