نظم لکھتی جاتی ہے

علی زریون
عشق کہتا جاتا ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
اپنی جگ ہنسائی بھی
اِن کی پارسائی بھی
دوستوں کے نرغے بھی
دشمنوں کے حربے بھی
ان کہی زبانوں کے
بے بہا زمانوں کے
زخم سہتی جاتی ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
بھوک ، خوف، مزدوری
نیند کا اکیلا پن
آدمی کی تیاری
عورتوں کی مجبوری
شاہراہ کی باتیں
جھونپڑی زدہ ذاتیں
بے نقاب کرتی ہے
شاعری نما گھاتیں
فیسٹولز کی یلغار
نقلیوں کی ہاہاکار
اور اداس آنکھوں سے
بَین کرتی جاتی ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
مل گئے ہیں درباری
بد قماش سرکاری
اور ہوس کے تھیٹر میں
عشق کی اداکاری
مسندِ محبت پر
مسخرے مسلّط ہیں
منبرِ صداقت پر
وسوسوں کا قبضہ ہے
دل کے اندرونے میں
رات بہتی جاتی ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
نظم لکھتی جاتی ہے
حکمران اور رانی
باغیوں کی حیرانی
شاعروں کے دن کوفی
مصلحوں کے دل زانی
کچھ سخن فروشوں کو
نظم سے شکایت ہے
نظم چپ نہیں رہتی
ان کو کون سمجھائے
نظم کی یہ بے خوفی
عشق سے روایت ہے
عشق استخارہ نئیں
عشق جو دوبارہ نئیں
نظم کی لکھاوٹ تو
عشق کی شباہت ہے
عشق کی شباہت ہی
شبد کی شہادت ہے
اور یہ شہادت ہی
نظم کی عبادت ہے
تم ! ہماری نظموں کو
کیسے روک سکتے ہو
تم ! ہمارے سجدوں کو
کیسے ٹوک سکتے ہو
عشق کہتا جاتا ہے
نظم لکھتی جاتی ہے !
نظم لکھتی جاتی ہے !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*