مولانا سلمان ندوی کے خلاف لکھنؤ میں رپورٹ درج

سنگین الزامات کے بعدامرناتھ مشرانے لکھنو میں شکایت درج کرائی
مولانانے الزامات کومستردکیا،شبیہ خراب کرنے کی کوشش کاالزام
لکھنو15فروری(قندیل نیوز)
بابری مسجد تنازع میں مسجدکی جگہ مندربنانے کی تجویز اورپھرجارحانہ تیوراوراپنے ہی لوگوں پرالزامات کے بعدمولاناسلمان ندوی مسلسل گھرتے چلے جارہے ہیں۔ ڈیل کاسنسنی خیز الزام لگاتے ہوئے ایودھیا سدبھاونا سمنوے سمیتی کے جنرل سکریٹری امرناتھ مشرا نے مولاناسلمان ندوی کے خلاف لکھنو کے حسن گنج تھانہ میں ایک تحریر دی ہے ۔ امرناتھ مشرا نے الزام لگایا ہے کہ مولانا سلمان ندوی نے سمجھوتہ کے بدلے میں پانچ ہزار کروڑ روپے کی رشوت کا مطالبہ کیا تھا ۔ امرناتھ کے مطابق مولانا ندوی نے اس ملاقات میں ہم سے کہا کہ ہندو فریقوں کی طرف سے جو تجاویز ہوں ، وہ ہمیں لکھ کر دیدیں ، ان تجاویز پر بورڈ کی ہونے والی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امرناتھ کے مطابق انہوں ے یہ تجویز مولانا ندوی کو لکھ کر دیدی تھی ۔ مگر مولانا نے یہ تجویز میڈیا میں لیک کردی ، جس کی وجہ سے بورڈ مولانا سے ناراض ہوگیا ۔ مولانا کو اس تجویز پر پہلے بورڈ میں تبادلہ خیال کرنا چاہئے تھا ۔ یہی نہیں مولانا اس میٹنگ سے پہلے شری شری روی شنکر سے ملنے کیلئے بنگلورو بھی گئے تھے ۔ امرناتھ کے مطابق مولانا کے ساتھ چار فروری کی ان کی ملاقات کے دوران امام کونسل کے جنرل سکریٹری حاجی مسرور خان بھی موجود تھے۔امرناتھ مشرا کا الزام ہے کہ مولانا ندوی اجودھیا کو اسلامی شہر بنانے چاہتے ہیں ، وہ اجودھیا کو نیا مکہ و مدینہ بنانا چاہتے ہیں ، اس لیے جب انہوں نے ہم سے تجویز مانگی تو ساتھ میں پانچ ہزار کروڑ روپے ، دوسو ایکڑ زمین اور اجیہ سبھا کی سیٹ کا بھی مطالبہ کیا ۔ امرناتھ نے اس معاملہ میں مولانا ندوی پر بنیادی طور پر تین بڑے الزامات عائدکیے ہیں۔پہلا الزام ،مولانا ندوی نے بابری مسجد تنازع پر اپنا موقف بدلنے کے عوض میں پانچ ہزار کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔دوسرا الزام ،انہوں نے دوسو ایکٹر زمین کا مطالبہ کیا۔تیسرا الزام،مولانا ندوی نے اس کام کے عوض میں راجیہ سبھا کی سیٹ دینے کا مطالبہ کیا ۔علاوہ ازیں امرناتھ مشرا نے کہاکہ مولانا ندوی نے اپنی یہ تجویز سب سے پہلے شری شری روی شنکر کے سامنے رکھی ۔اس تجویز کے جواب میں شری شری کے دفتر سے یہ جواب دیا گیا کہ اجودھیا مسئلہ صرف آپسی اتفاق اور حسن نیت سے حل ہوسکتا ہے ، اسے کسی سودے یا معاہدہ سے حل نہیں کیا جاسکتا ۔ادھر مولانا سلمان ندوی نے امرناتھ مشرا کے الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر سازش کے تحت الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا الزام لگا کر ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی تو مشرا سے کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی وہ ملک کے معروف علما کے ساتھ ملاقات کریں گے، جس میں پورے ملک سے علما کو مدعو کیا جائے گا۔