نام بدلنے کی سیاست!

فیصل فاروق
ملک کو مکمل ہندو راشٹر بنانے کی مبینہ سازشیں مسلسل کی جا رہی ہیں، اِسی سلسلے میں گزشتہ روز ممبئی کے ایلفنسٹن روڈ ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر’’پربھادیوی‘‘کر دیا گیا ہے۔ ایلفنسٹن روڈ ریلوے اسٹیشن کی اپنی ایک تاریخ رہی ہے، اِس کا نام انگریزوں کے زمانے میں لارڈ جان ایلفنسٹن کے نام پر رکھا گیا تھا، جو1853ء سے 1860ء تک بمبئی کے گورنر کے عہدے پر فائز رہے، ایلفنسٹن روڈ اسٹیشن کے آس پاس کے علاقے کا نام پربھادیوی ہے، نام تبدیل کرنے کی یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اسٹیشن کے قریب اٹھارویں صدی کی ایک مندر کے اندربارہویں صدی کی ہِندو دیوی پربھاوتی کی مورتی نصب ہے؛ اِسی لیے محض عقیدت کی بنیاد پر اِس کا نام پربھادیوی ریلوے اسٹیشن کر دیا گیا ہے۔
ایلفنسٹن روڈ ریلوے اسٹیشن کا نام تبدیل کرنے کے لیے سب سے پہلے 1991ء میں اُس وقت کے ممبئی کے میئر شیوسینا لیڈر دیواکر راوتے نے تجویز پیش کی تھی،2014ء میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد دِسمبر 2016ء میں مہاراشٹر اسمبلی نے ایک قرارداد کو منظور کیا اور پھر مئی2017ء میں مرکزی وزارت داخلہ نے مہاراشٹر حکومت کی اِس تجویز کو منظوری دے دی، جو لوگ ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں، وہ کئی دہائیوں سے ملک کے کئی صوبوں میں حکومتیں چلا رہے ہیں اور اپنے من مطابق تبدیلی بھی کرتے رہے ہیں۔
آپ دیکھیں کہ اس سے پہلے مرکز میں جب اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں بی جے پی کی ملی جلی حکومت تھی، اس دوران بھی اس طرح کی کوششیں کی گئی تھیں؛ لیکن 2014ء میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بھگوا خیمے کے لوگ اکثریت کے ساتھ مرکز کے اقتدار پر قابض ہوئے ہیں اور پھر اس کے بعد سے تاریخ کو اپنے مطابق گڑھنے اور تاریخی حقائق میں پھیر بدل کی کوششیں بہت تیز ہو گئی ہیں یا یوں کہیے کہ مودی حکومت آنے کے بعد سے سنگھ پریوار کے ہِندوتوا منصوبہ کو پنکھ لگ گئے ہیں۔
یہ ویسٹرن ریلوے کا وہی ایلفنسٹن روڈ ریلوے اسٹیشن ہے، جہاں پچھلے سال ستمبر میں شارٹ سرکٹ کی افواہ پھیلنے کی وجہ سے فُٹ اوور پل پر چڑھنے کے دوران مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں ایک یا دو نہیں؛ بلکہ 22؍افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے، ایسا پہلی بار ہوا تھا جب ممبئی کے کسی لوکل اسٹیشن پر بھگدڑ کی وجہ سے اِتنا بڑا حادثہ پیش آیا ہو، انڈین ریلوے کو سمجھنا ہوگا کہ صرف نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، کام کرنے کا طریقہ بدلنا ضروری ہے، سب کا ساتھ ،سب کا وکاس محض ایک انتخابی جملہ ثابت ہو رہا ہے۔
اسٹیشنوں پر صاف صفائی کا فقدان ہے، ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پر نہیں چل رہی ہیں، ذرا سی برسات ہونے پر ریلوے ٹریک پر پانی جمع ہو جانے سے مسافروں کو دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ لیکن مسافروں کو مناسب سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اسٹیشنوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں، یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اسٹیشنوں کا نام کَرَن کیا جا رہا ہے یا پھر بھگوا کَرَن؟ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!