Home تجزیہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مجلہ ثقافۃ الہند

مولانا ابوالکلام آزاد اور مجلہ ثقافۃ الہند

by قندیل

ڈاکٹر جسیم الدین

مولانا ابوالکلام آزاد بلاشبہ ایک عبقری ،نابغۂ روزگارشخصیت اور اپنی وضع کے طرح دار دانشور تھے،جو آخری دور میں آئے لیکن قرن اول کی یاد تازہ کردی،بلکہ بقول ابوالعلا معری:
وإنی وان کنت الاخیر زمانہ
لآت بما لم تستطیعہ الاوائل
بیشک میں زمانی لحاظ سے گرچہ بعدمیں ہوں؛ لیکن وہ چیزیں لے کر آؤں گا ،جو پیش رو نہ لاسکے۔مولانا ابوالکلام آزادایک تاریخ تھے، ایک ادارہ تھے، ایک جماعت تھے۔آپ کی تقریروں میں خطابت کے جلال سے زیادہ انشا پردازی کا جمال ہوتا تھا،آپ کے خیال کی بلندیوں نے مسلمانوں کے ذہنی افق کو روشن کیا۔مگر یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا ابوالکلام آزاد جیسے دانشوروں کی منڈی میں کسادبازاری کاسکہ چل رہاتھا اور طوق زریں کے لیے’گردن خر‘ کو ہی حقدار سمجھاجاتاتھا۔عہد عباسی کے مشہور عربی شاعر ابوطیب متنبی نے کہاہے:
ذو العقل یشقی فی النعیم بعقلہ
واخو الجہالۃ فی الشقاوۃ ینعم
یعنی ایک دانشور نعمتوں میں رہ کر بھی روحانی کرب واذیت میں مبتلا رہتا ہے اور ایک جاہل انسان اذیتوں میں بھی عیش وعشرت کی زندگی بسرکرلیتاہے۔مولانا آزاد کی تحریروں سے ان کے ذہنی کرب کا اندازہ ہوتا ہے، انھوں نے پوری زندگی ایک عظیم قومی مقصد کے لیے وقف کردی، جو نہ صرف ہندوستان کے لیے کارآمد تھا ؛بلکہ پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کے لیے بھی سودمند تھا۔مولانا ابوالکلام آزاد نے جس طرح اپنی تحریروتقریر اور فکروتحقیق کے ذریعے خوابیدہ قوم کو بیدار کیا ،اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔بقول شورش کاشمیری دین وسیاست، علم وادب اور فکر ونظر کا کوئی ایسا گوشہ نہیں، جہاں مولانا ابوالکلام موجود نہ ہوں۔پچھلے ساٹھ برس کی تاریخ انھیں ساتھ لیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ وہ اس برصغیر کی عظیم شخصیتوں میں سے ایک تھے اور اپنی جامع جہات ،جامع صفات اور جامع حیثیات شخصیت کے اعتبار سے منفرد ویگانہ۔ادب انھیں فراموش نہیں کرسکتا، خطابت ان کی نام لیوا ہے، صحافت میں ان کا آفتاب مدۃ العمر نصف النہار پر رہا اور تاریخ صحافت میں سے انھیں کون خارج کرنے کی جسارت کرسکتاہے۔قرآن پاک کے مفسروں میں ان کا نام ابد الآباد تک چمکتا دمکتارہے گا۔
سرِدست میرا موضوعِ تحریر ’مولاناابو الکلام آزاد اور ثقافۃ الہند ‘ ہے۔ظاہر ہے کہ اس موضوع کے تحت مولانا کی ہمہ جہت سرگرمیوں میں سے ایک ایسی سرگرمی کا ذکر کرنا ہے،جس کی وجہ سے عالم اسلام بالخصوص عالم عرب میں ہندوستان کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا نہ صرف ازالہ ہوا؛بلکہ ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور باشندگان ہند کی قدروقیمت سے پوری دنیا خاص طور سے عالم عرب روشناس ہوا۔ ہندوستان کے متعلق عالم عرب کا کیا خیال تھا اس کاذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ عبد الرزاق ملیح آبادی نے ’’ذکر آزاد‘‘ میں لکھا ہے:’’اسلامی دنیا عام طور پر اور عرب دنیا خاص طور پر ہندوستان سے بالکل ناواقف ہے،وہ سمجھتی ہے کہ ہندوستان وحشی ملک ہے، یہاں کے لوگ پتھر کے ٹکڑے لیتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے چھیل چھال کے بت گڑھتے اورپھر خدا کہہ کر ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں، اسلامی دنیا کو قدیم ہندوستان کی تاریخ ،تہذیب، فلسفہ،ادب اور ادیان کی کچھ خبر نہیں،اس کی کوئی قدروقیمت نہیں، وہ اس ملک کی اسلامی تاریخ اور اس کی اہمیت سے یکسربے خبرہیں‘‘، مولانانے یہ بھی لکھا ہے کہ قدیم ہی نہیں ؛بلکہ موجودہ ہندوستان سے بھی ناواقفیت ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ جب میں مصر میں پڑھتا تھا تو وہاں کے لوگ تعجب سے سوال کیاکرتے تھے کہ کیا تمھارے ہندوستان میں بھی ہمارے ’نیل‘ جیسا کوئی دریا ہے اور ان کا خیال یہ تھا کہ انگریز ہندوستانیوں کی پیٹھ پر پاؤں رکھ کر گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں۔یہی وہ اسباب تھے ،جو محرک بنے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے قیام کا ، تاکہ اس پلیٹ فارم سے ہندوستانی تہذیب وثقافت اور اس کی موجودہ قدروقیمت سے عالم عرب کو روشناس کرایا جائے۔بیرونی ممالک بالخصوص اسلامی دنیا سے ثقافتی رشتے جوڑے جائیں ، کونسل کا ایک ایسا ترجمان بھی ہو ،جس میں موجودہ ہندوستان کو ایسے پیرایے میں پیش کیا جائے کہ وہ سمجھے اور احترام کرے ، اس رسالے کو سیاست اور سیاسی پروپیگنڈے سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ چناں چہ 1950میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے تحت انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز(آئی سی سی آر)کا قیام عمل میں آیا۔اور اسی ادارے سے مارچ 1950 میں مولاناآزاد نے اپنی سرپرستی میں سہ ماہی عربی مجلہ’’ثقافۃ الہند‘ ‘کی اشاعت شروع کی۔اس کے اولین اڈیٹر عبدالرزاق ملیح آبادی تھے۔سلسلۂ اشاعت شروع کرنے سے قبل مولانا ابو الکلام آزاد نے عبد الرزاق ملیح آبادی سے کہاکہ عرب سفیروں سے ملو اور پہلے پرچے کے لیے ان کے پیغامات حاصل کرو ، مولانا آزاد نے خودہی اسماعیل کامل بک سفیرِ مصر کا نام لیااور کہاکہ پہلے اسی سے ملو ، سب سے زیادہ معمر اور بااثر ہے، مصری سفیر سے جب ’’ثقافۃ الہند‘‘ کا تذکرہ کیا گیا، تو وہ بہت ہنسا اور کہنے لگا ہندیوں کو عربی سے کیا مناسبت ؟!عبدالرزاق ملیح آبادی نے عرض کیا رسالہ عربی زبان وادب کی خدمت کے لیے نہیں نکالا جارہا ہے،اس کا مقصد تو صرف اور صرف یہ ہے کہ عرب ملکوں کو قدیم اور موجودہ ہندوستان سے روشناس کرایا جائے۔رسالے کی زبان غیر فصیح سہی، مگر عربوں کی سمجھ میں آہی جائے گی۔آدمی معقول تھا، مگر قائل نہ ہوااور پیغام دینے سے انکار کردیا؛لیکن جب رسالے کے ابتدائی پرچے اس کے پاس پہنچے ،تو اپنی پہلی گفتگوکی معذرت کی اور بہت اچھا پیغام دے کر ہنستے ہوئے کہنے لگا:’’تم نے مجھے دھوکہ دیا ،عربوں سے لکھواتے ہواور تعریف اپنی چاہتے ہو،پھر جب حقیقتِ حال بتائی گئی، تو بہت خوش ہوا‘‘۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے جب یہ واقعہ سنا،تو بتایا کہ عرب بہت مغرور ہوتے ہیں۔جلد ہی ان کا غرور ٹوٹے گا اور ہندوستان کی عزت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
’’ثقافۃ الہند‘‘ کامیابی سے شائع ہونے لگا ،عرب ممالک کے حالات نے پلٹا کھایا اور بین الاقومی دنیا میں ان کی اہمیت بڑھ گئی، ہندوستان عرب ملکوں سے بے پروا نہیں رہ سکتا تھا، مگر عرب ملک ہندوستان سے حسن ظن نہیں رکھتے تھے ، ضرورت تھی کہ غلط فہمیاں دور ہوں اور افہام وتفہیم کی راہیں ہموار ہوں ، اس کے لیے مولانا آزاد نے آل انڈیا ریڈیو پر بھی عربی شعبے میں زیادہ سے زیادہ ہندوستانی تہذیب وثقافت سے متعلق پروگرام شروع کرنے پر زور دیا۔یہاں حالت یہ تھی کہ عربی شعبے میں تمام کام کرنے والے عرب تھے، مصری، شامی، لبنانی، عراقی،سعودی اور اردنی۔یہ لوگ ہندوستان کی پالیسی سمجھتے تھے ،نہ ہندوستان سے کوئی ہمدردی رکھتے تھے؛ بلکہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے، جو ہندوستان سے نفرت کرتے تھے؛ چناں چہ ان میں سے ایک شخص نے ہندوستان کے خلاف نہایت زہریلی کتاب لکھی، مگر شروع کے ایک دو صفحات میں پنڈت جواہر لال نہرو اور مولاناآزاد کی تعریف کرکے پنڈت نہرو کے سامنے پیش کردی کہ حکومت ہند اسے اپنے خرچ سے شائع کرے۔پنڈت جی نے کتاب مولاناآزاد کی خدمت میں بھیج دی۔مولانا پر جب کتاب کی حقیقت کھلی، تو پتہ چلا کہ وہ عرب شخص پہلے ہی رخصت لے کر ہندوستان سے باہر جاچکا ہے۔مولانا کی خاص توجہ سے آل انڈیاریڈیوکے عربی شعبے میں آہستہ آہستہ ہندوستانی اپنا مقام پانے لگے اور عرب گھٹتے گھٹتے صرف تین رہ گئے۔
1949 میں جب مرحوم سید حسین مصر میں ہندوستان کے پہلے سفیر بن کر گئے تو اخباروں نے یقین نہیں کیا اور لکھا کہ وہ پاکستان کے پہلے سفیر ہیں؛لیکن انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کے قیام اور’’ ثقافۃ الہند‘‘ کی اشاعت کے بعد اسلامی ملکوں کے تعصبات اور غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔عالم عرب میں پائی جانے والی غلط فہمیوں سے مولانا ابو الکلام آزاد بہت دلبرداشتہ تھے؛چنانچہ انھوں نے تہیہ کرلیا کہ عرب کی غلط فہمیوں کا ازالہ ضرور کیا جائے ۔اسی تناظر میں آپ نے جہاں اردو صحافت کو سرسبز کیا، وہیں عربی صحافت کے ذریعے ایسا زریں کارنامہ انجام دیا کہ اس مختصر مقالے میں اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔
’’ثقافۃ الہند ‘‘کے مضامین نے مسلم دنیا پر برقی لہروں جیسااثر پیدا کیا۔مسلم دنیا ہندوستان کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے لگی، مصر،عراق، سیریااور ایران کے پرچوں اور رسالوں نے اس رسالے کی بڑھ چڑھ کر تعریف کی اور اس کے مضامین کو نقل یا ترجمہ کرکے شائع کیا ، ان ممالک کے نامور اہل قلم اور مصنفوں نے رسالے کو اوراس کی خدمات کو سراہا، رسالے کے بعض مضامین تو اس قدر مقبول ہوئے کہ عراق کی ایک سوسائٹی نے انھیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ایران میں بھی یہ مضامین فارسی میں ترجمے ہوئے اور کتاب کی شکل میں چھاپے گئے۔ انگلینڈ ،فرانس اور اٹلی کے مشہور مستشرقوں نے رسالے کے بعض مضامین کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کیا۔(ذکر آزاد: عبدالرزاق ملیح آبادی، ص: 273)
ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو ،جو اس حقیقت سے ناواقف ہو کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش 1888 میں سرزمین حجاز کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ اس سلسلے کی سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ مولانا کو سرزمین عرب سے اپنے اس پیدائشی تعلق کا احساس زندگی بھر رہا ؛اسی لیے جب کبھی بھی انھیں کسی افتاد کا سامنا کرنا پڑا ،تو انھوں نے عرب دانشوروں، مفکروں اور رہنماؤں سے کسب فیض میں کسی طرح کے تامل سے کام نہیں لیا۔ ان کی مادری زبان چوں کہ عربی تھی اسی لیے اوائل عمر سے ہی عربی رسائل ومجلات ان کے زیر مطالعہ رہے اور انھیں عرب ممالک کی علمی وادبی نیز اجتماعی و سیاسی نیز مذہبی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل ہوتی رہی۔ عربی کے یہ میگزین اور رسالے ابتدا میں انھیں اپنے والد اور ان کے دوستوں اور مریدوں کے توسط سے مل جاتے تھے،بعد کے ایام میں جب وہ خود اخبارات و رسائل کی دنیا سے وابستہ ہوگئے تو ان کے پاس ان کے اپنے اخبارات ورسائل کے تبادلے میں بعض اہم عربی مجلات اور اخبارات آنے لگے۔
جن عربی رسالوں اور میگزینس سے وہ اول اول متاثر ہوئے ،ان میں مصر سے شائع ہونے والے رسائل الموید، الہلال، المنار، مصباح الشرق، اور سرزمین طرابلس، لبنان سے شائع ہونے والا جریدہ ’’الجوائب‘‘ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ رسائل کے مطالعے سے جہاں انھیں اپنی عربی زبان کو بہتر سے بہتر بنانے کا موقع مل رہا تھا ،وہیں انھیں ان کے ذریعے عرب ممالک کے موجودہ سیاسی، علمی، ادبی اور مذہبی احوال وکوائف سے بھی آگاہی حاصل ہورہی تھی۔ اس آگاہی کا اثر ان کے افکار ونظریات پر بہت گہرا پڑا۔ہر چندکہ مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کا بڑا حصہ سیاست کی نذر ہوا ،تاہم ان کی علمی،ادبی ،سیاسی ، مذہبی اور سماجی تحریریں انھیں صف اول کے مصنفین میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد ایک عالم دین ، دانشور ،ادیب اور صاحب طرز انشاپرداز کی حیثیت سے نہایت بلند مرتبہ رکھتے ہیں، جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا اور حقائق سامنے آتے جائیں گے، مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی وادبی قدر وقیمت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔فارسی اور اردو شعر وادب کا بھی بڑا ستھرا اور نکھر ا ذوق رکھتے تھے ، اپنی تحریروں میں اشعار نگینوں کی طرح جڑ تے تھے۔ان کا سلوب نثر بھی یگانہ ویکتا تھا ، جس میں ہندوستانی بولی کی صلابت ، فارسی کی جاذبیت، عربی خطابت کا جلال وجبروت ایک دوسرے سے گلے ملتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں، مولانا ابوالکلام آزاد کی نظر حاکمانہ، دماغ فلسفیانہ ، احساس شاعرانہ اور مزاج قلندرانہ تھا۔مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب تحریرکی قدر کرتے ہوئے معروف ادیب وصحافی شورش کاشمیری نے کہاہے:’’مولانا(ابوالکلام آزاد)مرحوم کے اسلوب تحریر کا آستانہ میرے قلم کی سجدہ گاہ ہے‘‘۔
معروف ادیب ونقادرشید احمد صدیقی نے کہا:’ ’مولانا زبان وقلم کے ایسے دھنی تھے کہ الفاظ کو ربوبیت اور نبوت کا جامہ پہنادیتے ‘‘۔
مولانا آزاد کے علم و فضل کا اعتراف عرب دنیا کے ہراس عالم دین نے کیا ہے، جس کی برصغیر ہندوپاک کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے ذرہ برابر بھی دلچسپی رہی ہے۔ عربوں کے اندر اس دلچسپی کو پیدا کرنے میں سہ ماہی رسالہ ثقافۃالہند، جسے ہندوستانی وزارت خارجہ کے ایک ذیلی ادارہ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز گزشتہ 68سال سے شائع کررہا تھا،اس کی عظیم الشان خدمات کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس رسالے کی داغ بیل مولانا آزاد نے ہی ڈالی تھی اور اس کا مقصد عرب دنیا کو ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے واقف کرانا تھا۔ اس رسالہ کا اجرا خود اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ مولانا آزاد کے یہاں عربوں سے تعلقات کو ترجیحی حیثیت حاصل تھی اورانھیں بلاشبہ اپنے اس مقصد میں مذکورہ رسالے کی بدولت قابل قدر کامیابی حاصل ہوئی۔ عربوں میں اس رسالے کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان شناسی کو فروغ حاصل ہوا ؛ بلکہ اس کے ذریعے عرب علما و مفکرین نے مولانا آزاد کے افکار و خیالات سے گہری شناسائی بھی حاصل کی ، نیزعربوں میں ہندوستان کے تعلق سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کاازالہ بھی ہوا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کی ایک تصویریہ بھی ہے ، جس کی عکاسی شورش کاشمیری نے ان الفاظ میں کی ہے :’’ وہ آخر عمر میں مایوسیوں کی ایک تصویر ہوگئے تھے۔ان کے اندیشہ ہائے دوردراز کا پورے بر صغیرمیں ایک شخص بھی آشنا نہ تھا۔قدرت نے انھیں عجم کا حسن طبیعت او رعرب کا سوزدروں دے کر پیدا کیا تھا۔غالبؔ کے الفاظ میں مبدأِ فیاض سے دل گداختہ لائے تھے اور حکیم مشرق کے الفاظ ’’نگہ بلند ، سخن دلنواز، جاں پرسوز‘‘کا مرقع تھے۔مگر وہ اپنے نزدیک غریب الدیار رہے،لوگوں کو پکارا، انھوں نے تبریٰ کیا، جھنجھوڑا، اعراض کیا، دامن پکڑا، چھڑالیا، آخر رخت سفر باندھ کر معبود حقیقی سے جاملے‘‘۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جس رسالے کی داغ بیل اولین وزیر تعلیم نے ڈالی اور 68سال تک تواتر کے ساتھ شائع ہوتا رہا اور پوری دنیا بطور خاص عالم عرب ہندوستانی تہذیب وثقافت اور قدیم وجدید علمی وادبی سرگرمیوں سے آشنائی حاصل کرتی رہی، ا س غیرمعمولی معیاری رسالے کو حکومت کی نظر بد لگ گئی اور اچانک اس کی اشاعت روک دی گئی۔اس کی دوبارہ اشاعت کے لیے دہلی مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مرکزی وزیر ثقافت ڈاکٹر مہیش شرما کو خط لکھ کر اس کی اشاعت جاری رکھنے کی اپیل کی ، لیکن ہنوز کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ رسالہ گزشتہ 68سال سے ہندوستان اور عالم عرب کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کررہا تھا، عالم عرب 23ممالک پر مشتمل ہے، جو بحر اٹلانٹک پر واقع مراقش سے لے کر بحر عرب پر واقع سلطنت عمان تک پھیلا ہو اہے، جس پر ہمارے ملک کا مغربی ساحل بھی واقع ہے۔اس خطے کے ساتھ ہمارے ملک کے گہرے سیاسی ، ثقافتی اور تجارتی روابط ہیں اور فی الوقت نہ صرف اس خطے میں ساڑھے ستر لاکھ ہندوستانی کام یا تجارت کررہے ہیں؛ بلکہ ہمارے پٹرول اور گیس کا معتد بہ حصہ بھی اسی خطے سے آتا ہے؛اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اگر عرب ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں استحکام کے لیے کوئی نیا ترجمان شروع نہیں کرسکتی ،توکم ازکم 68سال سے جاری اس غیرمعمولی اہمیت کے حامل رسالے کی اشاعت کو موقوف کرنے کی جو حماقت کی ہے ،اس پر نظر ثانی کرکے جلد از جلداس کی اشاعت شروع کرے۔
پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ،شعبۂ عربی ،دہلی یونیورسٹی،دہلی
[email protected]
9711484126

You may also like

Leave a Comment