مولاناعبداللہ کاپودروی کی وفات عالم اسلام کاعظیم خسارہ:مولانااسرارالحق قاسمی

مولانا عبداللہ کا پودروی جیسے لوگ بار بار پیدا نہیں ہوتے :مفتی اختر امام عادل قاسمی
نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ عالم اور مشہور تعلیمی و تربیتی ادارہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات کے شیخ الجامعہ حضرت مولانا عبداللہ کاپودروی کاآج طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا،اس حادثے کی خبر سنتے ہی ملک بھر کے اہل علم و فکرکے حلقے میں رنج و غم کی لہر دوڑگئی ہے۔ان کی وفات کی خبر ملتے ہی معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے اپنے قلبی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مولاناکے پسماندگان سے رابطہ کرکے اظہار تعزیت کیا اور صبر و استقامت کی تلقین کی۔مولانا نے کہا کہ مولانا کاپودروی اس ملک کے مقبول و معتبراور بالغ نظر عالم دین تھے،ایک طویل عرصے سے وہ گجرات کے مرکزی ادارہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر کے سربراہ تھے اور ملک و بیرون ملک میں ان کے ہزاروں شاگرد پھیلے ہوئے ہیں جومختلف شعبوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔مولانا کاپودروی علماء ودانشوران کے حلقے میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اورانہوں نے ملک کے مختلف نمائندہ تعلیمی اداروں اور رفاہی و فلاحی تنظیموں کے باہمی اختلافات کو دورکرنے میں بھی نمایاں اور اہم رول اداکیا۔مولانا قاسمی نے کہا کہ ان کی شخصیت مسلمانوں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں تھی ، ان کا انتقال یقیناتمام مسلمانوں کا عظیم خسارہ ہے۔مولانااسرارالحق نے کہاکہ مولانامرحوم ومغفورکے مجھ سے ذاتی تعلقات تھے اور مختلف ملی وقومی مسائل ومعاملات پر ان سے تبادلۂ خیال کا موقع ملتا رہتا تھا،بارہاان کے ساتھ سفر بھی ہوا،ان کی گفتگومیں علمیت اور مسلمانوں کے تئیں فکرمندی کے جذبات پائے جاتے تھے،اخلاقی اعتبار سے بھی وہ ایک عظیم انسان تھے اور ہمیشہ خلوص و ہمدردی کے ساتھ پیش آتے تھے،وہ گجرات کے ایک عظیم علمی و دینی ادارے کے سربراہ تھے اوراس کا سارانظم و نسق ان کی نگرانی میں انجام پاتا تھا،اس کے علاوہ ہندوستان کے بیشتر بڑے تعلیمی،ملی و رفاہی اداروں کو ان کی توجہات حاصل تھیں اور وہ ہر ادارے کی رہنمائی فرمایاکرتے تھے۔مولاناقاسمی نے ان کی وفات کو ایک عظیم سانحہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ان کی وفات سے امت مسلمہ ایک قدآورعلمی شخصیت اور مختلف محاذپر بروقت رہنمائی کرنے والے مخلص قائد سے محروم ہوگئی ہے۔مولاناقاسمی نے ان کے انتقال کی خبر ملنے کے بعدفوراً اپنی سرپرستی میں چلنے والے اداروں میں قرآن خوانی وایصال ثواب کا بھی اہتمام کروایا۔واضح رہے کہ انتقال کے وقت مولانا کاپودروی کی عمر پچاسی سال تھی،انہوں نے 1955میں دارالعلوم دیوبند سے فضیلت مکمل کیا،مختلف موضوعات پر انہوں نے ایک درجن سے زائد کتابیں تحریرکیں،دنیاکے مختلف ملکوں کے علمی و دعوتی اسفار کیے اوران کے ہزاروں شاگرد مختلف ملکوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔پسماندگان میں پانچ بیٹی اور سات بیٹیاں ہیں۔
مفتی اختر امام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منوروا شریف سمستی پور بہار نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ
مولاناعبداللہ کاپودروی جیسےلوگ باربارپیدانہیں ہوتے
حضرت مولاناعبداللہ کاپودروی کی وفات کی خبرسےمجھے بےحدصدمہ پہونچاہے.اناللہ واناالیہ راجعون .اس ملت نےاپناایک عظیم سرپرست اورمحسن کھودیاہے.وہ بڑے عالم دین اورمحدث تھے.وسیع علم کےساتھ زبردست انتظامی صلاحیت کےبھی مالک تھے.ان کےشاگردان کےتلمذپرفخرکرتےہیں ..میری ان سےکئی ملاقاتیں تھیں .ایک باربولٹن(یوکے) کی مسجدرحمن میں میرا درس قرآن ہوتا تھا.انہوں نے میرےکئی دروس میں شرکت کی .عیدکی نمازانہوں نےاسی مسجدمیں اداکی تھی .عیدسےقبل والےخطاب میں بھی وہ موجودتھے.ایک مرتبہ گجرات کےایک سفرکےموقعہ پربعض اہل علم دوستوں کےہمراہ کاپودرہ گاؤں میں آپ کےگھرپربھی مجھےشرف نیازحاصل ہواہے. وہ مجھ سے بےحدحسن ظن رکھتے تھے جب کہ میں ان کی اولادکےدرجےمیں تھا.میری کتاب اسلامی قانون کاامتیازشائع ہوئی توگوکہ اس کےبعدمیرا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا.مگرگجرات کےبہت سےعلماء ومفتیان کواس کتاب کےمطالعہ کی ترغیب دی .اورزیادہ سےزیادہ علمی حلقہ تک پہونچانے پرزوردیا.مجھے اس کاعلم ان علماء سےہواجنہوں نے مجھ سے فون پررابطہ کیااورمولاناکےحوالےسےکتاب کےبارےمیں ان کےتاثرات نقل کئے.میں مولاناکی اس محبت اورعلم نوازی پرحیران رہ گیا.اللہ پاک ان کی قبرکونورسےبھردے.میرےپاس ان کےاعزاء واقرباء کےرابطہ نمبرنہیں ہیں. کاش کوئی ان کلمات عقیدت وحسرت کوان تک پہونچاسکتا.
ان کی وفات ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری قوم کاحادثہ ہے.ایک پوری تاریخ ان کےساتھ چلی گئی .وہ اس دورمیں سلف کی یادگارتھے.گہرےعلم .اوربےپناہ فضل وشرف کےباوجودبےحدمتواضع تھے.گجرات کی جن چندشخصیتوں سےمیرےدل نےگہرےاثرات قبول کئے.ان میں ایک آپ تھے.آپ کی خدمات علمیہ کادائرہ ملک سےبیرون ملک تک وسیع تھا.ایسے لوگ باربارپیدانہیں ہوتے.اللہ پاک آپ کےحسنات کوقبول فرمائے اورآ پ کےچھوڑے ہوئے نقوش پربعد والوں کوچلنےکی توفیق عطافرمائےآمین
موت اس کی ہےکرےجس کازمانہ افسوس
ورنہ آئے ہیں سبھی دنیامیں مرنے کےلئے.