میں شاعرِآخرالزماں ہوں اے جوش! 

شمس تبریز قاسمی ،موتیہاری

انقلاب کا علم بردار ،شاعری کا حبیب ،حساس طبیعت ، طرحدار لہجہ، کثیر التصانیف ادیب، الفاظ کا باد شاہ، خیالات کا سلطان، سلاست و روانی کا مالک،  قادر الکلام،نادر الانداز، نظم کا دل دادہ، نثر کا تسلیم شدہ امام،مرثیہ نگاری کاملکہ، مناظر فطرت کا عکاس، پرکشش انداز بیاں، منفر انداز گفتار، روشن دماغ ،ظرافت و طلاقت لسانی کاشہسوار،ساحرانہ شاعری، شگفتہ مزاج، شاعر جذبات، ولولہ انگیز انداز،تشبیہات واستعارات کے امیر، موسم کی طرح مزاج؛ ان تمام صفات کو ایک قالب میں رکھ کر اس پر شاعر فطرت "جوش ملیح آبادی” کی صورت لگا دیں توان کی قامت پر بالکل فٹ ہو جائیں گی ـ
پیدائش :
جوش کی پیدائش 5 دسمبر 1898کو ہوئی(جوش کی شاعری کا تنقیدی جائزہ، مصنف:ڈاکٹر عقیل احمد ص:11)
جوش خود اپنی پیدائش کا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ :
میں اس بوند بھری زندگی کو بھولنے کے لیے اور اس بہ ظاہر رنگین و ببا طن خون آلود، زندان کون و فساد کے واسطے کب لایا گیا؟ اس امر کو صحت کے ساتھ بیان نہیں کرسکتا؛ اس لیے کہ میرے خاندان میں بچوں کی تاریخ کے درج کرنے کا رواج نہیں تھا؛ البتہ میری دادی جان نے، جو خاندان کی مؤرخ تھیں، مجھ سے میری ولادت کا جو سن بتایا، وہ سن عیسوی کے حساب سے 1896ء یا 1898 ء، یہ بھی یاد نہیں رہا، بہ ہر حال اپنی عمر کو دو سال بڑھا دینے میں نقصان ہی کیا ہے؟؛ اس لیے آپ یہ سمجھ لیں کہ 1896 ء میں پیدا ہوا…… بہ قول دادی صبح 4 بجے پیدا ہوا”ـ
جوش ملیح آبادی کا اصل نام "غلام شبیر” تھا پھر بعد میں "شبیر احمد” ہو گیا. 1907ء میں انھوں نے اپنا نام تبدیل کر کے "شبیر حسن خاں رکھا (ایضاً ص:45   بہ حوالہ حضرت جوش ملیح آبادی شخصیت فن و افکار)
والد کا نام:نواب بشیر احمد خاں، تخلص:بشیر،
بیوی کانام:أشرف جہاں بیگم (277)
ابتدائی تعلیم :
جوش کی ابتدائی تعلیم گھر پہ ہی ہوئی، اس کے لیے مولوی نیاز علی خاں پہلے استاذ مقرر ہوئےـ ان کے علاوہ دوسرے معلم :مولانا طاہر مولانا قدرت اللہ بیگ، جنھوں نے جوش کو عربی ،فارسی اور اردو کی تعلیم دی، نیز ماسٹر گومتی پرشاد نے انھیں انگریزی کی تعلیم دی اور مرزا ہادی رسوا نے بھی انھیں فارسی و عربی کی تعلیم دی. بعد میں ان کے والد نے مانی جائسی کو بھی جوش کا ٹیوٹر مقرر کر دیا تھا. بشیر احمد اپنے بیٹے کو اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتے تھے؛ اسی لیے انھیں تعلیم کے لیے بھی باہر بھیجنا گوارہ نہیں تھا؛ لیکن جوش میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق، عشق کی حد تک موجود تھا. انھوں نے اپنے پھوپھی زاد بھائی سے سفارش کروائی. ان کی سفارش کسی طرح منظور کر لی گئی. جوش کے والد ان کو سیتا پور بھیجنے کے لیے راضی ہو گئے. اس واقعے کو جوش نے اپنی کتاب یادوں کی برات میں پوری تفصیل کے ساتھ لکھا یے، کہ:
"سیتا پور ہائی اسکول میں انھوں نے داخلہ لے لیا؛ لیکن وہاں وہ ڈیڑھ سال سے زیادہ نہیں رہ سکے. اس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ :
غالبا 1908 میں میرے باپ نے مجھ کو لکھنؤ طلب فرما کر” حسین آباد ہائی اسکول داخل کرادیا…. اور وہیں میں چھٹے اور ساتویں درجے کا ڈبل امتحان دے کر آٹھویں درجے میں آگیا تھا”
حسین آباد اسکول سے وہ 1912ء میں علی گڑھ گئے اور ایم او کالج میں داخلہ لیا اور ممتاز ہاؤس کے کمرہ نمبر 42 میں مقیم رہےـ
جوش نے اپنی شاعری کے بارے میں یوں بیان کیا ہے کہ:
یوں تو نو برس کی عمر ہی سے  شعر کی دیوی نے مجھ کو آغوش میں لے کر، مجھ سے شعر کہلانا شروع کردیا تھا؛ لیکن آگے چل کر شاعری سے میرا انہماک بڑھنے لگا، تو  اس خیال سے کہ اگر میں شاعری میں ڈوب گیا، تو میری تعلیم ناقص رہ جائے گی، میرے باپ کے کان کھڑے ہو گئے اور انھوں نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ :
” خبردار! اب اگر تم نے شاعری کی، تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا  اور اس کے ساتھ انھوں نے زنانے میں” بوا گل زار ” اور مردانے میں” داروغہ امید علی "کو مامور فرمایا کہ وہ جب مجھے شعر کہتے دیکھیں، تو ان کی جناب میں رپورٹ کر دیں (ایضاً، ص :132)
شعر گوئی کی اجازت :
ایک بار میں اپنے صندوق میں، جیب سے پرزے نکال نکال کر رکھ رہا تھا کہ بوا گل زار نے مجھے دیکھ لیا اور وہ بھانپ گئیں. میاں کو خبر کردی……  میاں نے مجھ سے کنجی مانگی. کانپتے لرزتے ہاتھوں سے میں نے کنجی دے دی. انھوں نے صندوقچہ کھولا اور ایک ایک کر میرے تمام پرزے چر چر کر پھاڑ دیے… میں اپنے باپ کو اس طرح دیکھنے لگا،جیسے کوئی گائے اپنے بچھڑے کو چھری کے نیچے دیکھ کر کانپنے لگتی ہے…. میرے منہ سے ایک درد ناک چیخ نکلی اور میں بے ہوش ہوگیا…..  دادی جان کی مداخلت پر بشیر احمد خاں زم پڑ گئے. ڈاکٹر آیا. علاج و معالجہ کے بعد کچھ ہی دیر میں ہوش میں آ گیا. مجھے ہوش آتے ہی میرے باپ نے مجھے سینے سے لگا کر ارشاد فرمایا کہ بیٹا! میں نے شعر کہنے کی تم اجازت دے دی. میں تجھے خود اصلاح دیا کروں گا… انھوں نے مجھ سے کہا  بیٹا! اس شعر کے معنی بیان کرو!
وہ جلد آئیں گے یا دیر میں شب وعدہ؟
میں گل بچھاؤں کہ کلیاں بچھاؤں بستر پر؟
یہ سچ ہے کہ انھوں نے صرف  نو سال کی عمر میں شعر  کہنا شروع کر دیا تھا،ان کا پہلا شعر یہ ہے :
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے؟
یہ میرا فن خاندانی ہے
دخترِ رز سے منہ کا لگانا :
جوش کی زندگی کا بیش تر حصہ رندی و سرمستی میں گزرا، انھوں نے 20 سال کی عمر میں "سردار تارا چند” اور "روپ سنگھ” کی صحبت میں مے نوشی کی ابتدا کی اور یہ مشہور ہوگیا کہ جب سورج غروب ہوتا ہے، تو جوش صاحب طلوع ہوتے ہیں شراب کے بارے میں جوش کا اپنا نظریہ ہے، وہ اسے خواص کے لیے آب حیات اور عوام کے لیے زہر مانتے ہیں ـ
جوش ایک باکمال شاعر تھے. ان کی شاعری میں حسن کی رنگا رنگی، فطرت کی دل فریبی، انقلاب کی گونج، فکر کی گہرائی؛ یہ ساری چیزیں موجود ہیں. ان کا انداز بیاں دلفریب ہے، الفاظ کا استعمال ایسے شان دار اور جان دارانداز میں کرتے ہیں کہ ذہن مسرت و بصیرت حاصل کیے بغیر رہ نہیں پاتااور یہ ساری چیزیں ان کی شاعری میں ہونی بھی چاہئیں؛ کیوں کہ انھوں نے شاعری کو نہیں؛ بل کہ شاعری نے ان کو اپنایا تھا. چناں چہ وہ اپنی خود نوشت سوانح "یادوں کی برات” میں لکھتے ہیں کہ :
"میں نے شاعر بننے کی تمنا کبھی نہیں کی؛ بل کہ” شعر خود خواہش آں کرد کہ گردد فنِ ما”. میں شاعری کے پیچھے نہیں دوڑا، شاعری نے خود میرا تعاقب کیا اور نو برس کی عمر ہی میں مجھ کو پکڑ لیا،اگر شاعری کوئی اچھی چیز ہے، تو واللہ! میں کسی آفرین کا مستحق نہیں ہوں اور اگر وہ کوئی بری چیز ہے، تو خدا کی قسم! میں کسی ملامت کا بھی سزاوار نہیں… شاعری میرا حاکم ہے، میں محکوم ہو، وہ جابر ہے، میں مجبور ہوں، وہ قاہر یے، میں مقہور ہوں، وہ آمر ہے، میں مامور ہوں… ”
اس کے علاوہ جو ش کی شاعری اس لیے بھی اچھی ہے کہ ان کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی تھی، کہ جہاں ہر کوئی شاعر ہی تھا؛ چناں چہ” یادوں کی برات”  میں ہی لکھتے ہیں کہ :
ذرا سوچئے کہ وہ بچہ جس کا باپ بھی شاعر ہو، دادا بھی شاعر ہو، دو سوتیلے چچا بھی شاعر ہوں، بڑی پھوپھی، بڑی بہن اور بڑا بھائی بھی شاعر ہوں، جس کا حقیقی ماموں بھی شاعر ہو، جس کے باپ کا ماموں بھی شاعر ہو، جس کی دادی مرزا غالب کی قرابت دار ہوں اور اردو، فارسی کے اشعار بر محل سناتی ہوں، جس کی انا خالص لکھنوی ہو اور رات کے وقت ’’کھلی ہے کنج قفس میں میری زبان صیاد‘‘ کی لوری دے دے کر اس کو سلاتی ہو۔ جس کے گھر میں آئے دن لکھنو کے شاعر آتے جاتے ہوں اور ہر تیسرے چوتھے ماہ مشاعرے ہوتے رہتے ہوں۔جو شعراء کے دیوانوں میں پتنگ اور گولیوں سے کھیل کر پروان چڑھا ہو وہ شعر نہیں کہے گا تو کیا کرے گا؟‘‘ ۔
ہم جو ش کی شاعری کے  بہ جا طور پر چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :
(1)نظم نگاری
(2) غذل گوئی
(3) مرثیہ نگاری
(4)رباعی
نظم نگاری :
کلیم الدین احمد کا خیال ہے کہ جوش نظم نگاری میں سب سے آگے نکل جاتے، اگر وہ صرف اس میں طبع آزمائی کرتےـ
وطن پرستی کے سلسلے میں جوش نے 1918ء نظم "وطن” لکھی، جس میں انھوں نے وطن کی عظمتوں کے گیت گائے ہیں :
اے وطن، پاک وطن! روحِ روانِ احرار​
اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن، رنگِ بہار​
اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار​
اے کہ ہر خار ترا روکشِ صد روئے نگار
ریزے الماس کے، تیرے خس و خاشاک میں ہیں
ہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں
پائی غنچوں میں ترے، رنگ کی دنیا ہم نے​
تیرے کانٹوں سے لیا درسِ تمنا ہم نے​
تیرے قطروں سے سنی قرأتِ دریا ہم نے​
تیرے ذروں میں پڑھی آیتِ صحرا ہم نے​
کیا بتائیں کہ تری بزم میں کیا کیا دیکھا
ایک آئینے میں دنیا کا تماشا دیکھا​
تیری ہی گردنِ رنگیں میں ہیں بانہیں اپنی​
تیرے ہی عشق میں ہیں صبح کی آہیں اپنی​
تیرے ہی حُسن سے روشن ہیں نگاہیں اپنی​
کج ہوئیں تیری ہی محفل میں کُلاہیں اپنی​
بانکپن سیکھ لیا عشق کی افتادوں سے​
دل لگایا بھی تو تیرے ہی پری زادوں سے​
پہلے جس چیز کو دیکھا، وہ فضا تیری تھی​
پہلے جو کان میں آئی، وہ صدا تیری تھی​
پالنا جس نے ہلایا، وہ ہوا تیری تھی​
جس نے گہوارے میں چوما، وہ صبا تیری تھی​
اولیں رقص ہُوا مست گھٹا میں تیری​
بھیگی ہیں اپنی مسیں آب و ہوا میں تیری​
یہ نظم ان کی بہت مشہور ہوئی اور زبان زد عام و خاص ہوگئی ـ
جوش کی غزل گوئی :
جوش کے دل میں محبت کا صحت مند جذبہ تھا. وہ محبت سے زندگی کو تلخ اور بازار نہیں بنانا چاہتے ہیں؛ بل کہ نشاط انگیز بنانا چاہتے ہیں. وہ عشق کی بلند و پست راہوں پر چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ہر چند کہ جوش کو محبت کی راہوں کی دشواریوں کا اندازہ ہے؛ لیکن اس کے باجود اس راہ پر گامزن زن رہنا پسند کرتے ہیں :
بلند وست راہیں عشق کی مانا کہ مشکل ہیں
مگر کیا حضرت جوش! آپ بھی مشکل سمجھتے ہیں؟
زخموں سے پاش پاش کلیجہ لیے ہوئے
بے خطر رہ طلب میں تیرا دیوانہ ہے
جوش کی مرثیہ نگاری :
جہان تک مرثیہ کا تعلق ہے جوش ؔنے اسے رسوم وقیود سے آزاد کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے اور انہوں نے انسانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف صدائے احتجاج بھی بدل ڈالااس طرح شہادت حسین ؓ کو ایک نئے اندازمیں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
جوشؔ اپنی ایک مرثیہ ’’حسین اور انقلاب‘‘میں لکھتے ہیں:
پھر زندگی ہے سست وسبک گام اے حسین
پھر حریت ہے مور  دالزام   اے حسین
مجروح پھر ہے  عد ل و مساو ات  کا شعار
اس بیسویں  صدی  میں پھر طرفہ  انتشار
جوشؔ کی اس مرثیہ ’’حسین اور انقلاب‘‘کے پس منظر پر پروفیسر عارفہ بشری رقمطراز ہیں: ’’جوش ؔنے اپنے مرثیوں میں حضرت حسین ؓسے متاثر ہوکر اپنے سینے کی آگ بھردی ہے،
جوش کی رباعيات :
بیسویں صدی میں جن شاعروں نے سنجیدگی سے اس صنف کی طرف توجہ دی ہے، ان میں سے ایک ممتاز نام جوش ملیح آبادی کا ہے. جوش رباعی کے متعلق کچھ یوں رقم طراز ہیں :
یوں تو اس کے دائرے میں بے شمار موضوعات کو جگہ دی جا سکتی ہے؛ لیکن در حقیقت اس صنف کی تخلیق اس غرض سے ہوتی ہے کہ پختہ زندگی کے وسیع تجربات کو ہموار کر کے اور رسیدہ فکر کے عجیب و عمیق افکار ترتیب دے کر قلیل لیکن بے حد جگر دار الفاظ کی معرفت ایسے استادانہ اختصار اور ایسے حکیمانہ لہجے میں ادا کیا جائے کہ اس کے اجمال کے آستانہ جمال پر تفصیل کا اجلال، سر بہ سجود ہو کر رہ جائے ”
چناں چہ اس رباعی کو ملاحظہ فرمائیں :
آزادئ فکر و درس حکمت ہے گناہ
دانا کے لیے نہیں کوئی جائے پناہ
اس اژدر تہذیب کے فرزند رشید
یہ مذہب و قانون عیاذاً باللہ
وفات:
22 فروری 1982ء کو جوش نے اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کی تاریخ وفات معروف عالم اورشاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرع سے نکالی تھی:
میں شاعرِآخرالزماں ہوں اے جوش
ریسرچ اسکالر شیخ الہند اکیڈمی
دار العلوم دیوبند
07669514995