Home خاص کالم مہاتما جیوتبا پھولے بحیثیت ماہر تعلیم

مہاتما جیوتبا پھولے بحیثیت ماہر تعلیم

by قندیل


اقبال حسین دہلی
ہندوستانی تاریخ ظلم نا انصافی اور استحصال کی داستانوں سے جہاں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرتی ہے وہیں مذہبی سماجی اور سیاسی اصلاحات کی تحاریک اور مصلحین کے تذکرے امید و بیم کی روشنی اور حوصلے فراہم کرتے ہیں۔ مہاتما جیوتبا پھولے سر سید احمد خان اور راجہ رام موہن رائے جیسے سیکڑوں مصلحین نے سماجی اور سیاسی نا انصافیوں کے خلاف علم بلند کیا یہاں تک کہ مذہبی شدت پسندی اور رجعت پسندی کے خلاف بھی اپنے اصلاحی اقدامات اٹھائے بسا اوقات ان کو عوام کے غم و غصے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر انہوں نے اپنی اصلاحی سوچ اور تحریک کو ملتوی یا منسوخ نہیں کیا بلکہ مخالفتوں اور رکاوٹوں نے ان کی تحریکوں کو اور بھی سرعت و وسعت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حوصلوں کو تازگی اور تندی بخشا۔
مصلحین ہند کی فہرست میں ایک نہایت ہی زریں نام مہاتما جیوتبا پھولے ہے۔ سماجی انصاف کو آزاد ہندوستان دستوری اور آئینی حیثت دلانے والے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کےروحانی پیشوا، ان کے اصلاحی کاموں کی وسعت مذہب سماج اور سیاست سے لیکر تعلیم تک کا احاطہ کرتی ہے۔ مہاتما جیوتبا پھولےکی پیدائش گیارہ اپریل اٹھارہ سو ستائیس میں مہاراشٹر کے ستارا ضلع میں ایک مالی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندان پھولوں کی تجارت کرتا تھا جس کی مناسبت سے ان کے خاندانی ناموں میں پھولے کی اضافت کا رواج پایا۔ بچپن میں والد کی کم آمدنی کی وجہ کر ابتدائی کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا بعد کو اپنی ہی ذات کے ایک عیسائی مذہب اختیار کرنے والے آشنا کی کوششوں سے اسکاٹش مشن ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملا ‌۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ہی ان کی شادی ساوتری بائی کے ہمراہ کردی گئی۔ تعلیم کی اہمیت ان کے نزدیک اتنی زیادہ تھی کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو گھر پر خود سے تعلیم دی۔
انیس سو چھہتر میں مہاتما جیوتبا پھولے کی سوانح حیات رقم کرنے والے دھننجے کیر نے ایک اہم واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے کہ مہاتما پھولے اپنے ایک برہمن دوست کی شادی میں شرکت کے دوران دوست کے والدین کے ذریعہ صرف اس لئے تذلیل کا شکار ہوئےکہ ان کا تعلق ایک شودر ذات سے تھا۔ اس واقعے نے انہیں ذات پات اور چھوت چھات کے خلاف ایک مضبوط تحریک شروع کرنے کے لئے پابند کیا اور وہ اس روایت اور چلن کے خلاف ایک توانا آواز بن گئے۔
مہاتما پھولے کے ترقی پسندانہ نظریات اور عورتوں کی تعلیم کے حامی ہونے کی وجہ کر ان کے گاؤں اور برادری والوں نے ان کو گاؤں اور برادری سے باہر کا راستہ دکھا دیا تھا۔ تب ان کے ایک مسلمان دوست عثمان شیخ اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ شیخ نے اپنے گھر میں نہ صرف ان کو رہنے کی جگہ دی بلکہ ان کے لڑکیوں کے اسکول کو اپنے یہاں سے شروع کرنے کا موقع دیا۔
اٹھارہ سو اڑتالیس میں مہاتما پھولے کو ہندوستان میں جدید طرز کا لڑکیوں کا پہلا اسکول شروع کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ فاطمہ شیخ اور ساوتری بائی نے لڑکیوں کے اس جدید اسکول کے لئے استانیوں کی خدمات فراہم کیں۔ مہاتما نے مہار اور مینگ ذات کے بچوں کی تعلیم کے لئے دو اور اسکول کھولے بعد میں اسکول کمیٹی سے نصاب اور مالی امداد کی فراہمی کو لے کر اختلافات کی وجہ کر الگ ہو گئے مگر نا انصافی کے خلاف ہمیشہ ہی لڑتے رہے۔
مہاتما نے ہندو مت میں ذات پات کے نظام ورن آشرم سے باہر کی ذاتوں کے لئے مراٹھی زبان کے لفظ دلت کے لغوی معنی ٹوٹا ہوا یا پساہوا کے لحاظ سے ان ذاتوں کے لئے دلت اصطلاح کی ایجاد کی۔ موجودہ دور میں نچلی ہندو ذاتوں کے لئے اس اصطلاح کا چلن زیادہ عام اور مناسب ہے۔ مہاتما نے ایک بہت ہی فعال اور متحرک زندگی گزاری ہے اور ہمیشہ ہی سماجی سیاسی مذہبی اور تعلیمی نابرابری کے خلاف سینہ سپر رہے۔ انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں جس میں غلام گیری نامی کتاب کو م شہرت دوام حاصل ہے۔
اٹھارہ سو چھہتر سے اٹھا رہ سو تراسی تک پونے میونسپل کارپوریشن کےلئے بلا مقابلہ کمشنر منتخب کیے گئے۔ اس دوران بھی اپنی کوششوں سے اصلاحی اور تحریکی کاموں میں دلچسپی سے حصہ لیتے رہے تھے۔ مختلف قسم کی تعلیمی اصلاحات کیں انگریزوں کی مدد سے نچلی ذاتوں اور کسانوں کے بچوں کے لئے دور دراز کے گاؤوں میں اسکول قائم کروائے۔ عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کو ترجیحی اہمیت دی۔
سن اٹھارہ سو چوراسی میں انگریزی حکومت نےجب ولیم ہنٹر کی صدارت میں سب سے پہلا تعلیمی کمیشن تشکیل دیا تو اس میں ہندوستانی تعلیم کے ماہر ایک سرگرم مشیر کی حیثیت سے مہاتما جیوتبا پھولے کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ ہنٹر کمیشن کی رپورٹ میں مندرجہ ذیل نکات کی موجودگی کا سہرہ صرف اور صرف مہاتما جیوتبا پھولے کے سر باندھنا ہی انصاف کے عین مطابق ہوگا۔
ابتدائی تعلیم شودر اور شودرترین ذاتوں کے ساتھ ساتھ سب کے لئے مفت اور لازمی ہونی چاہیے۔
حکومت تعلیم میں پچھڑے طبقے کے بچوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر وظیفہ مہیا کرنے کی کوشش کرے‌۔
تعلیمی عمل میں پیچھے رہنے والے سماجی طبقات کے بچوں کےلئےعلیحدہ اسکول مہیا کرائے جائیں۔
ابتدائی اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کم از کم درمیانہ معیار کی لازمی ہونی چاہیے۔
اساتذہ کا پس منظر دیہی علاقے سے ہو تاکہ وہ ان بچوں کے مسا ئل کی سمجھ رکھتے ہوں اور ان کے مسائل کے حل کی صلاحیت بھی۔
اساتذہ کی تنخواہوں میں وقت بہ وقت اضافے کا امکان ہو تاکہ اس پیشے میں با صلاحیت لوگوں کے لئے دلکشی اور توجہ بنی رہے۔
نصاب طلباء مرکوز ہو شہر اور دیہات کے پس منظر سے آنےوالے بچوں کے لئے نصاب میں لچک اور انتخاب کا موقع ہو۔ دیہات کے پس منظر والے بچوں کا نصاب زیادہ با عمل اور زندگی کی مہارتوں پر مبنی ہو۔
اسکولوں کا معائنہ سال میں ایک دفعہ کی بجائےتین ماہ کے وقفے پر کیا جائے۔
ابتدائی تعلیم لازمی ہے لہذا اسکولوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوتا رہے۔ ٹیکس کی نصف رقم تعلیم پر خرچ کی جائے۔
تعلیم کا انتظام حکومت کے کنٹرول میں ہو تاکہ ابتدائی اور اعلی تعلیم کو ترقی نصیب ہو۔
ہر ایک گاؤں میں شودر اور شودرترین ذاتوں کے بچوں
لئےعلیحدہ اسکول خاص حکومت کی ذمے داری میں کھولے جائیں۔
بمبئی یونیورسٹی بی اے اور ایم اے کی ڈگری پرائیویٹ ذریعہ تعلیم کے تحت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اعلی تعلیمی ڈگری کے امتحان پاس کر سکیں۔
ہنٹر کمیشن کو مہاتما جیوتبا پھولے کی طرف سے جو سب سے اہم مشورہ دیا گیا وہ یہ کہ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کا انتظام کیا جائے تاکہ ذرعی اور دیہی پس منظر کے طلباء نوکری کے علاوہ اپنے لئے خود کے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔
مہاتما پھولے نے سماجی اور سیاسی نا انصافیوں سے لڑنے میں تعلیم کی اہمیت کو ہمیشہ مقدم رکھا اور اس کے حصول کے یکساں مواقع کی فراہمی کے لئے سدا کوشاں اور فعال رہے۔ مذہبی رجعت پسندی کے مقابلے کے لئے منطقی مزاج کے فروغ میں تعلیم ان کے نزدیک اکسیر کا رتبہ رکھتی ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ نا انصافی اور نابرابری کے خلاف ان کے کام ہمارے لئے مشعل راہ ہوں گے۔

You may also like

Leave a Comment