مولانا بدرالدین اجمل نے سپریم کورٹ کے ذریعہ ہجومی تشدد کے خلاف قانون بنانے کی ہدایت کا خیر مقدم کیا

نئی دہلی: (۱۸؍جولائی)
آل انڈیا یونا ئیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بد رالدین اجمل قاسمی نے سپریم کورٹ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے جس میں حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہجومی تشدد کو روکنے کے لئے مناسب قانون بنائے اور اس جرم کے لئے ایسی سزا تجویز کرے جو اس گھناؤ نے جرم میں ملوث افراد کے لئے خوف کا باعث ہو اور وہ اس جرم کو کرنے سے پہلے سونچنے پر مجبور ہو۔ مولانا نے کہا کہ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر قانون سازی کرکے اس جرم پر قدغن لگا ئے مگر سپریم کورٹ نے جو ۲۳ نکاتی ہدایت دی ہے اس پر اگر فوری عمل کیا جائے تو بہت حد تک اس جرم پر قابو پا یاجاسکتا ہے جس میں ضلع سطح پر نوڈل آفیسر کی تعیناتی،اسپیشل ٹاسک فورس کی تشکیل،متأثرین کے لئے معاوضہ کا انتظام ۳۰ دنوں کے اندر،ہجومی تشدد کے مقامات کی فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت،اور متأثرین کے وکیل کے خرچ کی ادائیگی حکومت کو کرنا ہو گا۔مولانا نے کہا کہ اگر حکومت نے اگر انصاف اور چوکسی سے کام لیتے ہوئے ہجومی تشدد کے مجرمین کے خلاف سخت کاروائی کیا گیا ہوتا تو شاید حالات اتنے خراب نہیں ہوتے مگر افسوس کہ ہجومی تشدد کے ذریعہ قتل کا سلسلہ جو محمد اخلاق سے شروع ہوا تھا وہ دن بدن انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کر تی جا رہی ہے۔ متأثرین کو معاوضہ اور مجرمین کو سزا دینے کی بجائے آج صورت حال اتنی بد تر ہو گئی ہے کہ متاثرین کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور انتظامیہ کے ذریعہ کیس کو الگ ہی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری طرف حکومت کے وزیر کے ذریعہ ہجومی تشدد کے مجرمین کو استقبالیہ دیا جاتا ہے۔ حکومت اور حکومت کے ذمہ داروں کی لا پرواہی اور غیر اعلانیہ حمایت کا نتیجہ ہے کہ ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور حکومت خاموش بیٹھی ہے، ایسے میں سپریم کورٹ کی ہدایات روشنی کی کرن ہے۔مولانا نے کہا کہ یہ ہجومی تشدد کا ہی آتنک ہی تھا جس نے سوامی اگنی ویش جیسے امن پسند اور سماج کے خیر خواہ کو جھارکھنڈمیں نشانہ بنایا جس میں مبینہ طور پر بی جے پی کے کارکنان شامل تھے جو انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکار اس میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا اب مسلمانوں اور دلتوں کے علاوہ ان تمام لوگوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا جو انصاف کی بات کرتے ہیں اور جو ظلم کے خلاف آواز اٹھا تے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ اس ملک کے جمہوری اقدار کے لئے انتہائی خطرناک ہے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔مولانا نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں کتنی بھی کوشش کر لیں مگر وہ یاد رکھیں کہ اس ملک کی اکثریت جمہوریت پسند ہے اور اس ملک کا قانون جمہوری ہے اس لئے ہمیں یقین ہے کہ جمہوریت کی ہی جیت ہوگی۔