Home تجزیہ نعرہ، مائک اور مولانا ارشد مدنی

نعرہ، مائک اور مولانا ارشد مدنی

by قندیل

مزاجِ دیوبند کی زبردست ترجمانی
سمیع اللہ خاں
سربکف سربلند دیوبند دیوبند، یہ نعرہ کہاں سے اور کیونکر چل پڑا اس کا کوئی علم نہیں، معنوی لحاظ سے تو اس میں یقینًا کوئی قباحت نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ علماء دیوبند کی شان اس سے بھی ماورا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا، تحفظ دین متین کے سلسلے میں بحرانی صورتحال میں جو کارہائے نمایاں علماء دیوبند نے انجام دیے ہیں وہ آب زریں سے رقم ہونے چاہییں، علماء دیوبند نے آلام و مصائب کے باوجود جس ثبات قدمی کے ساتھ باطل کا مقابلہ کیا ہے اس کی بھی نظیر خال خال ہی نظر آتی ہے، علماء ہند کا شاندار ماضی علماء دیوبند کے جاندار کردار کی ہی دین ہے، کفر و طاغوت سے پنجہ آزمائی اور داخلی صبر آزما مراحل میں جس توکل و استغنا اور جرأت و عزیمت کے ساتھ علماء دیوبند نے برصغیر کی متاع دینی کو محفوظ کیا موجودہ دور میں برصغیر میں اس کا تصور و تخیل تو ہوسکتا ہے البتّہ وہ منظر پیش کرنے سے ہمارے کردار بظاہر عاجز نظر آتےہیں ۔
علماء دیوبند کا تاریخی کاز ۳ شعبوں میں جگمگاتا نظر آتاہے،
۱۔ عقائد ۲۔ تصوف و سلوک ۳۔ فقہ و فتاوٰی
ان تینوں شعبوں میں علماء دیوبند نے لازوال کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، البتہ ان تینوں شعبوں میں اپنی زندگیاں کھپانے والے بے لوث علماء دیوبند سے سیکھنےکا اہم سبق ان کا وصف اعتدال ہے،
عقائد کے باب میں عقیدہ حیات النبیﷺ کو دیکھا جاسکتا ہے، زبردست قسم کے اختلافات کے باوجود اس باب میں مولانا قاسم نانوتوی ؒ کا طرز ہمارے لئے ادب الاختلاف کی بہترین تعلیم ہے، اسی طرح، تصوف و سلوک کے معاملےمیں، حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کا اپنے شیخ حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ سے تعلق ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، یہ اعیان جس انداز میں اپنے شیخ کی اتباع اور ان سے اختلاف کرتے تھے اصلاً یہ ہمارے حلقے میں پڑھنے پڑھانے کی چیز ہے، اسی طرح، فقہی باب میں سرخیل علماء دیوبند حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا موقف بین المسالک کشیدگیوں کو ختم کرنے کے لئے شاہ کلید ثابت ہوسکتاہے، چنانچہ قرات خلف الامام کے سلسلے میں حضرت نانوتوی ؒ کا موقف آداب الاختلاف کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے اسی طرح حضرت تھانوی ؒ اتباع و تقلید کے متعلق فرماتےہیں: ” بعض اہل تعصب کو ائمہ کی تقلید میں ایسا جمود ہوتاہے کہ وہ امام کے قول کے سامنے احادیث صحیحہ غیر معارضہ کو دھڑلے سے رد کردیتے ہیں میں تو اس سے کانپتا ہوں ” حضرت تھانوی کی یہ بات غالباﹰ حسن العزیز میں درج ہے، برسر راہ یہ سطور لکھ رہا ہوں اسلیے حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کونسی جلد میں ہے، البتہ حسن العزیز میں حضرت کے اس موقف کو پڑھا جاسکتاہے ۔
مقصود کلام یہ ہیکہ، مشرب دیوبند کے یہ عظیم ستارے جب بنیادی عناصر میں اعتدال کا دامن اس طرح تھامے رہتےتھے تو بھلا مشربی برتری میں وہ غلو کی اجازت کیونکر دے سکتے ہیں؟ آج ہمارے نوجوان فضلا اور رسمی منسلکین اپنے اپنے مشرب و مسلک کے سلسلے میں جس قسم کی شدت کا مظاہرہ کرتےہیں اس کا فکر اصلی سے کوئی تعلق سرے سے ہے ہی نہیں، یقینًا اپنے مشرب و طریقے میں تصلب ہونا چاہیے ثبات و افتخار بھی بری چیز نہیں ہے لیکن اس کو یوں ثابت کرنا کہ جس سے دیگر طرق کی تردید یا دل شکنی ہوتی ہو یہ اہلسنّت والجماعت سے منسوب کسی بھی گروہ کا طرزِعمل کبھی نہیں رہا، اور اب تو یہ مزید نقصاندہ ثابت ہورہاہے، یہی وجہ ہیکہ اگر ہم اپنی عظیم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتاہے کہ *اعلاء اسلام اور اسلامی سربلندی کے لئے موجود نعرۂ تکبیر کے علاوہ* کسی بھی دھڑے کا کوئی بھی نعرہ نہیں تھا، ایک ہی کلمے کے سائے تلے مختلف راہوں پر گامزن رہتے ہوئے ایسے کسی بھی عمل سے بچنا چاہیے جس سے کہ اندرونی منافرت میں آگ لگے، یقینًا یہ صفت اب تقریباﹰ ہر گروہ میں پائی جاتی ہے، لیکن اس منافرانہ بت کو آگے بڑھ کر توڑنا از بس ضروری ہے،
ابھی یہ ویڈیو موصول ہوئی جس میں نشان علماء دیوبند حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب حفظہ اللّٰہ خطاب فرما رہے تھے کہ اسی دوران کوئی صاحب اسٹیج سے نعرہ لگاتے ہیں *علماء دیوبند* جواب میں فرط طیش سے حضرت مولانا مائک پھینک دیتےہیں، اور سخت ڈانٹ پلاتے ہیں،اور وارننگ بھی دی کہ اب اگر نعرہ لگایا تو اٹھ کر چلے جاؤنگا، مولانا نے اپنے اس طرزِعمل سے علماء دیوبند کی زبردست جیتی جاگتی عملی ترجمانی کی ہے جو کہ علماء دیوبند کا امتیاز رہاہے،اور یہ مولانا ارشد صاحب کا ہی حق تھا کہ وہ ایسی غیر ضروری نشیلی رسموں پر ایسا بے لاگ اور سبق آموز اسٹینڈ لیتے، مولانا کا یہ عمل کئی پہلوﺅں پر مبنی ہوسکتاہے، البتّہ اس میں سیکھنے والوں کے لئے جو بھی پہلو نظر آجائے اسی میں تعلیم ہے، اگر ہم قومی یکجہتی کے لیے کوئی پروگرام کررہے ہیں تب تو ایسے نعروں سے قومی یکجہتی کیا ہوگی مسلکی منافرت تھوک کے دام بٹے گی، اور پھر اگر دیگر یاروں نے ضد پکڑ لی کہ وہ بھی اپنے اپنے مسلک کی برتری کا نعرہ لگانا چاہتےہیں تو کیا ہم ان کو راستہ دینگے؟ اور پھر ویسے بھی قومی یکجہتی جیسے جلوس میں تو ہمارے خیال سے نعرۂ تکبیر کی بھی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر ہم تمام مذاہب میں یکجہتی کی دعوت اپنی بالادستی کے نعرے سے دینگے تو بھلا کوئی کیوں قبول کرے گا؟
واقعی حضرت مولانا ارشد صاحب نے دل لگتی کہی ہے کہ،
جب نعروں کی ضرورت ہوتی ہے تب تو گھروں میں گھس کر بیٹھ جاتے ہیں، اور اب یہاں نعرے لگارہے ہیں ”
سچی بات، زمینی بات یہی ہے، آج ہم جلسہ وادی قوم بن کر رہ گئے ہیں ہماری ساری بھاگ دوڑ یہیں سے شروع اور یہیں اسٹیج و میدان میں ختم ہوجاتی ہے، دھواں دھار جوشیلی باتیں سنتے ہیں کانوں کو رام ہیں اور نشیلی گولیاں لے کر اسلام فتح کرکے مست ہوجاتے ہیں، جبکہ ہمیں ان جلوس و نشستوں سے فکر و شعور کو جلا دینا چاہیے، اور جب ضرورت ہو تب گھروں سے باہر تہلکہ خیز نعرے میدان اصلی میں لگانے چاہییں،
ائے کاش ہم مولانا کے اس پیغام کو سمجھ سکیں، اور اپنی ہی چہاردیواری میں اپنے ہی لوگوں میں چند نعروں اور جذباتی تقریروں کے افیم سے چھٹکارا پاسکیں، کہ یہی وہ نفسیاتی وائرس ہے جو ہم میں گھس کر ہمیں میدانی جدوجہد سے دور کیے ہوئے ہے، آج سے ہم کم از کم یہی طے کرلیں تو بہت ہے کہ ہمارے اسٹیجوں سے ایسے نعرے نہیں لگائے جائیں گے اور اگر کہیں ضرورت ہوگی تو نعرہ اسلامی بنیادوں پر مبني اور اسلامی علو کا ترجمان *نعرۂ تکبیر ہوگا-
[email protected]

You may also like

Leave a Comment