مولانامحمودمدنی نے غوطہ اورادلب میں حملے کی مذمت کی

نئی دہلی:28 ؍فروری (قندیل نیوز)
جمعۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے شام کے مشرقی شہر غوطہ اورادلب میں شامی اور روسی فوج کے وحشیانہ حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر سخت تکلیف کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ محض مذمتی قرارداد اور جنگ بندی کی تجاویز سے اوپر اٹھ کر عملی اقدامات کریں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ وہاں کی حکومت اپنے ہی عام شہریوں کے اوپر مہلک ہتھیار استعمال کررہی ہے اور سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی اپیل کو ٹھکرا کر طبی و غذائی امداد کی راہ میں رخنہ ڈال رہی ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ غوطہ میں پھنسے ہوئے چار لاکھ انسانو ں کا ہے ، جن تک مددپہنچانا او ران کی جان بچانا انتہائی ضروری ہے ۔ انھوں نے اسی تناظر میں اقوام متحدہ، روس، فرانس، امریکہ، گلف کو آپریشن کاؤنسل اور عرب لیگ وغیرہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سفارتی ، انسانی اور دیگر پرامن طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے شام کے شہریو ں کے خلاف جاری اس نسل کشی اورجنگی جرائم پر روک لگائیں اور بالخصوص شامی حکومت پر فوری طور سے یہ دباؤ بنایا جائے کہ وہ انسانی اور حکومتی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے ہی عام شہریوں کو قتل کرنے سے باز آئے ۔مولانا مدنی نے بھارت کے مسلمانوں بالخصوص علماء ، مساجد کے ائمہ کرام اور جمعۃ علماء ہند کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی اور دینی اخوت کی بنیاد پر شام کے مسلمانوں کے لیے کل ۲؍مارچ یوم جمعہ کو یوم دعاء کے طور پرمنائیں اور نماز جمعہ میں اللہ کی بارگاہ میں ان کی حفاظت کے لیے خصوصی دعاء کا اہتمام کریں ۔