مولانا حسیب صدیقی کا انتقال، ملی وسماجی حلقوں میں غم کی لہر


دیوبند:(سمیر چودھری)
دیوبند کی عہد ساز شخصیت و جمعیۃ علماے ہند کے خازن مولانا حسیب صدیقی کاآج انتقال ہوگیا ۔ انا للہ و الیہ راجعون۔وہ تقریباً 83؍ سال کے تھے اور آج اچانک معمولی علالت کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کا انتقال یہاں کے علمی،دینی ،تعلیمی اورسماجی و سیاسی لوگوں کے لئے نہ صرف گہرے صدمہ کا باعث بنا ہے بلکہ دیوبند سمیت اطراف اورملی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔آج صبح تقریباً آٹھ بجے جیسے ہی ان کے انتقال کی خبر عام ہوئی تو یہاں محلہ شاہ بخاری میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ،علماےکرام، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت شہر کے سرکردہ لوگوں کا تعزیت کے لئے تانتا لگ گیا۔ ملک کی نامور ملی،سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال کو دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ قرا ردیا ہے۔ مولانا حسیب صدیقی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کےشاگرد رشید تھے، وہ سرزمین دیوبند کی ایک عظیم عہد ساز شخصیت تھے،جن کی پوری زندگی لوگوں کی بھلائی اور خیر خواہی میں گزری،نرم لہجہ، شگفتہ اور شائستہ،بلند اخلاق،ملنساری ، چھوٹوں پر شفقت ان کی زندگی کا خاصہ تھا۔ جنہوں نے سرزمین دیوبند پر خدمت خلق کا عظیم سرچشمہ شروع کیاتھا اور آج دیوبند میں ان کے قائم کردہ ایک درجن ایسے ادارے ہیں جو ان کی اقتصادی،ملی،تعلیمی،سماجی ، سیاسی ،ادبی اور صحافتی کی خدمات کی عظیم الشان نظیر بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ گزشتہ تقریباً ساٹھ سال سے ملک و ملت کی ایسی نمایاں خدمت کررہے تھے جو نہ صرف ناقابل فراموش ہے؛بلکہ دیوبند کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج ہوگا۔ فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ کے ذریعہ 1961ء میں قائم کردہ ادارہ کو مرحوم مولانا حسیب صدیقی نے اپنے خو ن جگر سے اس ادارہ کو مسلم فنڈ دیوبندکی شکل میں ایک تناور شجر بنایا،جس سے آج بلا تفریق مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچ رہاہے۔مولانا حسیب صدیقی نے مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ملک و ملت کو ایک ایسااقتصادی نظام دیا،جس سے روشنی پاکر ہندوستان میں متعدد ملی تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں میں اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں اسی طرز کے سیکڑوں معاشی ادارے قائم کرکے کمزور طبقات کی معیشت کو بہتر بنانے کاکام انجام دے رہے ہیں۔مسلم فنڈ دیوبند کے تحت انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے پبلک گرلز انٹر کالج، تکنیکی تعلیم کے لئے مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیو ٹ اور مسلم فنڈ ناگل سمیت ایک درجن ایسے اداروں کا قیام کیا،جو خدمت خلق کے سفرپر رواں دواں ہیں۔ مولانا حسیب صدیقی جمعیۃ علماء ہند کے قومی خازن تھے، آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اوردیوبند میونسپل بورڈ کے سال 2007ء سے سال 2012ء تک چیئرمین رہے۔اس کے علاوہ بیشمار ایسے ادارے اور تنظیمیں ہیں جو آپ کی سرپرستی میں بہترین خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اقتصادی اور تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ملی، سماجی اور سیاسی خدمات کے لئے آپ ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ ان کا انتقال ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے ۔ ان کے بیٹے اور مسلم فنڈ دیوبندکے کارگزار منیجر سہیل صدیقی نے بتایا کہ آج صبح معمولی علالت کے بعد والد محترم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے،انہوں نے کہاکہ یہ سانحہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے علماء کرام،ائمہ مساجد اور ارباب مدارس و طلباء سے والد مرحوم کی مغفرت کے لئے دعاکی اپیل کی ہے۔ پسماندگان میں تین بیٹوں کے علاوہ بیٹیاں اورپوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بھرا پورا کنبہ ہے۔ نماز جنازہ بعد نماز عصر احاطہ مولسری میں ادا کی گئی،بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر ملک کے سیاسی ،سماجی اور ملی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو عظیم ملی و سماجی خسارہ قرار دیا۔دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی،دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی،جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری عثمان منصور پوری، مسلم فنڈ دیوبندکے سکریٹری قاضی محمد انوار ،رکن شوریٰ مولانا انوارالرحمن ،معرو ف شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی، مولانا اسجد مدنی،سابق ممبر اسمبلی معاویہ علی،چیئرمین ضیاء الدین انصاری، مولانا حسن الہاشمی، مفتی شریف خان قاسمی، مولانا ندیم الواجدی،سینئر کانگریس لیڈر عمران مسعود، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، سابق چیئرمین انعام قریشی، ڈاکٹر ڈی کے جین ،سیٹھ کلدیپ کمار، پنڈت ستیندر شرما،ششی با لاپنڈیر ، سلیم قریشی وغیرہ نے ان کے انتقال کو عظیم ملی وسماجی خسارہ قراردیاہے۔